Skip to content
سنبھل،30دسمبر ( ایجنسیز ) اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے، جو ایس پی وفد کی قیادت کررہے ہیں، نے کہا کہ ہم پہلے آنا چاہتے تھے لیکن ہمیں نہیں آنے دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پانچ افراد پولیس کی گولیوں سے مارے گیے۔اس کے علاوہ پولیس نے سنبھل تشدد کے سلسلے میں ایس پی ایم پی ضیاء الرحمن برق کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
اس بارے میں ماتا پرساد نے کہا کہ ایم پی ضیاء الرحمان کیخلاف درج مقدمات مکمل طور پر غلط ہیں۔سنبھل تشدد کے بعد سماج وادی پارٹی نے تشدد میں مارے گئے پانچ لوگوں کے لواحقین کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا تھا، لیکن جب ایس پی کا وفد ماتا پرساد پانڈے کی قیادت میں جا رہا تھا تو اسے لکھنؤ میں روک دیا گیا۔
عیاں ہو کہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد میں ایک عرضی پر عدالتی حکم کے بعد سروے کرایا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں ہری ہر مندر ہے۔ جب سروے ٹیم 24 نومبر کو مسجد کا سروے کرنے پہنچی تو مسجد کے باہر تشدد پھوٹ پڑا۔ اس دوران بھیڑ اور پولیس میں ہاتھا پائی ہوئی۔ اس پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس سے لے کر فائرنگ تک ہر چیز کا استعمال کیا۔ اس تشدد میں پانچ نوجوانوں کی موت ہو گئی۔ اس معاملے میں پولیس نے اب تک تقریباً 50 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔
Post Views: 71
Like this:
Like Loading...