Skip to content
لکھنؤ،3جنوری (ایجنسیز ) میونسپل کارپوریشن کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق دارالحکومت میں تقریباً دو لاکھ بنگلہ دیشی غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں، جو چوراہوں پر گداکری کرتے ہیں۔ لکھنؤ کی میئر سشما کھڑکوال نے ان غیر قانونی دراندازوں کونکال باہر کرنے کے لیے سختی دکھائی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں شہر سے باہر نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔میئر سشما کھڑکوال نے کہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی حدود میں سروے کیا گیا جس میں 7335 غیر قانونی کچی آبادیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں بنگلہ دیشی مقیم ہیں۔
ان کو ہٹانے اور ان کیخلاف کارروائی کے لیے حکومت کو رپورٹ بھیجی جائے گی۔میئرسشما نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کسی بھی ملک کی جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ شہر کے 110 وارڈز میں موجود 7335 کچی آبادیوں میں مقیم 30 ہزار سے زائد افراد کچرا اٹھانے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ میئر نے کہا کہ شہر میں دو لاکھ بنگلہ دیشی رہتے ہیں، جن کے آدھار کارڈ پٹریوں وجود پتوں پر بنائے گئے ہیں۔ اس کی مکمل رپورٹ حکومت کو بھیجی جا رہی ہے۔
سشما کھڑکوال نے دعویٰ کیا کہ شہر میں آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے جو کہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ پہلے وہ جھاڑو دینے کا کام کرتے تھے لیکن اب سبزیاں بیچ رہے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو دن میں صفائی کرتے ہیں اور رات کومبینہ طور پر چوری کرتے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن نے دارالحکومت لکھنؤ میں بنگلہ دیشیوں کی شناخت کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
یہ کمیٹی زون 7 میں جائے گی اور وہاں بنی کچی آبادیوں کی تحقیقات کرے گی۔ جیسے کب سے وہ یہاں مقیم ہیں، انہیں کس نے بسایا ہے؟ یہ کس کی زمین ہے؟ یہ تمام معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔ نیز میونسپل کارپوریشن نے سروے سے حاصل ہونے والی معلومات کو پولیس کے ساتھ شیئر کیا ہے تاکہ ان کے شناختی کارڈ کی جانچ کی جاسکے۔
Post Views: 55
Like this:
Like Loading...