Skip to content
جمعہ نامہ: تفریق و انتشار کی تباہ کاری
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے: ’’اے محمدؐ! ا ن سے پوچھو، صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟‘‘ عامتہ الناس سے کتاب الٰہی کا یہ سوال اسے خود آگہی کی دعوت دیتا ہے تاکہ وہ مقصدِ وجود پر غور کریں اپنے فلاح و نجات کی فکر کریں ۔ ا س کے بعد پھر پوچھا جاتا ہے:’’ کو ن ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا، گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو؟ ‘‘ یہ خدا آگہی کی جانب دوسرا قدم ہے جو انسانی ضمیر کو جھنجھوڑدیتا ہے ۔ اس کے بعد استفسارہوتا ہے :’’کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تو نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے؟ ‘‘یہاں نہایت لطیف اور موثر انداز میں درِ دل پر دستک دی گئی ہے ۔ اس طرح ا نسان قدم بہ قدم تدریج کے ساتھ اپنے خالق و مالک کی معرفت حاصل کرلیتا ہے ۔ اب آخر میں ساری بحث کا خلاصہ اس طرح پیش فرما دیا گیا کہ : ’’کہو، اللہ تمہیں اُس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دوسروں کو اُس کا شریک ٹھہراتے ہو‘‘۔ یہاں تنبیہ وتبشیر کے بجائے دعوتِ فکر دی گئی ہے تاکہ انسان ازخود اپنی غلطی کا احساس کرکے مائل بہ اصلاح ہوجائے اور تمام جھوٹے خداوں سے پیچھا چھڑا کر خدائے واحد کی بندگی اختیار کرلے ۔
آگے کی آیات میں دعوت کا آہنگ بدل جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ :’’ کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے‘‘۔ قرآن ِ حکیم میں مختلف ایسی قوموں کا ذکر موجود ہے کہ جن کو بھیانک آواز کی کڑک سے تباہ و برباد کردیا گیا یا ہواوں کا تیز جھونکا انہیں اڑا کر لے گیا ۔ زمین پھٹ گئی اور اس میں سے پانی ایسا چشمہ ابلا کہ پوری بستی اس میں غرقاب ہو گئی۔ قہر الٰہی کی ان طبعی شکلوں سے ہٹ کر آگے ایک نفسیاتی لیکن پھر ایک نفسیاتی عذاب کا بھی ذکر کیا گیا ۔ فرمانِ قرآنی ہےکہ عذابِ الٰہی اس طرح بھی آسکتا ہے کہ :’’ تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں‘‘۔
وطن عزیز میں فی الحال اس عتاب کا نظارہ عام ہے ۔ سنگھ پریوار دو دھڑوں میں منقسم ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم نے سادھو سنتوں کو سر سنگھ چالک کی سپاری دے دی ہے۔ وہ ان کو ایسا برا بھلا کہہ رہے ہیں کہ جیسے کسی سیکولر اور یا اشتراکی دانشور نے بھی نہیں کہا تھا ۔ سرکار کا نمک خوار گودی میڈیا سنگھ کی مدافعت کرنے کے بجائے حملہ آور سادھووں کی خوب جم کر تشہیر کررہا ہے۔ سرسنگھ چالک کا قد گھٹانے سے وزیر اعظم کا مقام و مرتبہ ازخود اونچا ہوجاتا ہے۔ سنگھ پریوار کے دانشوروں بڑے دھرم سنکٹ میں مبتلا کردئیے گئے ہیں ۔ ان کے لیے اوٹ پٹانگ الزامات لگانے والے دھرم گرووں کی مخالفت تو دور جواب دینا بھی مشکل ہوگیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی سو سالہ محنت پر پانی پھرنے کا خطرہ لاحق ہے۔ ایسے نازک وقت میں سنگھ کو جس سرکار کی حمایت میں آنے کی توقع تھی وہی مخالفت کی پشت پناہی کررہا ہے بقول ثاقب لکھنوی؎
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
ان حالات میں بھی امت کا فرضِ منصبی ہے کہ احسن طریقہ پر دعوت و اصلاح کی ذمہ داری اداکرتے ہوئے ہر خاص و عام کو اس کے دنیوی و اخروی تباہی سے خبردار کرے اور اگر وہ انکار کی روش پر قائم رہیں تو اسے ہدایت دی گئی ہے کہ :’’ تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں‘‘۔ملک کی یہ صورتحال ناقابلِ تصور تھی کہ اپنے عروج پر پہنچ کر ہندوتوانواز ایک دوسرے سے اس طرح لڑ پڑیں گے لیکن فرمانِ قرآنی ہے :’’ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہو جائے گا‘‘۔ تفریق و انتشار کی تباہ کاری صرف کفار و مشرکین تک محدود نہیں بلکہ سورۂ انفال میں اہل ایمان کو بھی اس سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا گیا :’’ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو ، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘ ۔ آپسی ختلافات میں صبرو تحمل کا دامن ہی ا سے انتشار میں نہیں بدلنے دیتا ۔
پچھلے دنوں بنگلہ دیش میں تبلیغی جماعت کے دو دھڑوں میں خونیں تصادم ہوگیا ۔ اس کے نتیجے میں چار لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی ۔ یہ نہایت افسوسناک صورتحال ہے ۔یہ افسوسناک ہے کہ ایک اجتماع کے انعقاد کو لے کر بات آگے بڑھ کر خون خرابے تک پہنچ جائے ۔ اس دوران پاک افغان سرحد سے بھی یہ اندوہناک خبر آئی کہ پاکستان نے سرحد پار کے "دہشت گردوں کی پناہ گاہوں” کو نشانہ بنانے کی خاطر افغانستان کے اندر جیٹ طیارے اور ڈرونز کی مدد سے فضائی حملے کیے ۔پاکستانی موقف کےبر خلاف طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ چار مقامات پر بمباری میں ہلاک ہونے والے 46 لوگوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے اس کی سرزمین پر پاکستان کے تازہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں "وحشیانہ” و "واضح جارحیت” قرار دے کر اس بزدلانہ حرکت کا جواب دینے کی دھمکی دی۔
قرآن حکیم اہل ایمان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ :’’ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں‘‘ ۔ اس آیت کی روشنی میں عام طور پر بھی مسلمانوں کو آپسی تصادم سے منع کیا گیا ہے مگر فی زمانہ جبکہ باطل قوتیں امت کے خلاف متحد ہوچکی ہیں اس کا نقصان کئی گنا بڑھ گیا ہے۔تبلیغی جماعت کے سربراہوں اور پاک و افغانی حکمرانوں کو باہمی گفت و شنید سے آپسی مسائل سلجھا کر باطل کے مقابلے سینہ سپر ہونا چاہیے۔مومنین کے آپسی تعلقات کو علامہ اقبال کے اس شعر میں کیا خوب بیان کیا گیا ہے؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
Like this:
Like Loading...