Skip to content
غزہ ،28دسمبر( ایجنسیز) شمالی غزہ کے آخری فعال ہسپتالوں میں سے ایک کمال عدوان ہسپتال کے عملے کے پانچ ارکان جمعرات کو اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے، یہ بات ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بتائی جبکہ علاقے میں اسرائیلی کارروائی کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے۔بیت لاہیا کے کمال عدوان ہسپتال کے سربراہ حسام ابو صفیہ نے کہا، "اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہسپتال کے عملے میں سے پانچ افراد شہید ہو گئے۔” اسرائیلی فوج نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
فلسطینی سرزمین کے دوسرے سرے پر خان یونس کے النصر ہسپتال کے بچوں کے بڑے ڈاکٹر نے بتایا کہ اس ہفتے موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی تین بچے "درجہ حرارت میں شدید کمی” سے جاں بحق ہو گئے۔ڈاکٹر احمد الفراء نے کہا کہ تازہ ترین کیس تین ہفتے کی بچی کا تھا جسے "درجہ حرارت میں شدید کمی کے ساتھ ایمرجنسی روم میں لایا گیا تھا جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔”
انہوں نے کہا کہ منگل کو ایک تین دن کا بچہ اور "ایک ماہ سے کم عمر” ایک اور بچے کی موت واقع ہو گئی۔دریں اثناء وسطی غزہ میں ایک مزاحمت کار گروپ سے وابستہ ایک فلسطینی ٹی وی چینل نے کہا کہ جمعرات کو غزہ میں ان کی گاڑی پر اسرائیلی حملے میں اس کے پانچ صحافی ہلاک ہو گئے جبکہ اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے ایک "دہشت گرد سیل” کو نشانہ بنایا تھا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک میزائل اس وقت لگا جب وین نصیرات میں العودہ ہسپتال کے باہر کھڑی تھی۔تین ہفتے کی بچی صلہ الفصیح المواصی کیمپ میں ایک خیمے میں رہ رہی تھی جسے اسرائیلی فوج نے انسانی بنیادوں پر محفوظ زون قرار دیا ہے جہاں بڑی تعداد میں بے گھر فلسطینی آباد ہیں۔
الفراء نے کہا، "خیمے سردی سے حفاظت نہیں کرتے اور رات کو سخت سردی ہو جاتی ہے جس میں گرمائش کا کوئی طریقہ نہیں ہوتا۔”انہوں نے کہا، کئی مائیں غذائی قلت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کے دودھ کا معیار متأثر ہوتا ہے اور نوزائیدہ بچوں کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
صلہ کے والد محمود الفصیح نے کہا،”انتہائی سردی ہے اور رہنے کے لیے خیمہ موزوں نہیں ہے۔ بچے ہمیشہ بیمار رہتے ہیں۔”اقوامِ متحدہ اور دیگر تنظیموں نے بارہا غزہ میں بگڑتے ہوئے انسانی حالات کی مذمت کی ہے خاص طور پر شمال میں جہاں اسرائیل نے اکتوبر کے اوائل سے تازہ ترین فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے کمال عدوان ہسپتال کے حالات کو "خوفناک” قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ "کم ترین” سطح پر کام کر رہا ہے۔قبل ازیں جمعرات کو غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا تھا کہ غزہ کے شمال میں دن کے وقت اسرائیلی حملوں میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
ادھر اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایک 35 سالہ فوجی وسطی غزہ کی پٹی میں ہلاک ہو گیا۔ اس سے فلسطینی علاقے میں زمینی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک ہلاک شدہ اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 390 ہو گئی ہے۔صحافیوں کے آجر القدس ٹوڈے نے ایک بیان میں کہا کہ ایک میزائل ان کی نشریاتی وین کو اس وقت لگا جب وہ وسطی غزہ میں نوصیرات پناہ گزین کیمپ میں کھڑی تھی۔
سٹیشن نے عملے کے پانچ ہلاک شدگان کی شناخت فیصل ابو القمصان، ایمن الجادی، ابراہیم الشیخ خلیل، فادی حسونہ اور محمد الدعہ کے طور پر کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ "وہ اپنی صحافتی اور انسانی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ہلاک ہوئے”۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایک "عین درست حملہ” کیا تھا اور یہ کہ ہلاک شدگان "اسلامی جہاد کے کارکن تھے جو صحافیوں کا روپ دھارے ہوئے تھے۔”
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی شرقِ اوسط کی شاخ نے ایک بیان میں ان "اطلاعات پر پریشان اور صدمے” کا اظہار کیا۔اس نے مزید کہا، "صحافی عام شہری ہیں اور انہیں ہمیشہ تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔”فلسطینی صحافیوں کی سنڈیکیٹ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا، غزہ میں جنگ کے آغاز سے اب تک 190 سے زیادہ صحافی ہلاک اور کم از کم 400 زخمی ہو چکے ہیں۔
حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی فوجی بربریت میں غزہ میں کم از کم 45,399 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
Post Views: 65
Like this:
Like Loading...