Skip to content
غلبۂ اسلام: بحرانوں میں تجدیدِ ایمان
ازقلم:مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)
09422724040
اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں (روحانی، اخلاقی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی) کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے، جب کہ اکثر مذاہب زیادہ تر روحانی یا اخلاقی تعلیمات تک محدود ہیں۔ اسلامی نظام عدل، مساوات، اور انسانی حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی انسانی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہودیت اپنی تعلیمات کو ایک مخصوص قوم (بنی اسرائیل) تک محدود رکھتی ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی مذہب بننے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
عیسائیت، اگرچہ عالمی مذہب ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن اس کے نظریات عملی زندگی کے اہم پہلوؤں (جیسے سیاست، معیشت، اور سماجی انصاف) کے لیے کوئی جامع رہنمائی فراہم نہیں کرتے۔ اسلام کی حقانیت کا ایک نمایاں پہلو اس کا عملی نفاذ ہے۔ قرآن اور سنّت کی تعلیمات محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کو نبی اکرمﷺ اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں عملی جامہ پہنایا گیا اور دنیا میں امن، انصاف، اور ترقی کی مثالیں قائم ہوئیں۔ اسلام دیگر الہامی مذاہب (عیسائیت اور یہودیت) کا تسلسل اور تکمیل ہے۔ قرآن نے سابقہ مذاہب کی اصلاحات اور کمزوریوں کو دور کر کے ایک مکمل اور جامع دین پیش کیا ہے: ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا” (المائدہ: 3)۔ اسلام کے مطابق سابقہ مذاہب کے احکام وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو گئے یا تحریف کا شکار ہو گئے، جب کہ قرآن کو محفوظ اور ہمیشہ کے لیے نافذ العمل رکھا گیا۔
اسلام ہر انسان کے لیے عدل و انصاف، مساوات، اور اخوت کا پیغام دیتا ہے۔ یہ کسی مخصوص قوم، نسل، یا طبقے تک محدود نہیں۔ اسلام کی عالمگیریت اس کے اس پیغام میں ہے کہ ”انسانیت ایک امت ہے” اور تمام انسان برابر ہیں، جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے خطبہئ حجۃ الوداع میں فرمایا۔ دیگر مذاہب، مثلاً ہندو مت، بدھ مت، یا دیگر عقائد، روحانی یا فلسفیانہ نظام پیش کرتے ہیں لیکن وہ انسانی زندگی کے مادی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرتے۔ یہ نظام انسانی زندگی کی مکمل رہنمائی فراہم کرنے کے بجائے مخصوص شعبوں میں محدود ہیں۔ اسلام کی حکمرانی کی بنیاد طاقت، زور یا جبر نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح، عدل، اور حق کی بالادستی ہے۔ نبی اکرمﷺ اور خلفائے راشدین کا طرز حکمرانی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام غلبے کے لیے طاقت نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کو ترجیح دیتا ہے۔ اسلام کا مقصد کسی قوم یا فرد کو مغلوب کرنا نہیں بلکہ انسانیت کو اس کے حقیقی مقام تک پہنچانا ہے۔ یہ غلبہ دلوں اور دماغوں کو قائل کرنے کا غلبہ ہے، جس میں انصاف، امن، اور اخلاقی اقدار کی حکمرانی ہو۔ اسلام کی حکمرانی کا دعویٰ اس کے جامع اور عالمگیر نظامِ حیات کی بنیاد پر ہے۔ دیگر مذاہب اپنی تعلیمات میں جزوی یا محدود ہونے کی وجہ سے اس ذمّہ داری کو پورا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اسلام انسانیت کے لیے فطری اور عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے، جو اسے دنیا کے ہر دور میں نافذ العمل بناتی ہے۔
یہودیت اور عیسائیت اسلام کی تحریف شدہ شکلیں ہیں۔ ہر نبی نے اپنی قوم کو اسلام ہی کی دعوت دی، مگر وقت کے ساتھ انسانوں نے ان میں اپنی خواہشات کے مطابق تبدیلیاں کیں، جس کے نتیجے میں وہ اصل تعلیمات سے دور ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہود و نصاریٰ کے پاس اپنی کتابیں اصل حالت میں موجود نہیں ہیں۔ یہ دین نہ صرف عبادات کا مجموعہ ہے بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو، چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام کے یہ اصول ہر دور میں قابلِ عمل ہیں اور یہی اس دین کی سب سے بڑی قوت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام نے دنیا کو ایک ایسا جامع نظامِ حیات عطا کیا ہے جو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ ظلم و جبر، فرقہ پرستی، اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف اسلام کا نظام عدل و انصاف ایک روشن مثال ہے، جو انسانیت کو ایک بلند مقام پر فائز کرتا ہے۔
اسلام کی مساوات کا یہ پہلو کہ محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوں، دنیا کے دیگر مذاہب اور نظریات کے لیے ایک چیلنج ہے۔ یہ نظامِ حیات انسانوں کو رنگ، نسل، زبان اور طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر خالص انسانیت کی بنیاد پر جوڑتا ہے۔ اسلام کے اس پیغام کا مقصد صرف انسانوں کی انفرادی اصلاح نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں، کوئی ظلم کا شکار نہ ہو، اور ہر شخص اپنے فرائض ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نہ صرف مذہب بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر اپنا حق حکمرانی ثابت کرتا ہے۔ اسلام کا یہ پیغام ہر دور میں رہنمائی کے لیے کافی ہے اور آج کے دور میں، جب دنیا مختلف قسم کے بحرانوں کا شکار ہے، اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے۔ یہ دین ہی انسانیت کو حقیقی آزادی، خوشحالی اور امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔
سردارانِ قریش نے وقتی مفادات کے تحت ایک ”معقول” سمجھوتے کی پیشکش کی، لیکن رسول اللّٰہﷺ نے ان کے سامنے اسلام کے بنیادی عقیدے کی حقیقت کو واضح کر دیا: ”لا الہ الا اللّٰہ”۔ یہ کلمہ محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو منور کرنے والا پیغام ہے۔ اس کلمے کا ماننا صرف اللّٰہ کی عبادت اور بندگی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اثر سماجی، سیاسی، اور معاشی نظام پر بھی پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قریش کے سردار، جو اپنے مفادات اور اقتدار کے تحفّظ کے لیے سرگرم تھے، اس پیغام کو قبول کرنے سے گریزاں رہے۔ رسول اللّٰہﷺ کا یہ جواب ان کی بے لوث دعوت اور انسانیت کی حقیقی فلاح کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے نہ تو مصلحتاً ان کی شرط کو قبول کیا اور نہ ہی ان کی دھمکیوں سے مرعوب ہوئے، بلکہ نہایت حکمت سے یہ پیغام دیا کہ اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو انسانوں کو حقیقی آزادی اور عزت فراہم کرتا ہے۔
قریش کے سرداروں کے اس انکار میں ان کی کم ظرفی اور مادہ پرستی کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ اسلام کی آفاقیت اور اس کے پیغام کی وسعت کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ ان کے نزدیک طاقت، دولت، اور اقتدار اہم تھے، جب کہ رسول اللّٰہﷺ کا پیغام ان سے ان چیزوں کی قربانی مانگتا تھا جو ان کی دنیاوی خواہشات کے عین خلاف تھیں۔ یہ واقعہ رسول اللّٰہﷺ کی حقانیت، حکمت، اور قریش کے سرداران کی ہٹ دھرمی کا واضح آئینہ ہے۔ اس واقعے میں ہمیں رسول اللّٰہﷺ کی دعوت کے عملی پہلو اور اس کے ہمہ گیر اثرات کا گہرا درس ملتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ اسلام کا پیغام ہر دور کے انسان کے لیے قابل عمل اور انقلابی ہے۔ یہ دین زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کر کے اللّٰہ کی بندگی میں داخل کرتا ہے، جو اصل عزت اور فلاح کا راستہ ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے رسول اللّٰہﷺ کو دینِ حق کے ساتھ بھیجنے کا مقصد ہی یہ قرار دیا ہے کہ اسلام کو تمام دیگر ادیان پر غالب کیا جائے۔ یہ غلبہ نہ صرف فکری اور نظریاتی سطح پر ہے بلکہ سماجی، سیاسی، اور اخلاقی نظام میں بھی اس کا ظہور ہونا لازمی ہے۔ جن قرآنی آیات کو یہاں نقل کیا جارہا ہے، وہ اسلام کے غلبے اور اس کے قیام کی حتمیت کو واضح کرتی ہیں۔ سورہ الصف، آیت 9 میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اسلام کا پیغام تمام نظام ہائے حیات پر غالب آ کر رہے گا، چاہے کفار و مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ یہ غلبہ کسی زبردستی یا جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ اس دین کی حقانیت، اس کے اصولوں کی جامعیت اور اس کی تعلیمات کی ہمہ گیریت کا نتیجہ ہے۔ سورہ المجادلہ، آیت 21 میں اللّٰہ تعالیٰ نے اس غلبے کو تقدیر کا حصّہ قرار دیا ہے، جسے کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی۔ اللّٰہ نے خود یہ بات لکھ دی ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب ہوں گے، اور یہ غلبہ اللّٰہ کی قدرت اور حکمت کا مظہر ہوگا۔ یہ وعدہ اس بات کی ضمانت ہے کہ اسلام کا نظامِ حیات، جو عدل، مساوات، اور فلاح کا ضامن ہے، دنیا میں غالب آ کر رہے گا۔
یہ آیات ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کرواتی ہیں کہ اسلام کی دعوت نہ صرف عبادات یا انفرادی اصلاح تک محدود ہے بلکہ یہ ایک جامع اور مکمل نظام ہے، جو انسانیت کو ظلم و استبداد سے نکال کر عدل و انصاف کے روشن راستے پر گامزن کرتا ہے۔ یہ اس بات کا تقاضا بھی کرتی ہیں کہ مسلمان اپنی ذمّہ داریوں کو سمجھیں اور اس دین کے غلبے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کریں۔ یہ وعدہ ہمیں نہ صرف امید دیتا ہے بلکہ عمل کی دعوت بھی دیتا ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اسلام کے اصولوں کو نافذ کریں تاکہ اللّٰہ کے اس وعدے کا حصّہ بن سکیں۔ غلبۂ اسلام اللّٰہ کی طرف سے ایک طے شدہ حقیقت ہے، لیکن اس کا عملی نفاذ انسانوں کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ اللّٰہ ربّ العزت نے اس دنیا کو دارالعمل بنایا ہے، جہاں بندوں کو ان کے عمل کی بنیاد پر آزمایا جاتا ہے۔ یہی سنّت اللّٰہ ہے کہ وہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کے لیے جدوجہد نہ کرے۔
غلبۂ اسلام کے لیے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، وہ قرآن و سنّت سے واضح ہے۔ اسلام کے غلبے کا پہلا مرحلہ لوگوں کو دین کی حقانیت سے روشناس کرانا ہے۔ یہ دعوت محض زبانی کلامی نہیں، بلکہ عمل سے بھرپور ہو۔ نبی کریمﷺ کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے، جہاں آپ نے ہر موقع پر حکمت اور محبت سے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ غلبۂ اسلام کی جدوجہد کا آغاز انفرادی اصلاح سے ہوتا ہے۔ ہر مسلمان کو اپنے ایمان، اخلاق، اور اعمال کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ وہ اس جدوجہد کا اہل بن سکے۔ قرآن میں بارہا تزکیہ نفس کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ انفرادی جدوجہد کے ساتھ اجتماعی طاقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ نبی کریمﷺ نے مکہ مکرمہ میں دعوت کا آغاز انفرادی طور پر کیا، لیکن مدینۂ منورہ میں اسلامی ریاست کی بنیاد رکھتے ہوئے اجتماعی نظام قائم کیا۔ ایک مضبوط اور منظم جماعت ہی اسلام کے غلبے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ آزمائشیں اس راستے کا حصّہ ہیں۔ قرآن میں بارہا صبر اور استقامت کی تلقین کی گئی ہے۔ نبی کریمﷺ اور صحابۂ کرامؓ نے اس راہ میں بے شمار مشکلات کا سامنا کیا، لیکن کبھی اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔
غلبۂ اسلام اس وقت ممکن ہوگا جب مسلمان خود اپنے معاشروں میں عدل و انصاف کا نظام قائم کریں۔ اسلام کا پیغام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ حیات پیش کرتا ہے جو معاشی، سماجی، اور سیاسی مسائل کا حل فراہم کرتا ہے۔ علم اور شعور کی کمی اسلامی جدوجہد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا ہوگا اور جدید علوم کے ساتھ دینی تعلیم کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ غلبۂ اسلام محض نظریات تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اس کے لیے عملی میدان میں قدم رکھنا ہوگا۔ خواہ وہ سیاسی جدوجہد ہو، معاشی نظام کی اصلاح ہو، یا سماجی مسائل کا حل پیش کرنا ہو، ہر سطح پر کوشش ضروری ہے۔ تمام کوششوں کے ساتھ اللّٰہ پر مکمل بھروسہ اور دعا کا اہتمام ضروری ہے۔ کامیابی اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن اس کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ اسلام کے غلبے کی جدوجہد ایک مسلسل اور صبر آزما عمل ہے۔ یہ نہ صرف انفرادی اور اجتماعی اصلاح کا متقاضی ہے بلکہ دنیا کے سامنے اسلام کی حقانیت اور اس کے سنہری اصولوں کو پیش کرنے کی عملی کوشش بھی۔ اگر مسلمان اس جدوجہد میں اخلاص، حکمت، اور استقامت کے ساتھ شامل ہوں، تو اللّٰہ کے وعدے کے مطابق اسلام کا غلبہ یقینی ہے۔
غلبۂ اسلام کا کام اللّٰہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے سپرد کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش ہو اور وہ اپنے مقصدِ زندگی کو سمجھ کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکیں۔ نبی کریمﷺ کی زندگی اسی مشن کا کامل نمونہ ہے۔ مکی دور میں آپﷺ اور آپ کے صحابہؓ نے جس صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر محفوظ ہے۔ مکہ کی تیرہ سالہ زندگی دراصل ایمان کے امتحان اور قربانیوں کی داستان ہے۔ کفارِ مکہ نے نہ صرف رسول اللّٰہﷺ کو بلکہ آپ کے ماننے والوں کو بھی سخت اذیتیں دیں، لیکن وہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ ان کا یہ صبر و حوصلہ صرف جذباتی یا وقتی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ ایک مضبوط یقین اور اللّٰہ پر کامل توکل کی بنیاد پر تھا۔
ظلم و ستم کی مثالیں، سیدنا یاسرؓ، ان کی اہلیہ سیدہ سمیہؓ، اور ان کے بیٹے عمارؓ پر بے انتہا ظلم کیا گیا۔ سیدہ سمیہؓ اسلام کی پہلی شہیدہ کے طور پر تاریخ میں یاد رکھی گئیں۔ سیدنا بلالؓ کو دہکتے انگاروں پر لٹایا جاتا، لیکن ان کی زبان پر ”احد، احد” کے الفاظ ہی ہوتے۔ صحابہؓ کو گھسیٹا گیا، قید کیا گیا، بھوکا پیاسا رکھا گیا، اور ان کی جانیں لی گئیں، لیکن ان کے ایمان کو متزلزل نہیں کیا جا سکا۔ ان مظالم کے پیچھے ایک اہم مقصد تھا، اہلِ ایمان کو آزما کر انہیں اس عظیم مشن کے لیے تیار کرنا جو ان کے سپرد ہونے والا تھا۔ ظلم کے اس دور نے مسلمانوں کو صبر، استقامت، اور قربانی کا درس دیا۔ یہ وہ صفات تھیں جو مدینہ کے قیام کے بعد اسلامی ریاست کے استحکام اور غلبۂ اسلام کے لیے بنیاد بنیں۔
رسول اللّٰہﷺ نے ہر مشکل کے باوجود دعوتِ دین کا کام جاری رکھا۔ آپ نے ہر طبقے کے افراد کو دینِ حق کی طرف بلایا، خواہ وہ غلام ہو یا سردار۔ آپﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی نرمی اور محبت کا مظاہرہ کیا، جو بالآخر کئی لوگوں کے ایمان لانے کا سبب بنی۔ آپﷺ نے تمام تر مصائب کے باوجود اللّٰہ کے وعدوں پر یقین رکھا اور اپنے مشن سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔ یہ تمام مظالم اور آزمائشیں مسلمانوں کے لیے ایک تربیت گاہ تھیں، تاکہ وہ ایمان کی مضبوطی اور دین کی خدمت کے لیے تیار ہو سکیں۔ یہ سچ ہے کہ: ”چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے”۔
مگر اہلِ ایمان نے اپنے کردار اور قربانیوں سے یہ بھی ثابت کر دیا کہ سر جھکانے کے بجائے اللّٰہ کے دین کی سر بلندی کے لیے اپنی جان قربان کرنا افضل ہے۔ یہی قربانیاں مدینہ کے دورِ عروج اور غلبۂ اسلام کی بنیاد بنیں، جہاں دینِ اسلام نے نہ صرف جزیرۂ عرب بلکہ پوری دنیا میں اپنی روشنی پھیلائی۔ تیرہ سالہ مکی دور میں مسلمانوں کی آزمائشوں اور قربانیوں کا مقصد دینِ اسلام کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ صبر، استقامت، اور عزم و حوصلے کی ایک شاندار مثال قائم کرنا تھا۔ یہ دور فطری طور پر دعوت و تربیت کا زمانہ تھا، جس میں مسلمانوں کو یہ سکھایا گیا کہ ظلم اور جبر کے مقابلے میں کس طرح اللّٰہ پر توکل کرتے ہوئے خود کو مضبوط رکھا جائے۔ ہجرت کے بعد مدنی دور میں حالات تبدیل ہوئے، اور مسلمانوں کو عملی طور پر اپنی حفاظت اور دین کے دفاع کے لیے اقدامات کرنے کی اجازت دی گئی۔ سورۃ التوبہ کی یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ دفاعی تیاری اور قوت کا مظاہرہ دینِ اسلام کی فطرت کا حصّہ ہے۔ اس کا مقصد محض جنگ یا جارحیت نہیں بلکہ ظالموں کو مرعوب کرنا اور انصاف کا قیام ہے۔ یہ پیغام آج کے دور میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ماضی میں تھا، کیونکہ ظلم کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنا ہی اسلام کی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔
اسلام کو ”دین فطرت” اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ انسانی اور کائناتی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ اس کے برعکس، دیگر ادیان اور نظریات میں وقت کے ساتھ ساتھ ایسی تحریفات اور بدعات شامل ہوئیں جو فطرت کے بنیادی اصولوں کے خلاف جاتی ہیں۔ ایک صحت مند اور فائدہ مند فصل کے لیے زمین کو غیر ضروری جڑی بوٹیوں اور سرکنڈوں سے پاک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ جڑی بوٹیاں زمین کی زرخیزی اور پودے کی نشوونما کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں۔ اسی طرح، فطرت کے اصولوں پر مبنی نظامِ زندگی (اسلام) کے نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ ان نظریات اور نظاموں کو ختم کیا جائے جو ظلم، استحصال، اور گمراہی پر مبنی ہیں۔ سورۃ الصف کی یہ آیت اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ اللّٰہ کا نور (اسلام) تمام باطل نظریات کے خلاف غالب ہو کر رہے گا، چاہے کافر اپنی پوری کوشش سے اسے بجھانے کی کوشش کریں۔ اللّٰہ کے نور کی یہ روشنی تمام عالم کے لیے ہدایت، امن، اور فلاح کا ذریعہ ہے، اور یہ کسی انسانی یا شیطانی کوشش سے دب نہیں سکتی۔ باطل کی بیخ کنی کا یہ عمل محض عسکری یا جنگی نوعیت کا نہیں بلکہ علمی، فکری، اور اخلاقی محاذ پر بھی ہے۔ اسلام دلیل، حکمت، اور عملی مثالوں کے ذریعے باطل کو چیلنج کرتا ہے اور لوگوں کو حق کی جانب دعوت دیتا ہے۔ آج بھی، یہ فلسفہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں ایمان، اتحاد، اور حکمت سے کام لینا ضروری ہے تاکہ اسلامی تعلیمات کو عام کیا جا سکے اور انسانیت کو اس کے اصل مقصد سے روشناس کرایا جا سکے۔
یہ حقیقت ہے کہ کافر، جن کی زندگی خواہشات، خود ساختہ نظریات، اور دنیاوی فائدے پر مبنی ہو، کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے باطل عقائد اور نظاموں کو چیلنج کیا جائے۔ ان کے لیے اسلام کی دعوت محض ایک نظریاتی خطرہ نہیں بلکہ ان کے طرزِ زندگی، اقتدار، اور منافع پر براہِ راست ضرب ہے۔ سورۃ انفال کی مذکورہ آیت واضح طور پر اسلامی جدوجہد کا مقصد بیان کرتی ہے کہ فتنہ و فساد کا خاتمہ کیا جائے اور دین کو خالصتاً اللّٰہ کے لیے قائم کیا جائے۔ ”فتنہ” یہاں اس گمراہی، ظلم، اور ناانصافی کو ظاہر کرتا ہے جو انسانی فطرت کے خلاف ہو اور جس سے معاشرہ انحطاط کا شکار ہو۔ اسلام کے مخالفین کی صرف انفرادی مخالفت ہی مسئلہ نہیں رہی بلکہ انہوں نے اجتماعی طور پر اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، اس کی ترقی کو روکنے کی سازشیں کیں، اور اہلِ ایمان کو جانی، مالی، اور ذہنی اذیت دی۔ ایسی صورت میں، صرف نصیحت یا گفت و شنید کافی نہیں ہوتی۔ جب ظلم اپنی حدوں کو پار کر لے اور فتنہ عام ہو جائے، تو اسلام تقاضا کرتا ہے کہ عملی اقدامات کے ذریعے اس کا خاتمہ کیا جائے۔
”لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے” یہ اسی اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے جو قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ بعض اوقات دفاعِ حق اور قیامِ عدل کے لیے عملی جدوجہد ضروری ہو جاتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اسلام کا یہ حکم صرف جارحیت کے ردعمل میں ہے، نہ کہ ظلم یا جبر پر مبنی ہے۔ اسلام کسی قوم یا فرد پر اپنے نظریات مسلّط نہیں کرتا، بلکہ آزادی، عدل، اور ہدایت کا راستہ پیش کرتا ہے۔ لیکن جب باطل قوتیں دینِ حق کے راستے میں مزاحم ہوں، تو اسلام ان کی سرکوبی کا حق رکھتا ہے تاکہ دنیا میں اللّٰہ کا نظامِ عدل و انصاف قائم ہو سکے۔ یہی فلسفہ اسلام کو نہ صرف ایک مذہب بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کرتا ہے، جس میں انفرادی و اجتماعی مسائل کا حل موجود ہے۔
نبی اکرمﷺ کی ہجرت اور پھر مکہ واپسی، تاریخِ انسانیت میں ایک بے نظیر مثال ہے کہ کس طرح صبر، حکمت، اور جدوجہد کے ذریعے ایک مظلوم قوم اپنے حقوق اور عزت کو بحال کر سکتی ہے۔ ہجرت کے وقت نبی اکرمﷺ کا مکہ کی طرف منہ کر کے اپنے جذبات کا اظہار کرنا اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام کا پیغام محض مذہبی نہیں بلکہ انسانی تعلقات اور جذبات سے بھی بھرپور ہے۔ آپﷺ کا مکہ سے محبت اور وہاں رہنے کی خواہش کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ آپ اپنے وطن سے دلی طور پر وابستہ تھے، لیکن ظلم اور ناانصافی نے آپ کو ترک وطن پر مجبور کر دیا۔
فتح مکہ کی یہ عظیم الشان تصویر، جس میں دس ہزار کا بے مثال لشکر مکہ میں داخل ہوتا ہے، نہ صرف اسلام کی عسکری طاقت کا مظہر ہے بلکہ اس سے زیادہ یہ رحم، درگزر، اور عدل کی اعلیٰ مثال ہے۔ فتح مکہ کا منظر بتاتا ہے کہ اسلام طاقت کے ذریعے فتح تو حاصل کر سکتا ہے، لیکن اس کا اصل مقصد دلوں کو جیتنا اور معاشرے میں انصاف قائم کرنا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فتح مکہ کے بعد عام معافی کا اعلان کیا، جس نے دشمنوں کو بھی آپ کے اخلاق کی عظمت کا قائل کر دیا۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے آپ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، لیکن آپﷺ نے ان کے ساتھ ایسا رویہ اپنایا کہ وہ خود اپنی خطاؤں پر شرمندہ ہو گئے۔ یہ واقعہ اس بات کی عملی تفسیر ہے کہ اسلام کے اصول صرف کتابی نہیں بلکہ عملی زندگی میں نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ہمیں صبر، حکمت، اور مستقل مزاجی کا درس دیتا ہے کہ حالات چاہے جتنے بھی مشکل ہوں، اگر جدوجہد ایمان اور اصولوں کے تحت کی جائے، تو اللّٰہ کی مدد سے فتح اور کامیابی یقینی ہے۔
ابوسفیان جیسے قریش کے سردار کا اسلام قبول کرنا اور دیگر سردارانِ قریش کا جھک جانا، اس بات کی علامت تھی کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے، چاہے کتنا ہی بڑا باطل اس کے سامنے کھڑا ہو۔ ان کے دلوں میں اسلام کی صداقت اور نبی اکرمﷺ کے اخلاق و کردار کی عظمت نے ایسی جگہ بنائی کہ ان کی جھوٹی انا اور تکبر خود بخود مٹ گئے۔ خانہ کعبہ کو شرک کی گندگی سے پاک کرنے کا عمل، اسلام کے اس بنیادی اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ توحید ہی انسانیت کی فلاح اور نجات کا راستہ ہے۔ حضرت بلالؓ کو کعبہ کی چھت پر اذان کے لیے چڑھانا، ایک غلام کے عزت و وقار کو بحال کرنے کی علامت تھا، جو اسلام کے مساوات کے اصول کو عملی طور پر دنیا کے سامنے لاتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا اعلان تھا کہ اسلام میں نسل، رنگ، یا سماجی حیثیت کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ تقویٰ ہی انسان کی قدر و قیمت کا معیار ہے۔
مکہ کی گلیوں میں توحید کے ترانے، جنہیں ایک وقت میں دبا دیا گیا تھا، آج آزاد فضاؤں میں گونج رہے تھے۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں اہلِ ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، لیکن آج وہی ایمان، عزت اور سربلندی کا باعث بن چکا تھا۔ حضرت ابوذر غفاریؓ اور دیگر صحابۂ کرامؓ کے صبر، استقامت، اور قربانیوں کا یہ دن ان کے لیے اللّٰہ کی نصرت اور وعدے کی تکمیل کا عملی مظاہرہ تھا۔ مسلمانوں کے جوش و خروش، خود داری، اور حوصلے کا یہ عالم بتاتا ہے کہ اللّٰہ پر ایمان اور حق کے لیے جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ بلالؓ کا کعبہ کی گلیوں میں باوقار انداز سے چلنا، صرف ان کی ہی نہیں بلکہ اسلام کے تمام مظلومین کی فتح کا نشان تھا۔ یہ دن اس بات کا پیغام تھا کہ حق کا راستہ مشکل ضرور ہے، لیکن اس کے اختتام پر ہمیشہ فتح اور عزت کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ یہ منظر اسلام کی عظمت اور نبی اکرمﷺ کے مشن کی تکمیل کا ایک زندہ اور ناقابل فراموش باب ہے۔ فتح مکہ نہ صرف ایک سیاسی کامیابی تھی بلکہ یہ انسانی حقوق، عدل و انصاف، اور ایمان کی فتح کا بھی ناقابل مثال مظاہرہ تھا۔
یہ سب کچھ کسی جادو یا اتفاق کا نتیجہ نہ تھا بلکہ ایک مضبوط ایمان، غیر متزلزل عزم، اور ایک واضح مقصد کا ثمرہ تھا۔ وہ نسخۂ کیمیا جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا، وہ قرآن و سنّت کی رہنمائی، نبی اکرمﷺ کی تربیت، اور ایک ایسے نظام حیات کا نفاذ تھا جو انسانی فطرت سے ہم آہنگ اور تمام باطل نظریات سے برتر تھا۔ مسلمانوں کی کامیابی کا بنیادی راز ان کا اللّٰہ پر کامل بھروسہ تھا۔ ان کے دل توحید کے نور سے روشن تھے، اور وہ جانتے تھے کہ ان کی کامیابی کا انحصار صرف اور صرف اللّٰہ کی مدد پر ہے۔ یہ ایمان ان کے خوف کو مٹا کر انہیں دنیا کے سب سے بڑے طوفانوں کا سامنا کرنے کے قابل بناتا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی تربیت کے ذریعے صحابۂ کرامؓ کو نہ صرف ایک مضبوط قوم بنایا بلکہ انہیں ایک اعلیٰ درجے کا اخلاقی و روحانی کردار دیا۔ ان کی قیادت میں ایک ایسی جماعت تیار ہوئی جو دنیا کی تمام مخالفتوں کے باوجود نہ جھکی اور نہ رکی۔ ان کی صفوں میں اتحاد، تنظیم، اور مقصدیت کا جو نمونہ نظر آتا ہے، وہ انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔
مسلمانوں نے مکہ کے تیرہ سالہ دورِ مصائب میں جو صبر اور قربانی دی، وہ ان کے ایمان کی سچائی اور ان کے عزم کی پختگی کا ثبوت تھا۔ ہجرت کے بعد مدینہ کی ریاست کے قیام نے انہیں ایک منظم اور عملی بنیاد فراہم کی، جس پر وہ اپنے مشن کو آگے بڑھا سکے۔ بدر، احد، خندق اور حدیبیہ کے مواقع پر مسلمانوں نے جس عزم اور صبر کا مظاہرہ کیا، وہ ان کی کامیابی کا پیش خیمہ تھا۔ ان کے حوصلے، ان کے اہداف کی بلندی، اور ان کے عزم نے انہیں ہر قدم پر مضبوط رکھا۔ اسلامی ریاست کی بنیاد انصاف، مساوات، اور انسانیت کی خدمت پر تھی۔ یہ نظام عرب کی قدیم جاہلی رسوم کے خلاف ایک انقلاب تھا، جس نے لوگوں کے دلوں کو جیت لیا۔ غیر مسلم بھی اس نظام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرتے گئے، اور یہ قافلہ بڑھتا ہی گیا۔
اسلامی فوج کی جنگی مہارت، بہترین قیادت، اور غیر معمولی حکمت عملی نے دنیا کی دو بڑی طاقتوں، ایران اور روم، کو شکست دی۔ ان کی فتح صرف طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اخلاقی اور فکری برتری کی وجہ سے بھی تھی۔ یہ سب کچھ نبی اکرمﷺ کے مشن کا حصّہ تھا: حق کو غالب کرنا اور باطل کو مٹانا۔ مسلمانوں کی یہ کامیابیاں کسی دنیاوی سلطنت کے قیام کے لیے نہ تھیں بلکہ اللّٰہ کے دین کو زمین پر غالب کرنے کی کوشش تھیں۔ یہ وہ اصول اور عوامل تھے جنہوں نے مسلمانوں کو صرف چند سالوں میں ایک چھوٹی جماعت سے دنیا کی سب سے بڑی تہذیبی اور عسکری قوت میں تبدیل کر دیا۔ یہ ان کے ایمان، جدوجہد، اور اللّٰہ کے وعدے کی سچائی کا عملی مظاہرہ تھا۔
مہمانِ رسولﷺ ابوایوب انصاریؓ، اولین سفیرِ اسلام مصعب بن عمیرؓ، امینِ امت ابوعبیدہ بن الجراحؓ، فاتحِ ایران سعید بن ابی وقاصؓ یہ نام نہ صرف اسلامی تاریخ کے روشن ستارے ہیں بلکہ ان کے کردار و عمل امت مسلمہ کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دینِ اسلام کے لیے اپنی جان، مال، اور سکون کو قربان کر دیا، اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ ایمان صرف دل کا عقیدہ نہیں بلکہ عمل کا راستہ ہے۔ یہ تمام کردار وقت کے سپرد کیے گئے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے نقش قدم پر چل سکیں۔ ان کی قربانیاں صرف جنگی فتوحات تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان کے اعمال نے اسلام کے آفاقی پیغام کو عملی شکل دی۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ ایمان، اتحاد، اور قربانی کسی بھی قوم کو بام عروج تک پہنچا سکتی ہے۔ یہی وہ کردار ہیں جو آج بھی امت مسلمہ کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر ہم ان کی طرح اپنے دین کو مقصدِ حیات بنا لیں تو ہم بھی عروج حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کی کہانی صدیوں میں بکھری ہوئی ایک تاریخ ہے جو امت کے دلوں میں زندہ رہے گی اور ہمیشہ ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے گی۔
اللّٰہ تعالی نے سورۃ الصف میں ایمان اور جہاد کی اہمیت کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ جہاں اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانا شرط ہے، وہیں جہاد بھی ایک لازمی عمل قرار دیا گیا ہے تاکہ انسان اپنی دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکے۔ اللّٰہ تعالی کا وعدہ ہے کہ جو شخص اس راستے پر چلتے ہوئے اپنی جان و مال کو اللّٰہ کی رضا کے لیے قربان کرے گا، اس کے لیے جنت اور اللّٰہ کی نصرت کا وعدہ ہے۔ جہاد صرف لڑائی یا جنگ کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جس میں اپنے نفس سے جنگ، دین کی تبلیغ اور اس کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنا شامل ہیں۔ اسلام میں جہاد کا مقصد صرف دشمنوں کو شکست دینا نہیں، بلکہ اللّٰہ کی رضا اور اس کے دین کا غلبہ ہے۔ اس لیے جہاد کا ہر پہلو ایک بڑی کامیابی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جس کے نتیجے میں صرف دنیاوی فتوحات نہیں، بلکہ آخرت کی کامیابیاں بھی یقینی ہوتی ہیں۔
سورہ البقرہ میں سیدنا طالوتؑ اور جالوت کے قصے کو بیان کیا گیا ہے، جو جہاد کے فلسفے اور اللّٰہ کی مدد کے اصول کو اجاگر کرتا ہے۔ اللّٰہ کی مدد سے کس طرح کمزور اور تھوڑے لوگ بڑے لشکروں کو شکست دے سکتے ہیں، یہ ایک اہم سبق ہے۔ اس قصے میں اللّٰہ نے اس بات کو ثابت کیا کہ کامیابی کا انحصار صرف مادی وسائل یا لشکروں کی تعداد پر نہیں، بلکہ ایمان، عزم، اور اللّٰہ کی نصرت پر ہے۔ جب اللّٰہ کا حکم ہوتا ہے، تو بڑی بڑی قوتیں بھی چھوٹے گروہوں کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں۔ ”کم من فءۃ قلیلہ غلبت فءۃ کثیرۃ باذن اللّٰہ” کے اصول نے یہ ثابت کر دیا کہ جب اللّٰہ کا حکم اور نصرت شامل ہو، تو ایک چھوٹا اور کمزور گروہ بھی دشمن کی طاقتور فوجوں کو شکست دے سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال سیدنا داؤد علیہ السلام اور جالوت کی جنگ ہے، جس میں اللّٰہ کی مدد سے داؤد نے جالوت کو شکست دی۔ اللّٰہ نے داؤد کو نہ صرف جالوت پر فتح دی، بلکہ انہیں حکومت بھی عطا کی۔
اس ساری حکایت کا راز یہ ہے کہ کامیابی صرف اللّٰہ کی رضا کی کوششوں اور اس کے راستے میں قربانی دینے سے ملتی ہے۔ جب مسلمان اللّٰہ کے راستے میں اپنی جان و مال لگا دیتے ہیں اور اللّٰہ کی مدد اور نصرت پر ایمان رکھتے ہیں، تو ان کے لیے دنیا اور آخرت کی کامیابیاں مقدر ہو جاتی ہیں۔ یہ کامیابیاں صرف فتوحات تک محدود نہیں بلکہ اللّٰہ کی رضا اور جنت کی بشارت پر مشتمل ہوتی ہیں۔ جہاد کا مقصد صرف جنگ یا لڑائی نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع عمل ہے جو انسان کو اللّٰہ کی رضا کے قریب لے آتا ہے۔ جب انسان اللّٰہ کے راستے میں ایمان اور عزم کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے، تو اللّٰہ کی مدد سے اس کی کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ سیدنا طالوتؑ اور سیدنا داؤدؑ کے قصے میں یہ سکھایا گیا کہ اللّٰہ کی مدد سے ایک چھوٹا اور کمزور گروہ بھی دشمنوں پر غلبہ پا سکتا ہے۔
اللّٰہ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللّٰہ ان کو زمین میں خلافت دے گا اور ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔ یہ آیت سورۃ النور (۵۵) میں ذکر کی گئی ہے اور اس میں اللّٰہ نے ایک واضح اصول بیان کیا ہے کہ کامیابی کا راستہ ایمان، عمل صالح، اور اللّٰہ کی عبادت میں استقامت سے ہے۔ یہ وعدہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ صالح اور متقی بھی ہیں۔ یہ آیت صرف ایک روحانی کامیابی کی بات نہیں کرتی، بلکہ اس میں دنیاوی غلبہ اور حکمرانی کا وعدہ بھی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو زمین پر حکومت دے گا جو ایمان لانے کے بعد اپنے عمل کو نیک اور صالح بناتے ہیں اور اللّٰہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اسی طرح کی کامیابی اور غلبۂ اسلام کے وعدے کی تکمیل اس بات پر منحصر ہے کہ مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہو اور وہ اپنے جہاد میں نیک نیتی اور جذبہ کے ساتھ حصّہ لیں۔
جہاد کا جذبہ اور شوق شہادت اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی اور جسمانی جدوجہد ہے جو دین کے غلبے کے لیے کی جاتی ہے۔ جو شخص اللّٰہ کے راستے میں اپنی جان، مال اور وقت قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، وہ ہی اس وعدے کا حق دار بنتا ہے۔ سیدنا داؤد علیہ السلام کا واقعہ بھی اس بات کا غماز ہے کہ اللّٰہ کی نصرت اور کامیابی صرف انہی کو حاصل ہوتی ہے جو اس کی رضا کے لیے جنگ میں حصّہ لیتے ہیں۔ "یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان” اس مصرعہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کی شخصیت کو ایمان، عمل صالح، عبادت، اور جذبہ جہاد کے ذریعے مکمل کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام عناصر کا ایک جگہ پر اجتماع ہی ایک کامیاب اور غیور مسلمان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ جب مسلمان ان چار عناصر کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، تو اللّٰہ ان کے ساتھ اپنی نصرت فرماتا ہے، اور وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی ان کا مقام بلند ہوتا ہے۔ اللّٰہ کا وعدہ ایمان، عمل صالح اور جہاد کے راستے پر چلنے والوں کے لیے ہے۔ ان کے لیے اللّٰہ زمین پر خلافت دے گا اور ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔ یہ وعدہ صرف ان کے لیے ہے جو اپنے ایمان اور عمل میں مضبوط ہوں، اور جو اللّٰہ کے راستے میں اپنی جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہی وہ عناصر ہیں جو ایک کامیاب مسلمان کی شناخت بنتے ہیں اور ان ہی عناصر کے ذریعے غلبۂ اسلام اور دنیاوی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
تاریخ اسلام میں مجاہدین کی قربانیاں اور ان کا جہاد فی سبیل اللّٰہ بے مثال ہیں۔ اسلام کی ابتدائی فتوحات، جیسے کہ جنگِ بدر، یرموک، قادسیہ، اور دیگر عظیم معرکوں میں مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور اللّٰہ کی رضا کے لیے میدانِ جنگ میں جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان جنگوں نے مسلمانوں کو ایک عالمی طاقت بنایا، اور ان کی سرحدیں وسیع ہوئیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ میں وہ جذبہ و شوق شہادت، جو پہلے جہاد کے میدان میں دکھائی دیتا تھا، کم ہوتا چلا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے تلوار گر گئی اور جذبہ جہاد کی جگہ ”وھن” (دنیا کی محبت اور خوفِ موت) نے لے لی۔ یہ وہ وقت تھا جب صالحین اور متقین تو بکثرت موجود تھے، مگر مجاہدین کی کمی محسوس ہونے لگی۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں کی قوت و حکمت تھی، مگر میدانِ جنگ میں ان کی موجودگی محض یادگار بن کر رہ گئی تھی۔
تاتاریوں کا بغداد پر حملہ اور ان کے ہاتھوں بغداد کا سقوط ایک سنگین مثال ہے۔ بغداد کی لائبریریاں قرآن و حدیث کی نایاب کتابوں سے بھری ہوئی تھیں، اور علماء و فضلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان علماء نے اس وقت بھی بحث و مناظرہ کو ترجیح دی، اور جب تاتاریوں نے حملہ کیا تو انہوں نے اس خطرے کو معقولات کے دائرے میں سمجھا۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ علم کی اہمیت تو ہمیشہ رہتی ہے، مگر جب اس علم کو عمل اور جہاد کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کیا جاتا تو وہ محض ایک تھیوری بن کر رہ جاتا ہے، جو وقت کی ضرورت کو پورا نہیں کر پاتا۔ اندلس میں جب مسلمانوں کا اقتدار ختم ہوا، تو وہاں بھی علماء اور صالحین کی کمی نہ تھی۔ وہ اپنی عصمت و آبرو کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کو اصولِ صلح کے خلاف سمجھتے تھے اور ذلت و مسکنت کو اپنانا عین آشتی اور صلح سمجھتے تھے۔ اس وقت کی صورتحال میں مسلمانوں کے اندر جہاد کا جذبہ کمزور پڑ چکا تھا اور سیاسی و سماجی حالات کی پیچیدگیوں نے ان کی طاقت کو کم کر دیا تھا۔ دشمن نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کی سر زمین کو چھین لیا۔
یہ واقعات امت مسلمہ کو ایک بڑا سبق دیتے ہیں کہ دین کی حفاظت، سرحدوں کا دفاع اور اسلام کی اشاعت کے لیے صرف علم کافی نہیں بلکہ جہاد کے جذبہ کی بھی ضرورت ہے۔ آج بھی مسلمانوں کو اس سبق کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ صرف صالحین اور متقین ہی کافی نہیں، بلکہ مجاہدین کا جذبہ اور ان کے میدانِ جنگ میں بہادری کی ضرورت ہے تاکہ دشمنوں کا مقابلہ کیا جا سکے اور دین اسلام کا غلبہ قائم رکھا جا سکے۔ اگر مسلمان دوبارہ اپنی صفوں میں وہی جذبہ جہاد، قربانی، اور شوقِ شہادت پیدا کر لیں، تو اللّٰہ کی نصرت ان کے ساتھ ہو گی، جیسا کہ اس نے پہلے تاریخ میں ہوا۔ یہ اسی جذبے کی قوت تھی جس کے ذریعے مسلمان ایک عظیم عالمی سلطنت کے مالک بنے تھے، اور آج بھی اسی جذبے کے ساتھ وہ اپنی فتوحات اور کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو اس کے دین کی مدد کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور خود کو اس کی رضا کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللّٰہ نے قرآن میں فرمایا: ”اگر تم (دین) اللّٰہ کی مدد کرو گے تو اللّٰہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم کر دے گا” (محمد: 7)، اور ”اللّٰہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللّٰہ کی مدد کرتا ہے بے شک اللّٰہ غالب طاقت والا ہے” (الحج: 40)۔ یہ آیات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اگر ہم اللّٰہ کے راستے میں قدم بڑھائیں اور اس کے دین کی مدد کے لیے جہاد کریں، تو اللّٰہ تعالیٰ اپنی مدد سے ہماری رہنمائی کرے گا اور ہماری کامیابی یقینی بنائے گا۔ اللّٰہ کی نصرت ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اس کے راستے میں اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جہاد فی سبیل اللّٰہ نہ صرف ایک فریضہ ہے بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنی جان، مال اور وقت اللّٰہ کی رضا کے لیے صرف کرتا ہے۔ اور یہ وہ راستہ ہے جسے رسول اللّٰہﷺ نے خود اختیار کیا اور اپنی امت کو بھی اس کی ترغیب دی۔ اس کے بعد اللّٰہ نے اس راہ پر چلنے والوں کے لیے بشارت دی کہ ان کے لیے فتح و نصرت ہے۔ یاد رکھیے، نصرت و کامیابی ان لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو موت کو اپنی زندگی سمجھتے ہیں، اور جو موت سے نہیں ڈرتے، بلکہ اس میں اپنی عزت و عظمت دیکھتے ہیں۔ جیسے کہ شعر میں کہا گیا:
موت کی دھمکیاں نہ دے مجھ کو
موت کیا زندگی نہیں ہوتی؟
یہ الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وہ لوگ جو اپنی جانوں کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں، وہ حقیقت میں زندگی کی اصل حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ وہ موت کو نہ صرف ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، بلکہ اسے اپنی جیت اور عزت کا حصّہ سمجھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللّٰہ کے راستے میں اپنا سب کچھ قربان کر کے فتح و نصرت کے مستحق بنتے ہیں۔
Post Views: 110
Like this:
Like Loading...