Skip to content
پاکی صفائی کی ضرورت اور اہمیت
از قلم کار : عبدالکریم بڑگن
بنگلور ۔ الکل
# 8867164963
اسلام دین فطرت ہے ۔ اسکی جبلت میں پاکی صفائی ہے ۔ گندگی اور نجاست ایک گھناونی چیز ہے اُسے ہر پاک باز انسان پسند نہیں کرتا۔ نفاست انسانی صحت کے لئے ایک لازمی شۓ ھے اسکے بغیر آدمی خوشحال نہیں رہ سکتا ۔
نعیم صدیقی نے اعلی او ارفع اندازی پاکیزه معاشرے کی تصویر کھینچی ہے آپ نے یہاں لکھا ہے گھر کی اندرونی صفائی کے ساتھ گھر کا آنگن وصحن بھی پاک صاف ہونا چاہیے ۔ پانی کے ماہرین نے یہ بات ڈنکے کی چوٹ کی طرح بیان کی گئی ہے کہ کسی گھر کی پاکی صفائی چیک کرنا ہو تو ان کا کچن اور بیت الخلاء کا معائنہ کرنا چاہیے اگر یہ دونوں چیزیں صاف شفاف ہلکی سی مہکتی خوشبو تو سمجھ لینا چاہے کہ سارا گھر پاک صاف ہے
اگر یہ دونوں مقامات پاک صاف نہ ہوں تو بعید نہیں کہ گھر کے دیگر کمرے ہال بھی غیر صحت مند رہیں گے اور بدبو ـ سڑی گلی چیزیں باسی کھانا کے اطراف مکھیاں طواف کرتی نظر آئیں بچوں کی غلاظت میں ڈوبی پھالیاں کوڑا کرکٹ ، کپڑوں کی بے ترتیبی ـ کتابوں کی بے ترتیبی پاکیزه نفیس کو کوستی ہے ۔ ایسے گھر میں داخل ہونے کا تصور کوئی شریف آدمی نہیں کر سکتا ۔
بعض لوگ اس گندگی کی حالت زار میں دن اور رات کاٹتے ہیں ۔ گندگی میں رہتے رہتے ان کے اندر شعور آجاتا ہے کہ وہ گندگی کو ایک پسندیده شے سمجھتے ہیں ۔ اگر وعظ اور نصیحت کے ذریعہ اسکی کراہیت بتاکر پاکیزگی اختیار کرنے کی دعوت جاتی ہے تو وہ بُرامان جاتے ہیں ۔ یا وقتی طور پر چند منٹ گندگی سے دور رہنے کا عہد کر کے پھر گندگی سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔ ایسے لوگ تلقین کے بعد بھی سدھرتے نہیں ہیں ، گھر کے گندے ماحول کی طرح ان کا دل بھی گندگی آلود ہو جاتا ہے اس مرحلہ میں گندگی ان کے نزدیک گندگی نہیں ہوتی۔ جس شخص کی فطرت میں گندگی سے محبت ہو تو وہ پاکیزگی کے جانی دشمن بن جاتے ہیں ۔ یہاں اقدار کی تبدیلی ہوتی ہے ۔ گندگی ان کے لئے پاکیزگی ہوتی ہے اور پاکیزگی دراصل ان کے نزدیک گندگی ہوتی ہے ۔
اسی لئے علامه اقبال نے کہا که
تھا جونا خوب بتدریج وہی خوب ہوا
که غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
جس کا ضمیر ہی مرده ہوگیا ہو تو وہ زندگی ایک زنده لاش کے سوا کچھ نہیں ۔
پھر اس کے ساتھ بہت سی برائیاں بھی جنم لینا شروع ہوتی ہے ۔ مثلاً اگر اس کو ایک بھلا آدمی پاکیزگی کی تلقین کرتا ہے تو اندر کی انانیت سچی بات کو ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔ بغض وحسد بھی دھیرے دھیرے پرورش پانا شروع ہوتے ہیں پھر کینے کا پورا کا بھی آہستہ اپنی کو نپلیں کھولنا شروع کرتا ہے اور ان برائیوں کو پال کر آدمی یہ ثابت کرتا ہے کہ گھر کی طرح میرا دل بھی گنده ہے ۔ اب کوئی نصیحت کارگر نہیں ہوسکتی ۔
اگر وہ اپنے نفس کا جائزہ لے کر اس کو راه راست پرلا سکتا ہے ۔ اگر نفس میں بے نفسی ہو اور صحیح معنوں میں وه خالق سے ڈرنے والا ہو تو سمجھیے که امکانات ابھی باقی ہیں ۔ لیکن اگر نفس ہی بے ضمیر ہو جائے تو بس
ان لله وانا الیہ راجعون
پڑھنا چاہئے ۔
پھر ایسے افراد سے فاصلاتی کورس رکھنا ہی مناسب ہے
حضور نے پاکیزگی و طہارت کو آدھا ایمان قرار دیا۔ لیکن بعض نفوس کو اس کا شعور نہیں ۔
Like this:
Like Loading...