Skip to content
کرناٹک،26دسمبر(ایجنسیز) کرناٹک کے بیلگاوی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہونے جارہی ہے۔ اس سے پہلے وہاں قائدین کے استقبال کے لیے پوسٹر اور بینر لگائے گئے تھے۔ اس حوالے سے تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ الزام ہے کہ پارٹی کارکنوں نے بینرز اور فلیکس میں ہندوستان کا نقشہ مسخ شدہ شکل میں پیش کیا ہے۔
بیلگاوی شہر کے داخلی دروازے پر لگائے گئے بینرز میں چھپے ہندوستان کے نقشے سے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) اور اکسائی چن کے علاقے غائب ہیں۔ اس معاملے پر بی جے پی نے سخت حملہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کو نئی مسلم لیگ بھی کہا گیا ہے۔
آپ کو بتا دیں، کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ بیلگاوی میں 26-27 دسمبر کو ہونے والی ہے۔ کانگریس پارٹی اس سال انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس کی صد سالہ سالگرہ کے طور پر منا رہی ہے، جس کا قیام 1924 میں ہوا تھا۔ اس پروگرام میں سونیا گاندھی، راہل، پرینکا سمیت پارٹی کے تمام بڑے لیڈر شرکت کرنے والے ہیں۔
بی جے پی نے کانگریس پر ہندوستان کے نقشے کو مسخ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے جمعرات کو کانگریس پارٹی پر بیلگاوی کانفرنس میں مسخ شدہ ہندوستانی نقشوں کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔
‘بی جے پی فار کرناٹک’ کی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ کرناٹک کانگریس نے بیلگاوی تقریب میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ ظاہر کرتے ہوئے ایک مسخ شدہ نقشہ دکھا کر ہندوستان کی خودمختاری کی کھلی بے عزتی کی ہے۔ یہ سب صرف اپنے ووٹ بینک کو خوش کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ شرمناک ہے!
بی جے پی کے مممبر پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے کہا کہ اس واقعے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ کانگریس کے ان طاقتوں کے ساتھ تعلقات ہیں جو ہندوستان کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے اس واقعہ پر اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک ویر بال دیوس منا رہا ہے، کانگریس "مسخ نقشے” استعمال کر رہی ہے، جس سے "دل کو تکلیف پہنچتی ہے۔
ترویدی نے کہا کہ آج ہمارا ملک ویر بال دیوس منا رہا ہے۔۔۔لیکن اس وقت ایک اور تصویر سامنے آئی ہے جس نے ہمارے دلوں کو زخمی کردیا۔ بی جے پی کرناٹک نے ایک ٹویٹ پوسٹ کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بیلگاوی میں کانگریس کی جانب سے منعقدہ تقریب میں انہوں نے جو ہندوستانی نقشہ پیش کیا ہے اس میں پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر اور اکسائی چن شامل نہیں ہے۔۔۔ وہ اس سے قبل بھی ایسی حرکتیں کر چکے ہیں۔۔۔ اہم بات یہ ہے کہ کہ اس نے اسے مہاتما گاندھی کی تصویر کے ساتھ لگایا ہے۔ یہ واضح ہو گیا ہے کہ کانگریس کے ان طاقتوں سے تعلقات ہیں جو ہندوستان کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
Post Views: 61
Like this:
Like Loading...