Skip to content
کابل،30دسمبر (ایجنسیز ) افغانستان میں اسلام آباد کی طرف سے شروع کیے گئے فضائی حملوں کے چند دن بعد افغان وزارت دفاع نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ طالبان فورسز نے پاکستان کے اندر کئی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔اپنے بیان میں وزارت دفاع نے پاکستان کا نام نہیں لیا، لیکن کہا کہ یہ حملے ورچوئل لائن کے پیچھے کیے گئے ہیں۔ ان کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا جہاں دونوں ملکوں کے درمیان برسوں سے سرحدی کشیدگی پائی جا رہی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کابل وزارت دفاع نے کہاکہ ورچوئل لائن کے پیچھے کئی پوائنٹس کو نشانہ بنایا گیا، جو شر پسند عناصر اور ان کے حامیوں کے مراکز اور ٹھکانوں کی نمائندگی کرتے ہیں جنہوں نے ملک کی جنوب مشرقی سمت میں، افغانستان میں حملوں کو منظم اور مربوط کیا۔
جب وزارت کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی سے پوچھا گیا کہ کیا اس بیان میں پاکستان کا حوالہ دیا گیا ہے، تو انہوں نے جواب دیاکہ ہم اسے پاکستانی علاقہ نہیں سمجھتے۔ اس لیے ہم مقام کی تصدیق نہیں کر سکتے، لیکن یہ فرضی لکیر کی دوسری طرف تھا”۔افغانستان نے کئی دہائیوں سے ڈیورنڈ لائن کے نام سے جانی جانے والی سرحد کو مسترد کر دیا ہے۔ اسے برطانوی استعمار نے انیسویں صدی میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان واقع غیر بندوبستی قبائلی پٹی میں کھینچا تھا۔افغان حکام نے بدھ کو خبردار کیا تھا کہ وہ پاکستانی بمباری کے بعد جوابی کارروائی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی بمباری سے افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ اسلام آباد نے کہا کہ اس نے سرحد پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔دونوں پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں، کیونکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں ہونے والے متعدد مسلح حملے افغانستان کی سرزمین سے کیے گئے تھے جن کی افغان طالبان تحریک انکار کرتی ہے۔
Like this:
Like Loading...