Skip to content
منموہن سنگھ : شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
آنجہانی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال کے 7 دن بعدجب ان کی رہائش پر ’اکھنڈ پاٹھ‘ کی تقریب منعقد ہوئی تو اس میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی اور سابق نائب صدر حامد انصاری سمیت کانگریس کے کئی رہنماوں نے شرکت کی۔ سونیا گاندھی اور کھڑگے نے منموہن سنگھ کی رہائش گاہ پر پہنچ کر سب سے پہلے انھیں خراج عقیدت پیش کیا اور پھر ان کی شریک حیات گرشرن کور سمیت کے دیگر اہل خانہ کی خدمت میں اپنا خراجِ تعزیت پیش کیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی یاد میں دہلی کے گرودوارہ شری رکاب گنج میں کیرتن اور ارداس کا اہتمام کیا گیاتو وہاں بھی ملکارجن کھڑگے اور سونیا گاندھی کی موجودتھے ۔ بی جے پی پر چونکہ دہلی الیکشن کا جنون سوار ہوچکا ہے اس لیے اس کے کسی سرکردہ رہنما کو اس موقع پرمنموہن سنگھ کے پسماندگان سے ملنے کی توفیق نہیں ہوئی ۔ ان لوگوں نے تو گویا منموہن سنگھ کو بھلا ہی دیا ہے۔
اس ہفتے کے دوران سنگھ پریوار کے زیر اثر سوشیل میڈیا میں سابق وزیر اعظم کے خلاف بہتان طرازی کا طوفان آیا ہوا ہے حالانکہ نظریاتی اعتبار سے دونوں سرمایہ دارانہ نظام معیشت کا قائل ہے ۔ ان میں فرق یہ ہے کہ منموہن سنگھ انسانی چہرے کے ساتھ سرمایہ داری کی قائل تھے جبکہ مودی جی نے ایک خونخوار درندہ صفت کرونی کیپٹلزم نافذ کررکھا ہے۔ سنگھ پریوار کی تنگ دلی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کوئی خوبی کا اعتراف کرنے کا قائل نہیں ہے ۔اسی لیے منموہن سنگھ کے ساتھ یہ معاندانہ سلوک روا رکھا گیا ہے۔ وہ اگر کانگریس کے بجائے بی جے پی میں ہوتے تو یہ لوگ ان کو آسمان پر اٹھا لیتے مگر زعفرانیوں کی عصبیت ان کو منموہن کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے سے روک رہی ہے۔ اپنے حوالے سے نرگسیت اور دوسروں کے تئیں حقارت انسان کو تنگ دل بنادیتی ہے اور فی الحال سنگھ پریوار اسی حقیقت کا مظہر بنا ہوا ہے۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے کیونکہ یہاں ہر کوئی جانے کے لیے آتا ہے۔ اس کارگہہ ہستی میں کون کیسے آتا ہے یہ اہم نہیں ہوتا بلکہ وہ کیسے جاتا ہے اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ سابق وزیر اعظم کی رحلت پر پی ایم مودی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’ڈاکٹر منموہن سنگھ جی اور میں اس وقت باقاعدگی سے بات کرتے تھے جب وہ وزیر اعظم تھے اور میں گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا۔ ہم انتظامی امور سے متعلق مختلف موضوعات پر گہری بات چیت کرتے تھے‘۔ یہ تو خیر ایک روایتی جملہ ہے جس میں آنجہانی کے بجائے مودی جی نے اپنی تعریف کی لیکن اس کے بعد انہوں نے لکھا :’ ان میں ذہانت اور عاجزی ہمیشہ نظر آتی تھی‘۔یہ دو ایسی صفات ہیں جو ڈاکٹر منموہن سنگھ کو وزرائے اعظم کی طویل فہرست میں ممتاز مرتبہ پر فائز کرتی ہیں ۔عام طور پر ذہانت انسان کو رعونت میں مبتلا کردیتی ہے۔ شیطان کے لیے کسی ذہین انسان کو شاطر ، مکار اور گھمنڈی بنادینا بہت آسان ہوتا لیکن اگر کوئی منموہن سنگھ کی طرح اقتدار پر فائز ہونے کے بعد بھی اس فتنے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر عجز و انکسار کا پیکر بنارہے وہ یقیناً قابل تعریف ہے۔
سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی معیشت کے میدان میں مہارت کسی ثبوت کی محتاج نہیں ہے مگر ان کی سیاسی ذہانت کی گواہی پریس کانفرنسوں کی تعداد میں چھپی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے دس سالوں میں جملہ 117 مرتبہ پریس کا نفرنس کے توسط سے اخبار نویسوں کو مخاطب کیا اور ان کے سوالات کا جواب دیا۔ ان اخباری کانفرنسوں میں صرف 12 کا تعلق الیکشن یا سیاسی منشور وغیرہ سے تھا ۔ سب سے زیادہ 72 پریس کانفرنس غیر ملکی دوروں پر کی گئی ۔ یہ نہایت مشکل کام ہے اور مودی جی تو ایک میں ہی پانی پی کر کانپنے لگے تھے۔ اس کے علاوہ سالانہ پریسرز کی تعداد 10 تھی اور گھریلو وریاستی دوروں پر 23 بار انہوں نے اخباری ترجمانوں سے خطاب کیا تھا ۔ ان کی سرکار پر جب الزامات کی بوچھار ہورہی تھی اس وقت بھی اپنے پسندیدہ صحافیوں کے درمیان بیٹھ کر طے شدہ سوالات کی نوٹنکی کرنےکے بجائے وہ کھلی پریس کانفرنس کرتے تھے۔ یہ ایک عالم فاضل سربراہ اور جاہل حکمراں کا فرق ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حماقت و غرور نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی ذہانت اور انکسار کو مزید اجاگر کردیا ہے ۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ کی موت کے بعد ذرائع ابلاغ میں ان کا نریندر مودی سے موازنہ کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ لوگ ایوان پارلیمان کے اندر ان کا تنقید کو سننا اور پھر اسے نوٹ کرکے خندہ پیشانی سے اس کے جواب دینے کو یاد کرتے ہیں ۔ اس کے لیے انسان کو پڑھا لکھا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسروں کی خاص طور پر مخالفین کی بات کو سننے کا مادہ بھی ضروری ہے ۔ اس شئے کا فقدان ہو تو مودی جیسا وزیر اعظم اول پارلیمانی اجلاس میں شرکت کے وقت ہی بہت نکالتا ہے۔ وہ جب لوگوں کی بات خود نہیں سنتا تو اسے جواب دینے کے لیے اپنے حواریوں یعنی تقریر لکھ کر دینے والوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ ایوان پارلیمان کے اندر بھی اسی وجہ سے وزیر اعظم نریندر مودی ایسے بولتے ہیں جیسے کسی جلسۂ عام سے خطاب کررہے ہوں ۔ ان کی طول طویل تقاریر میں ان سوالات کا جواب شاذو نادر ہی پایا جاتا ہے جو ارکا نِ پارلیمان کی جانب سے اٹھائے گئے ہوں ۔ آج کل یہ حالت ہوگئی ہے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایوان پارلیمان کے اندر تقریر کے دوران خود بی جے پی کے ارکان بھی پانی پیتے اور اونگھتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ منموہن سنگھ کی بابت امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ جب وہ بولتے ہیں تو پوری دنیا دھیان سے سنتی ہے۔
ایک ایسے دور میں جبکہ ایوانِ پارلیمان کے اندر حزب اختلاف کے ارکان کا مائک بند کردیا جاتا ہو۔ ایک ساتھ ڈیڑھ سو سے زیادہ ارکان ِ پارلیمان کو کارروائی سے معطل کرکے اہم قوانین منظور کر لیے جاتے ہوں لوگ باگ منموہن سنگھ کے زمانے کو یاد کررہے ہیں ۔ سشما سوراج کی ان پر شاعرانہ تنقید کا ویڈیو اور اس کا ترکی بہ ترکی جواب وائرل ہورہا ہے۔ منموہن سنگھ نے جس طرح اپنی مخالفت کو برداشت کیا تھا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اردو جانتے تھے اور علامہ اقبال کی شاعری سے خاص شغف رکھتے تھے ۔ منموہن سنگھ کے زمانے میں بدعنوانی کے خلاف تحریک جس زور شور سے چلائی گئی تھی مودی یُگ میں اس کا تصور بھی محال ہے۔ خاتون پہلوانوں کے پولیس کی زیادتی دوسروں کو سبق سکھانے کے لیے کی گئی تھی تاکہ کوئی احتجاج کرنے کی ہمت نہ کرے ۔
وزیر اعظم کی حیثیت سے منموہن سنگھ نے جے این یو کا دورہ کیا تو انہیں سیاہ جھنڈے دکھائے گئے اور ان کے خلاف خوب جم کر نعرے بازی بھی ہوئی۔ اس کے بعد انتظامیہ نے مظاہرین کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کردی ۔ منموہن سنگھ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر روک لگا دی اور ڈانٹ پلا کر کہا کہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ طالب علم ہیں انہیں احتجاج کا حق ہے۔ اس کے برعکس این آر سی کے خلاف چلنے والی طلباء کی تحریک کو مودی شاہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں جس بے دردی کے ساتھ کچلنے کی کوشش کی وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ مودی اور منموہن کے رویہ میں بنیادی فرق اس لیے ہے کہ ایک کا کردار صاف ستھرا تھا اور دوسرے کا داغدار ہے۔ ایک کے اندر اقتدار کی ہوس کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ایک کو اقتدار سے ہٹتے ہی جیل جانے کا خطرہ لاحق ہے دوسرے کو نہیں تھا ۔ منموہن سنگھ نے ملک میں سرمایہ دارانہ نظام کو مضبوط تو کیا مگر اس کے ذریعہ عام لوگوں کی شراکت داری کو بڑھایا ۔
منموہن سنگھ نے کسی گوتم اڈانی یا مکیش امبانی کی اس طرح پشت پناہی نہیں کی جیسے کہ موجودہ ’ہم دو ہمارے دو‘ کی سرکار کھلے عام کررہی ہے۔ اس کے باوجود گوتم اڈانی نے ایکس پر اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ، ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ تاریخ 1991 کی اصلاحات میں ان کے اہم کردار کا ہمیشہ احترام کرتی رہے گی جس نے ہندوستان کو نئی شکل دی اور دنیا کے لیے اس کے دروازے کھولے۔ ایک نایاب رہنما جس نے نرمی سے بات کی لیکن اپنے عمل سے یادگار پیش رفت حاصل کی، ڈاکٹر سنگھ کی زندگی قیادت، عاجزی اور قوم کی خدمت میں ایک ماسٹر کلاس رہی ہے اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرے گی‘۔ منموہن سنگھ سے وزیر اعظم مودی کا جب بھی موازنہ کیا جاتا ہے ایک قد اور بھی اونچا اور دوسرے کا مزید گھٹ جاتا ہے ۔ ایک اقتدار کے حریص اور دوسرے سرکار سے بے نیاز رہنما میں یہ بنیادی فرق ہے۔ منموہن سنگھ کی رحلت پر پورا ملک جس طرح سوگوار ہوگیا اس پر طارق نعیم کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے
شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے
Post Views: 235
Like this:
Like Loading...