Skip to content
نئے سال کا جشن جدید تہذیب کی لعنت!
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
دنیا اور دنیا کی ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئیں ہیں ، وہ ہر ایک کام میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے محتاج اور پابند ہیں ،دنیا کا نظام ، دن ورات کی آمد اورشمس وقمر کی گردش اسی کے حکم سے ہے،اللہ تعالیٰ نے جس مخلوق کو جس کام پر لگایا ہے وہ اسی پر قائم ہے ایک لمحہ بلکہ ایک لحظہ بھی اپنے کام سے غافل نہیں ہے ، دنیا کے نظام کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو روز اول ہی سے ایک رفتار عطا کی ہے چناچہ وہ آج تک اپنی اپنی رفتار سے گھوم رہے ہیں ، اربوں سال گزر نے کے باوجود ان کی رفتار میں ذرہ برابر کمی بیشی واقع نہیں ہوئی ہے ،سائنس کا کہنا ہے کہ سورج کو اپنے مدار میں آکر گردش کی شروعات کئے ہوئے لگ بھگ 5.4 ارب سال ہوئے ہیں ،اس پوری مدت میں سورج نے کبھی بھی اس قانون قدرت کے خلاف اپنے مدار سے ہٹنے کی کوشش نہیں کی ہے،اسی طرح چاند اور زمین کی گردش کی رفتار بھی جو مقرر کی گئی ہے یعنی زمین اپنے محور پر 1670 کیلو میٹر اور مدار پر 108000 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار اسی کے مطابق گھوم رہی ہیں ،ہر ذی عقل اور ذی شعور سمجھ سکتا ہے کہ آخر وہ کون ہے جو سورج وچاند کو 5.4 ارب سالوں سے اس قدر پابند بنائے ہوئے ہے کہ جو اس کے خلاف کرنے کی ان میں معمولی سی ہمت نہیں ہے ، کائنات کے کسی فرد میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اپنے حکم سے سورج اورچاند کی گردش میں تبدیلی کرکے دکھائے ،حقیقت یہ ہے کہ سورج ا ورچاند ہی نہیں بلکہ پوری کائنات اور اس کا ہر ایک ذرہ اسی کے حکم کے تابع ہے ، قرآن مجید میں ارشاد ہے : تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدِیْر(المک:۱)’’بڑی شان ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ساری بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے‘‘، قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ ارشاد ہے : وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ذَلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ O وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتَّی عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِیْمِ O لَا الشَّمْسُ یَنبَغِیْ لَہَا أَن تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَسْبَحُون(یسین:۳۸،۴۰)اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جارہا ہے ،یہ سب اس ذات کا مقرر کیا ہوا نظام ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے ،جس کا علم بھی کامل ہے ،اور چاند ہے کہ ہم نے اس کی منزلیں ناپ تول کر مقرر کردی ہیں ،یہاں تک کہ وہ جب (ان منزلوں کے دورے سے) لوٹ کر آتا ہے تو کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح (پتلا) ہو کر رہ جاتا ہے،نہ تو سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے چاند اور سورج کی گردش سے دن ورات بنائے ہیں اور دن ورات سے ماہ وسال بنائے ہیں چنانچہ ان سے وقت اور سال معلوم ہوتے ہیں ،قرآن مجید میں ارشاد ہے: إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اِثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ (التوبہ:۳۶)’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے ،جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آرہی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا‘‘، وقت سے گھنٹہ ،گھنٹے سے دن ،دن سے مہینے اور مہینے سے سال کا علم ہوتا ہے اور سالوں سے انسان کی عمر مستعار کا اندازہ لگایا جاتا ہے ،اسی کے گزرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو پیدا ہوئے کتنے سال ہوئے ہیں اور اس وقت اس کی عمر کتنی ہے ،چونکہ اللہ نے انسان کو ایک مقررہ وقت دے کر دنیا میں بھیجا ہے اور وقت مقررہ کے پورا ہونے پر اسے نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا چھوڑ کر جانا پڑتا ہے ، جیسے جیسے دن ورات اور ماہ وسال گزرتے ہیں اس کی دنیوی زندگی کا وقت کم ہونے لگتا ہے اور جب اس کا مقرر کردہ وقت پورا ہوجاتا ہے تو موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرکے اسے اس جہان سے دوسرے جہان کی طرف منتقل کردیتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کے سانسوں کو وقت کی رفتار کے ساتھ جوڑ دیا ہے ،جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے انسان کی عمر بھی بڑھتی بلکہ صحیح معنوں میں گھٹتی جاتی ہے ، خطیب امت حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒنے انسانی زندگی کو برف سے تشبیہ دیا ہے چنانچہ آپ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ’’ انسان کا اس سے بڑھ کر ٹوٹا کیا ہوگا کہ برف بیچنے والے دُکاندار کی طرح اس کی تجارت کا راس المال جسے ’’عمر عزیز کہتے ہیں‘‘دم بدم کم ہوتا جارہا ہے ،اگر اس رواروی میں کوئی ایسا کام نہ کر لیا جس سے یہ عمر رفتہ ٹھکانے لگ جائے ،بلکہ ایک ابدی اور غیر فانی متاع بن کر ہمیشہ کیلئے کار آمد بن جائے تو پھر خسارہ کی کوئی انتہا نہیں ،زمانے کی تاریخ پڑھ جاؤ اور خود اپنی زندگی کے واقعات پر غور کرو تو ادنی غور وفکر سے ثابت ہوجائے گا کہ جن لوگوں نے انجام بینی سے کام نہ لیا اور مستقبل سے بے پرواہ ہوکر محض خالی لذتوں میں وقت گزار دیا وہ آخر کار کس طرح ناکام ونامراد بلکہ تباہ وبرباد ہوکر رہے ،آدمی کو چاہئے کہ وقت کی قدر پہنچانے اور عمر عزیز کے لمحات کو یونہی غفلت وشرارت یالہو ولعب میں نہ گنوائے جو اوقات تحصیل شرف ومجد اور اکتساب فضل وکمال کی گرم بازاری کے ہیں اگر غفلت ونسیان میں گزاردئیے گئے تو سمجھو کہ اس سے بڑھ کر آدمی کے لئے خسارہ نہیں ہوسکتا ،بس خوش نصیب اور اقبال مندانسان وہی ہیں جو اس عمر فانی کو باقی اور ناکارہ زندگی کو کار آمد بنانے کیلئے جد وجہد کرتے ہیں ،اور بہترین اوقات اور عمدہ مواقع کو غنیمت سمجھ کر کسب سعادت اور تحصیل کمال کی کوشش میں سر گرم رہتے ہیں‘‘۔
لوگوں کا حال بڑا عجیب بلکہ تعجب خیز ہے کہ باربار اور ہر بار مشاہدہ کرنے کے باوجود بھی عمر عزیز کے قیمتی لمحات کو کسی بے قیمت شے کی طرح یوں ہی گنوانتے رہتے ہیں اور قیمتی اوقات کے گزر نے اور زندگی کے کم ہونے پر احتساب کے بجائے خوشی مناتے ہیں ، نئے سال کی آمد پر ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آتا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں لوگ سال گزرنے پر جشن مناتے اور خوشی سے سرشار ہوتے ہیں ، در حقیقت یہ لوگ زندگی کی حقیقت سے نا آشنا اور اسکی قدر وقیمت سے ناواقف ہیں تب ہی تو دنیا کا ایک سال کم ہونے اور اپنی زندگی سے ایک سال رخصت ہونے پر جشن مناتے ہیں اور بڑی دھوم دھام سے رقص وسرور کی محفلیں سجاتے ہیں جن میں آتشبازیاں ہوتی ہیں ،گانا بجانا ہوتا ہے، لوگ سڑکوں پر نکل کر گاڑیاں دوڑاتے ہیں ،چیختے چلاتے ہیں،مردوں عورتوں کا اختلاط ہوتا ہے اور وہ ایک دوسرے کو گلے مل مل کر مبارک بادیاں دیتے ہیں ،یہ سلسلہ ٹھیک رات بارہ بجے سے شروع ہوتا ہے اور قریب صبح صادق تک جاری رہتا ہے ،ان کی اس اوچھی ،بے ہودہ اور غیر اخلاقی حرکتیں دیکھ کر شیاطین جتنا خوش ہوتے ہوں گے شائد اس رات کے علاوہ کسی اور وقت میں نہیں ہوتے ہوں گے ،نائٹ کلبس میں دھوم دھام اور اخلاق سوز حرکتیں دیکھ کر تو شیطان بھی شرماجاتے ہوں گے ،کہنے والوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ نئے سال کے موقع پر صرف اس ایک رات میں جس قدر گناہ کیا جاتا ہے سال کی تمام راتوں میں بھی اتنے گناہ نہیں کئے جاتے بلکہ کہنے والوں نے تو یہ بھی کہا ہے کہ اس رات لوگ اجتماعی گناہ کرتے ہیں ،اگر یہ نبی رحمت کی نہ ہوتی تو کب کی پوری قوم عذاب الٰہی کے ذریعہ ہلاک کردی جاتی ، دراصل نئے سال کا جشن اور اس میں کی جانے والی بے ہودہ حرکتیں مغرب اور مغربی تہذیب وتمدن کا حصہ اور انہیں کی دین ہے ، اس طرح کے بے ہودہ کلچر یورپ اور مغرب والے ہی ایجاد کرتے ہیں اور پوری دنیا میں اسے عام کرتے ہیں ،جو لوگ مغرب سے مرعوب اور ان کی تہذیب سے متاثر ہوتے ہیں اسے فوراً گلے لگاتے ہیں اور اسے اپنی زندگی کا ایسا حسہ بناتے ہیں گویا اس کے بغیر زندگی گزارنا ان کے لئے محال ہے،مغربی تہذیب کو گلے لگانے اور اپنانے والوں میں ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی بھی ہے اور ان میں زیادہ تر وہ مسلمان ہیں جو عصری تعلیم حاصل کئے ہیں اور ان میں بھی کافی لوگ وہ ہیں جو دینی تعلیم اور اسلامی تہذیب سے نابلد ہیں ،سچ یہ ہے کہ ان بے ہودہ اور فضول حرکتوں سے اسلام اور مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام ان بے ہودہ ،اخلاق سوز اور شرم وحیا سے عاری چیزوں سے بے زار ہے،مگر افسوس کہ بہت سے مسلم گھرانے اسی تہذیب جدید کی جال میں پھنستے جارہے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی اس طرح کی بے ہودہ حرکتیں کرتے جارہے ہیں ، ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک طرف سال نو کے جشن کے نام پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے ہوکر ناچ گانے میں اور رقص وسرور میں مصروف ہوتے ہیں تو دوسری جانب ان کے ماں باپ بڑی بے شرمی کے ساتھ ان کی حیا سوز حرکتوں کو دیکھ کر خاموش تماشائی بنے ہوتے ہیں بلکہ بعض بعض ماں باپ تو خود انہیں اس کی اجازت دیتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ،سچ یہ ہے کہ اس منظر کو دیکھ کر سچا مسلمان بلکہ ہر غیرت مند آدمی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ،مسلمان جان لیں کہ جشن سال نو کی تقریبات میں شریک ہونا ،ان تقریبات کے انعقاد میں مدد کرنا اور کسی بھی طرح اس کا حصہ بننا کسی بھی مسلمان مرد وعورت کے لئے جائز نہیں ہے بلکہ حرام اور سخت گناہ کی بات ہے، اسی طرح سے یہ بات بھی ہر مسلمان اچھی طرح ذہن میں بٹھالیں کہ نئے سال کی آمد پر کیک کاٹنا اور ایک دوسرے کو مبارک بادیاں دینا اسلامی تعلیم کے منافی اور اسکی تہذیب کے بالکل خلاف ہے بلکہ یہ دنیا سے محبت کی علامت اور آخرت میں جواب دہی کے احساس سے عاری ہونے کی دلیل ہے۔
اسلام کے بنیادی عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ انسان کی دنیوی زندگی فانی اور اُخروی زندگی باقی اور لا محدود ہے ، انسان کو دی گئی زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے چنانچہ ہر ایک انسان کو قیامت کے دن زندگی اور اس کے شب وروز کا حساب دینا ہوگا کہ اس نے زندگی اور اس کے قیمتی لمحات کہاں گزارے،، زندگی اللہ تعالیٰ کی مرضیات پر چلنے اور اسکی منہیات سے رکنے کانام ہے،زندگی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کے لئے ہے اور زندگی کا ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہو گا اسے عبادت میں شمار کیا جائے گا اور جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا تو اسے نافرمانی اور گناہ میں شمار کیا جائے گا،قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسان سے اس کی زندگی کے قیمتی لمحات کے بارے میں سختی سے پوچھیں گے ،رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے : لاتزول قدما عبدٍ حتی یُساء ل عن خمسٍ عن عمرہ فیما افناہ ،وعن علمہ فیما فعل ،وعن مالہ من این اکتسبہ ،وفی ما انفقہ ،وعن جسمہ فیما ابلاہ (ترمذی:۲۴۱۷)’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت سے آدمی اس وقت تک ہٹ نہیں سکتا جب تک اس سے پانچ باتوں کے متعلق حساب نہیں لے لیا جائیگا (چنانچہ) اس سے پوچھا جائے گا کہ عمر کن کاموں میں گزاری؟ دین کا علم حاصل کیا تو اس پر کہاں تک عمل کیا؟ مال کن ذرائع سے کمایا؟ کمایا ہوا مال کہاں خرچ کیا؟ جسم کو ( صحت وتندرستی میں ) کس کام میں لگایا‘‘،اس ارشادِ گرامی کے ذریعہ رسول اللہ ؐ نے انسانوں کو آخرت میں جو سوالات کئے جائیں گے اس کی طرف توجہ دلائی ہے اور ساتھ ہی بتلادیا کہ زندگی نہایت قیمتی ہے اسے ضائع کرنا آخرت میں خسارہ اور تباہی کا ذریعہ ہے ، معلوم ہوا کہ زندگی نہایت قیمتی شئے ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم ترین نعمت ہے جو ہر فرد بشر کو عطا ہوئی ہے ، بادشاہ ہو یا فقیر ،امیر ہو یا غریب ،آقا ہو یا غلام ،ہر ایک کیلئے رات و دن برابر ہے ، دن اور رات کی خصوصیت یہ ہے کہ جب یہ گذر جاتے ہیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے ،ہر دن اور ہر رات ہم سے رخصت ہوجاتے ہیں ، جیسے جیسے دن گذر تے جاتے ہیں ویسے ویسے انسان موت کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے ، جوآدمی اپنی زندگی اور اس کے اوقات کو کام میں لاتا ہے وہی کامیابی پاتا ہے اور جو وقت کی ناقدری کرتا ہے وہ دنیا وآخرت دونوں جگہوں پر نقصان اٹھاتا ہے ۔
اہل علم فرماتے ہیں کہ نئے سال کے جشن منانے میں بہت ساری خرابیاں ہیں مگر ان میں سے تین تو بنیادی طور پر انتہائی خطرناک ہیں (۱)لغو کام ،نئے سال کا جشن انتہائی لغو اور بے کار کام ہے ،اس سے انسان کا نہ تو کوئی دنیوی فائدہ ہے اور نہ ہی اخروی بھلائی ہے ،عقلمند انسان ہر اس کام سے گریز کرتا ہے جس سے اسے کوئی فائد حاصل نہیں ہوتا ہے اور ایک مسلمان تو بے فائدہ کاموں کے قریب جانے سے بھی احتیاط کرتا ہے ،سچا اور پکامسلمان تو لایعنی اور فضول کاموں سے اپنے آپ کو بچائے رکھتا ہے اور یہی مومن کی خوبی اور اس کی خاص صفت ہے ، رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے:من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ(ترمذی:۲۳۱۷)’’ آدمی کے اسلام کی خوبی اور اس کے کمال میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ فضول اور غیر مفید کاموں اور باتوں سے پچا رہے‘‘۔محدث جلیل ،عالم ربانی حضرت مولانا محمد منظور نعمانی ؒ نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’ انسان اشرف المخلوقات ہے ،اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت قیمتی بنایا ہے ،اللہ چاہتے ہیں کہ انسان کو وقت اور صلاحیتوں کا جو سرمایہ دیا گیا ہے وہ اسے بالکل ضائع نہ کرے ،بلکہ صحیح طور سے اسے استعمال کرے ،زیادہ تر اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا تقرب حاصل کرنے کی فکر کرے ،یہی دین کی تمام تعلیمات کا حاصل اور اس کا لب لباب ہے ،اس لئے جو آدمی یہ چاہتا ہے کہ اُسے کمال ایمان حاصل ہو اور اس کے اسلام کے حسن میں کوئی داغ اور دھبہ نہ ہو تو اسے چاہیے کہ کھلے گناہوں اور بد اخلاخیوں کے علاوہ تمام فضول اور غیر مفید کاموں اور باتوں سے اپنے کو بچائے رکھے اور اپنی تمام تر خدا داد صلاحیتوں کو بس ان ہی کاموں میں لگائے جن میں خیر اور منفعت کا کوئی پہلو ہو‘‘ ۔
(۲) فضول خرچی ،نئے سال کا جشن منانے میں دوسری خرابی یہ ہے کہ آدمی اپنے مال ودولت کو بے موقع اور بے وجہ اور بلاوجہ خرچ کرتا ہے ،یہ بھی مال جیسی عظیم نعمت کی ناقدری ہے ،اسلام ایسے شخص کو ناپسند قرار دیتا ہے جو بے موقع اپنا مال خرچ کرتا ہے بلکہ قرآن مجید میں اسے اسراف سے تعبیر کیا ہے اور اسراف کرنے والوں کو شیطان کا بھائی بتایا ہے،نئے سال کے جشن پر جو لوگ اپنا پیسہ خرچ کرتے ہیں وہ درحقیقت اسراف کرنے والے ہیں اور شیطان کے بھائی ہیں،جب شیطان انسانوں کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا اور اس سے انسانیت کو نفع نہیں پہنچ سکتا تو بھلا بتائی اس کے بھائیں سے انسانیت کو کس طرح نفع حاصل ہو سکتا ہے گویا فضول خرچی کرنے والے اپنے ساتھ انسانیت کو نقصان پہنچانے والے ہیں (۳) غیروں کی مشابہت، نئے سال کا جشن منانے میں تیسری اور سب سے خطرناک خرابی یہ ہے کہ وہ اسلام کی خوبصورت تہذیب چھور کر غیرون کی نقالی کرتا ہے،اس مثال اس شخص کی طرح جس کے پاس عمدہ لذیز کھانا ہے مگر اسے چھوڑ کر وہ بدبودار کھانے سے اپنا پیٹ بھر رہا ہے،اسلام نے مسلمانوں کو غیروں کی مشابہت اور نقالی سے سختی سے منع کیا ہے ،یقینا نقالی غلامی کی علامت ہے ،اسی طرح نقالی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے اور اسی طرح نقالی آدمی کو منافق بنادیتی ہے، رسول اللہ ؐ نے ایک موقع پر غیروں کی مشابہت اختیار کرنے والوں کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :من تشبہ بقوم فھو منھم (ابوداود:۴۰۳۱) ’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے‘‘ چناچہ یہ حدیث اس بات پر واضح دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کسی بھی معاملہ میں ،کافر ومشرک ،یہود ونساری اور فساق وفجار کی مشابہت اختیار نہ کریں،کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اس قدر سخت وعید سنائے جانے کے باوجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد یہود ونصاری اور فساق وفجار کی نقالی کرنے لگی ہے اور خاص طور سے نئے سال کے جشن میں شریک ہوکر خود کو اللہ تعالیٰ کی لعنت کردہ قوم کی پیروی کرنے لگی ہے ،کسی عالم دین نے بڑی عجیب بات کہی ہے کہ مسلمان پنجوقتہ اور نفل نمازوں میں سورۂ فاتحہ پڑھ کر یہود ونصاریٰ کے راستہ سے بچنے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے اور بعد میں خود ہی لپک کر ان کے راستے کو اختیار کرتا ہے، اگر مسلمان اپنی روش سے اور اپنی غلط حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی کچھ پرواہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں راستے سے ہٹائے گا اور ان کی جگہ ایسی قوم لائے گا جو اس صحیح فرماں برداری کرکے دکھائے گی اور دنیا کو بتائے گی کہ سچا مسلمان کسے کہتے ہیں ،اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو غیر اسلامی طریقے اپنا نے سے محفوظ رکھیں اور خاص طور پر نئے سال کے بے ہودہ ، دین بے زار اور لعنتی تہذیب سے دور رکھے ،آمین ۔
Like this:
Like Loading...