Skip to content
روس ،26دسمبر( ایجنسیز) آزاد ماہرین نے ابتدائی تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کل بدھ کو قازقستان میں گر کر تباہ ہونے والے آذربائیجانی طیارے کے ڈھانچے پر گہری نظر ڈالی گئی۔ شواہد سے لگتا ہے کہ اس مسافر طیارے کو روسی فضائی دفاع نے مار گرایا تھا۔ طیارے میں عملے سمیت62 افراد سوار تھے جن میں 29 مارے گئےتھے۔ برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق یہ طیارہ روسی جمہوریہ چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی پر یوکرین کے ڈرون حملوں کو پسپا کرتے ہوئےروسی فائرنگ کی زد میں آگیا تھا‘‘۔
شواہد کے مطابق آذربائیجان ایئرلائنز کمپنی سے تعلق رکھنے والے ہوائی جہاز کے جسم پر مختلف سائز کے سوراخ نمودار دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ سوراخ بندوق اور کلاشنکوف کی گولیوں کے ہوسکتے ہیں۔ایک سرکاری کہانی پر شک پیدا کیا۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز آذر بائیجان کی فضائی کمپنی کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ طیارہ پرندوں کے جھنڈ سے ٹکرانےکے بعد گرا ہے، مگرماہرین نے بتایا کہ پرندوں کے ساتھ ٹکرانے سے طیارہ فوری طور پر گرتا ہے، اس طیارے کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔
بدقسمت طیارہ برازیلی ساختہ Embraer E190AR آذربائیجان کے شہر باکو سے چیچنیا کے گروزنی کے لیے محو پرواز پر تھا۔ یہ اپنی منزل سے سینکڑوں کلومیٹر دور گر کر تباہ ہو گیا۔ ہوا بازی کے ایک ماہر نے رائٹرز کو بتایا کہ اس کا پرندوں کے ساتھ ٹکرانے کا امکان نہیں تھا۔
ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ طیارہ لینڈنگ میں ناکام رہا۔ قازقستان میں گر کر تباہ ہونے اور آگ پکڑنے سے پہلے بحیرہ کیسپین کے پارجا گرا۔ تاہم آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا کہ طیارہ گرنے کی وجہ کے بارے میں قیاس کرنا قبل از وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خراب موسم نے اسے راستہ بدلنے پر مجبور کیا ہے۔
کل شام ایک انٹیلی جنس ٹیم کے آزاد روسی فوجی تجزیہ کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہو سکتا ہے کہ سوراخ Pantsir-S1 ایئر ڈیفنس میزائل کے حملے سے ہوئے ہوں جو 50 یوکرینی ڈرونز کو پسپا کرنے کے لیے داغا گیا تھا جبکہ Rybar ویب سائٹ جسے ٹیلی گرام پر کریملن کے حامی چینل کے طور پر بیان کیا گیا ہےنے کہا کہ شمالی اوسیتیا اور انگوشیتیا میں کئی ڈرونز مار گرائے گئے”۔
کریملن کے حامی بلاگر یوری پوڈولیاکا نے بھی لکھا کہ طیارے کو پہنچنے والا نقصان "ایئر ڈیفنس میزائل کے مطابق تھا، کیونکہ یہ سائیڈ سے اور اوپر سے پھٹا تھا”۔ کچھ زندہ بچ جانے والوں کو وہ شور یاد ہے جو انہوں نے گروزنی میں لینڈنگ کی تیسری کوشش کے دوران سنا تھا۔ یہ آواز گروزنی کو نشانہ بنانے والے یوکرینی ڈرونز حملے کے دفاعی ردعمل میں کی گئی کارروائی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔
اولیور الیگزینڈر ایک انٹیلی جنس محقق ہیں۔ ان کاکہنا ہے ہوائی جہاز کے عمودی سٹیبلائزر کے ایک طرف کسی چیز کے اندر جانے کے سوراخ اور دوسری طرف سے باہر نکلنے کے سوراخوں کو دیکھا گیا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ "ایسا لگتا ہے کہ ہر ٹکڑے میں صرف خراش کے بجائے جسم میں گھسنے کے لیے کافی حرکی توانائی موجود تھی۔ اگریہ سوراخ پرندوں کے ٹکرانے سے ہوتا تو وہاں خراشیں ہوتیں، ایسا نہیں”۔
Like this:
Like Loading...