Skip to content
2024 بنگلہ دیش اور شام: ظلم سے آزادی کا سال
ازقلم:شیخ سلیم (ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
عالم اسلام کے لیے یہ سال بے حد اہم رہا، جہاں دو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں، ایک بنگلہ دیش میں اور دوسری شام میں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شیخ حسینہ نے اسی سال جنوری میں انتخابات جیتے تھے، جنہیں عوامی لیگ کی تاریخی کامیابی قرار دیا گیا، لیکن یہ جمہوریت درحقیقت مطلق العنانی کے چور دروازے سے داخل ہوئی تھی۔ دوسری طرف شام میں بشار الاسد کو حکومت اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی، لیکن اس نے بھی جمہوری انتخابات کا ڈھونگ رچایا تھا۔ ان دونوں ممالک کی کہانی ظلم و جبر، عوامی جدوجہد، اور قربانیوں سے عبارت ہے، جنہوں نے بالآخر آمریت کے خاتمے کا راستہ ہموار کیا۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ نے پارلیمانی انتخابات میں 300 میں سے 289 نشستیں جیت کر ایک ناقابل یقین کامیابی حاصل کی۔ لیکن اپوزیشن جماعتوں نے ان انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، اپوزیشن کارکنوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، اور میڈیا کو قابو میں رکھا گیا تاکہ حکومتی بیانیے کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھ سکے۔ عوام میں بھی یہ تاثر عام تھا کہ انتخابی عمل شفاف نہیں تھا، اور نتیجہ پہلے ہی طے شدہ تھا۔
انتخابات کے چند ماہ بعد، اگست میں عوام کا غصہ اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے، جن میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ پولیس نے ان مظاہروں کو دبانے کے لیے بھرپور طاقت استعمال کی، اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، اور احتجاج کو روکنے کے لیے ہرممکن حربے آزمائے گئے۔ لیکن عوام کا جذبہ کسی طور کم نہ ہوا۔ یہ مظاہرے جلد ہی ایک عوامی انقلاب میں بدل گئے۔ آخرکار، عوامی دباؤ اتنا بڑھ گیا کہ شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑنا پڑا، اور وہ ملک سے فرار ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں جمہوریت کی بحالی کی امیدیں دوبارہ زندہ ہو گئیں۔
شام کی کہانی بھی ظلم اور جبر کی طویل داستان ہے۔ بشار الاسد، جنہوں نے 2021 کے صدارتی انتخابات میں 95.1 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک اقتدار پر قابض رہے۔ لیکن یہ انتخابات عالمی سطح پر غیر شفاف اور متنازع قرار دیے گئے۔ اسد حکومت نے اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے کیمیکل ہتھیاروں، فضائی حملوں، اور قید و بند جیسے ظالمانہ ہتھکنڈے اپنائے۔ عوام کی آواز کو دبانے کے لیے جبر و تشدد کا ہر حربہ استعمال کیا گیا، لیکن شامی عوام نے ہار نہیں مانی۔
2011 سے جاری عوامی تحریک، جس کی قیادت اسلام پسند باغی کر رہے تھے، بالآخر 8 دسمبر 2024 میں کامیاب ہوئی۔ لاکھوں ( دس لاکھ) قربانیوں اور بے شمار جدوجہد کے بعد، اسد حکومت کو دمشق چھوڑنا پڑا، اور عوام نے آزادی کی سانس لی۔ ایران اور روس کی تمام تر کوششوں کے باوجود بشار الاسد کی حکومت کو عوامی غیظ وغضب سے بچایا نہ جا سکا۔ دمشق کی سڑکوں پر جشن کا سماں تھا، کیونکہ ایک ظالم حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔
بنگلہ دیش اور شام کے انقلابات نے یہ ثابت کر دیا کہ ظلم اور جبر کا کوئی نظام عوام کی طاقت کے سامنے زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ دونوں ممالک کے عوام نے اپنی جانیں قربان کر کے یہ دکھا دیا کہ جمہوریت، انصاف، اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ یہ تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ظلم کے خلاف اتحاد، قربانی صبر و استقامت، اور جدوجہد ہی کامیابی کا اصل راستہ ہیں، اور جاتے ہوئے سال نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ طاقت کا حقیقی سرچشمہ صرف اور صرف عوام ہیں۔ذیادہ دونوں تک ظلم و جبر نہیں چل سکتا۔
Post Views: 103
Like this:
Like Loading...