Skip to content
العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے لبنان کے علاقے البقاع میں ایک حملے میں حزب اللہ کے لیے سٹریٹجک ہتھیاروں کی ایک کھیپ کو نشانہ بنایا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کی کھیپ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد شام سے داخل ہوئی تھی۔
سرکاری قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود بدھ کی صبح ایک اسرائیلی فضائی حملے نے مشرقی لبنان کے علاقے بعلبک کو نشانہ بنایا۔ ایجنسی نے بتایا کہ حملے میں بعلبک شہر کے مغرب میں دریائے اللیطانی کے کنارے سے ملحق طاریا میدان میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایک سکیورٹی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات 2 بج کر 40 منٹ پر کیا گیا۔ جی ایم ٹی کے مطابق یہ 00:40 کا وقت تھا۔ حملے میں طربا قصبے کے میدانی علاقے میں گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان گوداموں کا تعلق حزب اللہ سے تھا۔
دریں اثنا اسرائیل نے بین الاقوامی سیز فائر مانیٹرنگ کمیٹی کو بتایا کہ اگر لبنانی فوج جنوبی علاقے میں اپنی افواج کی تعیناتی مکمل نہیں کرتی ہے تو وہ جنوبی لبنان میں اپنی افواج کے قیام میں توسیع کر سکتا ہے۔ یہ توسیع چھ ماہ کے گزرنے پر بھی جاری رہ سکتی ہے۔
ایک پیش رفت میں اسرائیلی فوج کی گاڑیوں نے جنوبی لبنان میں وادی الحجیر کے راستے پیش قدمی کی اور اپنی پیش قدمی کے دوران بھاری مشین گنوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر کارروائیاں کیں۔ القنطرہ قصبے میں اسرائیلی فوج کی دراندازی کے بعد لوگ الغندوریۃ قصبے کی طرف بھاگ گئے۔
Like this:
Like Loading...