Skip to content
قازقستان میں وزارت برائے ایمرجنسی سروس نے اعلان کیا ہے کہ قازق شہر اکتاؤ کے قریب مسافر طیارے کے حادثے میں 42 افراد ہلاک اور 25 معجزانہ طور پر افراد زندہ بچ گئے۔بیان میں کہا گیا ہے طیارے میں 67 مسافر سوار تھے، جن میں عملے کے 5 ارکان بھی شامل تھے۔ ان میں 25 افراد زندہ بچ گئے، جن میں سے 22 کو ہسپتال لے جایا گیا ہے”۔
دوسری طرف آذربائیجان ایئر لائنز نے کہا ہے کہ مسافر طیارہ پرندوں کے جھنڈ سے ٹکرانے کے بعد گر کر تباہ ہو گیا۔طیارےکے حادثے کے بعد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ لمحہ دکھایا گیا جب زندہ بچ جانے والے مسافرگر کر تباہ ہونے والے آذربائیجانی طیارے کے ملبے سے باہر نکل رہے تھے۔
وزارت صحت کے مطابق زندہ بچ جانے والوں میں روسی فیڈریشن کے 10، آذربائیجان کے 14 اور کرغیزستان کے 2 شہری شامل ہیں اور 3 کی شہریت کا پتا نہیں چل سکا۔آذربائیجان ایئر لائنز نے ان مسافروں کے ناموں کی فہرست شائع کی ہے جو اکتاو کے قریب گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں سوار تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلائٹ نمبر J2-8243 باکو سے چیچن جمہوریہ کے دارالحکومت گروزنی کے لیے روانہ ہوئی لیکن اسے قازقستان کے شہر اکتاو سے تقریباً تین کلومیٹر دور ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ تاہم یہ لینڈنگ حادثے میں بدل گئی۔روسی خبر رساں ایجنسیوں نے بتایا کہ گروزنی میں دھند کے باعث طیارے نے اپنا رخ موڑ لیا تھا۔
روس کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پائلٹ نے پرندوں کے جھنڈ کے طیارے کے انجن سے ٹکرانے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کا فیصلہ کیا۔
روسی "انٹرفیکس” ایجنسی کے مطابق قازقستان کے حکام نے کہا ہےکہ انہوں نے جو کچھ ہوا اس کے لیے مختلف ممکنہ منظرناموں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے، جس میں تکنیکی خرابی کا امکان بھی شامل ہے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے حادثے کے بعد اپنا روس کا دورہ مختصر کرکےوطن واپسی کا فیصلہ کیا، جہاں وہ آج بدھ کو ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے تھے۔
Like this:
Like Loading...