Skip to content
محترمہ امة الرزاق صاحبه … تحریک اسلامی هند کی ایک مثالی خاتون
از قلم کار : عبدالکریم بڑگن، الكل ۔بنگلور
Ph: 8867164963
چند نفوس ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں ۔ وہ انسانوں کے دلوں میں بس جاتے ہیں ۔ جن کی باد سے جذبہ وامنگ کی آبیاری ہوتی ہے اور ، وہ افراد سماج خاندان اور معاشرہ کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں اور نئی نسل کے لے ان کے نقوش طمانیت قلب کا باعث بنتے ہیں ۔
ریاست کرنائک کی ایک ایسی ہی خاتون شخصیت کا نام ہے محترمہ امة الرزاق صاحبه ، جو 16 / اپریل 2022 کو اس دار فانی سے کوچ کرگئیں۔
انا لله وانا اليه راجعون ۔
محترمہ کا وطن میسور ہے آپ نے BSc کیا اور تحریک کے لڑیچر سے متاثر ہوئیں ، طالب العلمی ہی کے زمانے سے تقاریری مقابلہ میں حصہ لیا کرتی تھیں ان کے تحریکی سفر میں اس وقت کے امیر حلقہ جناب اقبال ملا (موجودہ سکریٹری شعبه دعوت مرکز ) کا بہت اہم رول ہے محترمہ کے شوہر جناب سید عبدا لکریم ہیں ان کا وطن بنگلور ہے ، وه بھی جماعت کے ایک فعال کارکن ہیں۔ محکمہ جنگلات میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہو کر 2008 میں وظیفہ یاب ہوگئے۔ ان کے دولڑکے اور دولڑ کیا ں ہیں الحمد لله سب بھی اعلیٰ تعلیم یافته ہیں ۔ سیدعبدالکریم صاحب کا تبادله بیدر ہوا تو وہاں امة الرزاق صاحبہ کو سازگار ماحول میسر آیا اور گلی کے بچوں کو وہ عربی تعلیم دینے میں مشغول ہو گئیں وہاں کے قدیم اور ویل ڈسی پلن رکن جماعت جناب صدیق محی الدین مرحوم نے رہنمائی کی ۔ اقبال ملا صاحب کی دور رس نگاه نے رکنیت کے لئے شفارش کی ۔ 1997ء میں آپا کی رکنیت منظور ہوئی ۔ جماعت کی مختلف ذمہ داریوں کو آپ نے بحسن و خوبی نبھایا ۔ آپا ، مجلس نمانندگان اور حلقہ کی رکن شوریٰ منتخب ہوئیں ۔ سید عبدالكريم صاحب کا تبادلہ یادگیر ، باگل کوٹ ، بلگام بیدر ہوتا رہا۔ محترمہ امة الرزا ق صاحبہ نے اپنے شوہر کا بھرپور ساتھ دیا۔ جس مقام پر بھی تبادلہ ہوتا ، موصوفہ وہاں کے خواتین کے حلقے سے ربط پیدا کرتیں اور وہاں کے حلقے میں گھل مل جاتیں ۔ اور ہر طرح کا تعاون کرتیں ۔ مرکز میں محترمہ جوائنٹ سکریٹری شعبہ خواتین کی حیثیت سے بھی محترمہ عطیہ صاحبه سکریٹری مرکز کا تعاون کیا۔
2011-15 میں انکے ذمہ کمزور حلقوں پر توجه اور انہیں تحریک کے لئے مفید تر بنانے کی ذمہ داری تھی ملک کے مختلف ریاستوں کا دوره کرتیں جن میں گوا، مد هیه پردش ، چھتیس گڑھ ، راجهستان ، گجرات اور پنجاب شامل ہیں۔ ہر حلقه کا چار چار مرتبہ دوره کیا اور کافی وقت لگایا ۔ پھر دوسری میقات میں آپ کے ذمہ بہار ، جھارکھنڈ ، یوپی مغرب اور مشرق حلقے تھے۔ لیکن
ما ب لنچنگ و ظلم و ستم کے پیدا کرده ماحول کی و جہ سے یہاں زیاده وقت نہ لگ سکا ۔
آ پا جب باگل کو ٹ آئیں تو وہاں بھی دوسرے ہی دن تحریکی حلقہ سے جڑ کر کام کرنے لگیں ۔ باگل کو ٹ میں ٹن شڈ میں جماعت کا دفتر تھا میرے دماغ میں یہ بات آئی کہ جماعت کے لئے ایک مضبوط ٹھکانہ ہونا چاہیے جہاں ہماری نشستین ہوں اور خواتین کے اجتماعات و دیگر سرگرمیاں جاری ہوں ۔ تو امیر مقامی جناب یوسف کیسنور و ارکان سے گفتگو کے بعد طے ہوا کہ باگل کو ٹ ریلوے اسٹیشن کے پاس جگہ خریدنی چاہیے ۔ چونکہ ضلعی ذمہ داری ان کمزور کندھوں پر تھی تو میں نے محترمہ آیا سے جماعت کے لئے جگہ خریدنے کا تذکیره کیا تو ایک لمحہ تاخیر کیے بغیر آپ نے ایک بڑی رقم کا وعده کیا اور امیر مقامی کے حوالے کردیں ۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن کا تذکره اس وقت ممكن نہیں ۔ آج وہاں ایک شاندار مسجد ، د فتر اور طلبا ء کے لئے کئی کمرے موجود ہیں سید عبدالکریم صاحب کہتے ہیں کہ وہ بہت حساس طبعیت رکھتی تھیں نرم دل تھیں۔ لوگوں کی ضرورت کو وہ محسوس کرتیں اور ان کی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کرتیں ۔
اللہ تعالى نے انہیں بهترین تقریری صلاحیت سے نوازا تھا۔ لاک ڈاؤن اور غیر لا ک ڈاون میں بھی وہ کافی متحرک تھیں۔ خود ہمارے قبیلہ کے زوم اجتماع میں آپ نے حصہ لیا ، اگرچہ کہ موصوفہ اس وقت زیر علا ج تھیں ۔۔
امت الرزاق صا حبہ میں جہاں بہت سی خوبیاں پائی جاتی تھیں ، ان میں صف اول میں ایثار و قربانی تھی ، اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمدردی اور غم گساری تھی ۔ محترمہ نے جب اقامت دین کا مقصد زند گی کی حیثیت سے فیصلہ کیا تو وہ ایک لمحے کے لئے خاموش نہیں بیٹھیں ۔ وہ اقامت دین کی چلتی پھرتی داعی تھیں ۔ ہر حال میں شکرگزاری ان کی صفت تھی۔
اس پر ہمیں محمد علی جوہر کا یه شعر یاد آتا ہے کہ
ہر رنگ میں راضی برضا ہو تو مزہ دیکھ
دنیا ہی میں بیھٹے ہوئے جنت کی فضا دیکھ
محترمہ کی زندگی میں ایک خاص طرح کا توازن نظر آتا ہے۔ گھر کا کام کاج ، شوہر کی اطاعت بچوں کی تربیت ، مقامی اجتماع میں شرکت ، منصب کی ذمہ داری دورے ، تحریکی مسائل ، ریاستوں کے دورے ، ملاقاتیں ، غرض تحریک کی جس وقت جوضرورت ہوتی اُس کو ادا کرنے میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں برتی ۔ پھر اس کے ساتھ تحریک سے ان کا فکری لگاؤ غضب کا تھا ، حیلہ و بہانے سے انہیں دور کا واسطہ نہ تھا ۔ تحریک کا کام پیش نظر ہوتا تو وہ رخت سفر باندھ لیتیں ۔ اس پر ہمیں سوره توبه کی یہ آیت یاد آتی کہ
نکلو، ہلکے ہو کہ بوجھل اور جہادکر و اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ ، یہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو
بے شمار بہنوں بیٹیوں ، اور بھائیوں کی دعائیں لیکر اور انہیں آگے بڑھنے اور دین وتحريک کے لے مرمٹنے کا جذبہ بیدار کرکے اپنی آخری آرام گاہ قبرستان قدوس صاحب عیدگاه میں 17 ِ اپریل 2022 کو چل بسیں ۔ الله ان كى قبر کو نورورحمت سے بھر دے
آمین ثم آمین
Post Views: 89