Skip to content
روس،4جنوری(ایجنسیز) شام میں روسی اڈوں کی قسمت کے بارے میں ابہام ابھی بھی موجود ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے واسیلی نیبنزیا نے انکشاف کیا ہے کہ نئے شامی حکام نے یہ اشارے بھیجے ہیں کہ وہ روسی موجودگی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔نیبنزیا نے تصدیق کی کہ دمشق میں نئے حکام اس وقت مؤثر طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ وہ شام میں روسی موجودگی کو برقرار رکھنے میں اپنی دلچسپی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
نیبنزیا نے جمعہ کو 24 ٹی وی چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یقیناً، ڈی فیکٹو حکام اپنے خلاف پابندیاں ہٹانا چاہتے ہیں اور خود کو ایک ایسی حکومت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو تمام شامیوں کے مفادات کا خیال رکھتی ہے۔ اس حوالے سے وہ اب تک پوری طرح سے کام کر رہے ہیں۔روس کے اقوام متحدہ میں مندوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماسکو اور دمشق طویل مدتی دوستی کے رشتوں سے متحد ہیں جو کسی حکومت سے منسلک نہیں ہیں۔ شام کی موجودہ قیادت روس کی مسلسل موجودگی میں اپنی دلچسپی کے اشارے دے رہی ہے۔
شام کی نئی انتظامیہ کے سربراہ اور تحریر الشام کے رہنما احمد الشرع نے اس سے قبل العربیہ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ روس دنیا کا دوسرا طاقتور ترین ملک ہے اور دمشق کے ماسکو کے ساتھ سٹریٹجک مفادات ہیں۔احمد الشرع نے وضاحت کی کہ موجودہ انتظامیہ نہیں چاہتی کہ روس اس طرح سے نکل جائے جو شام کے ساتھ اس کے طویل تعلقات کے لیے موزوں نہ ہو۔ ان کا یہ بیان شاید اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ روسی اڈے عارضی طور پر حمیمیم اور طرطوس میں موجود رہیں گے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس سے قبل وضاحت کی تھی کہ شام میں دو روسی اڈوں کی موجودگی بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے مطابق ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے موجودہ بین الاقوامی معاہدوں میں طے کی گئی ہے۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ماسکو کو نئے حکام کی جانب سے شام کی جانب سے طرطوس اور حمیمیم میں فوجی اڈوں کی موجودگی کو کنٹرول کرنے والے معاہدوں پر نظرثانی کی کوئی سرکاری درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب جمعرات کو شام میں نئی انتظامیہ کے رہنما نے روسیوں کے ساتھ تعلقات کو طویل مدتی اور سٹریٹجک نوعیت کا قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک دمشق میں موجودہ حکام کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ واضح رہے روس نے 7 دسمبر کو شام سے نکلنے کے فوراً بعد بشار الاسد کو "انسانی پناہ” فراہم کر دی تھی۔ برسوں سے شام میں بشار الاسد کی حکومت کی ماسکو اور تہران حمایت کر رہے تھے۔
Like this:
Like Loading...