ک سینئر پاکستانی سیکورٹی اہلکار نے بدھ کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ پاکستان نے سرحد پار سے "دہشت گردوں کی پناہ گاہوں” کو نشانہ بنانے کے لیے افغانستان کے اندر فضائی حملے کیے ہیں۔
ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "پاکستان نے رات گئے فضائی حملوں میں افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جس میں جیٹ طیارے اور ڈرونز دوںوں استعمال کیے گئے۔”
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا، "گذشتہ رات (منگل کو) پاکستان نے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں چار مقامات پر بمباری کی۔ ہلاک شدگان کی کل تعداد 46 ہے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، مزید چھے افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے ہیں۔
منگل کو افغانستان کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں افغان سرزمین پر پاکستان کے تازہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں "وحشیانہ” اور "واضح جارحیت” قرار دیا۔
بیان میں حکومت کے لیے طالبان حکام کا نام استعمال کرتے ہوئے کہا گیا، "امارتِ اسلامیہ اس بزدلانہ حرکت کا جواب دیئے بغیر نہیں رہے گی بلکہ اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع کو اپنا ناقابلِ تنسیخ حق سمجھتی ہے۔”
2021 میں طالبان حکومت کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ دہشت گرد گروپ افغانستان سے باقاعدہ حملے کر رہے ہیں۔
اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل کی طالبان حکومت نے دہشت گردوں کو پناہ اور انہیں پاکستانی سرزمین پر بلا خوف و خطر حملہ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
کابل نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
