شیواجی نگر سگنل پر اسکول کے طلبہ کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات ؛ وقت کی اہم ترین ضرورت
از:- عبید الرحمٰن عبد العظیم (معلّم، شیواجی نگر اُردو ایم پی ایس نمبر 1)
شیواجی نگر نمبر 1 کیمپس ایک بڑی عمارت ہےجس میں 5 مختلف اسکول جاری رہتے ہیں۔ یہاں بال واڑی سے لے کر ہشتم جماعت کے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔اور پورے کیمپس میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد کم و بیش2500 ہے۔ شیواجی نگر 1 نمبر کیمپس ممبئی کے مصروف شیواجی نگر سگنل کے قریب واقع ہے، روزانہ تقریباً 2500 طلبہ کی آمدورفت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ یہ طلبہ گوتم نگر، منڈالا، لوٹس، مہاڈا، اور دیگر کئی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تعلیمی ادارہ ایک بڑی شاہراہ کے قریب ہونے کے باعث ان کم عمر طلبہ کے لیے نمایاں حفاظتی خطرات پیدا کرتا ہے۔
حالیہ واقعات اس سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دی فری پریس جرنل اخبار کی رپورٹ کے اعتبار سے دیکھیں تو دسمبر 2024 میں شیواجی نگر جنکشن کے قریب ایک 25 سالہ موٹرسائیکل سوار ایک بیسٹ بس سے تصادم کے بعد جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اسی مقام پر، ایک 9 سالہ بچہ بی ایم سی کے کچرا اٹھانے والے ٹرک کی زد میں آ کر جاں بحق ہوگیا۔ یہ واقعات علاقے میں جامع حفاظتی اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
اساتذہ اور والدین روز بروز ان خطرناک حالات پر اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ پیدل چلنے کے مناسب انتظامات کی کمی اور تیز رفتار گاڑیوں کی آمدورفت حادثات کے خطرے کو مزید بڑھا رہی ہے۔ مہاراشٹرا روڈ سیفٹی نیٹ ورک پہلے ہی ان خطرات کی نشاندہی کر چکا ہے، اور انہوں نے تجویز دی ہے کہ اسکولوں کے قریب ایسی جگہوں کو "بلیک اسپاٹ” قرار دیا جائے تاکہ حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی جا سکے۔ اِس نوع کے اعتبار سے یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ والدین کی ایک بڑی تعداد محض حفاظتی اقدامات کا منظم نظم نہ ہونے کے باعث اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے روک رہے ہیں اور اس وجہ سے بچوں کا بے پناہ تعلیمی خسارہ ہوتا جا رہا ہے۔
ہم اساتذہ ایسا محسوس کرتے ہیں کہ اسکول زونز میں حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:
* رفتار کم کرنے کے اقدامات: اسکول کے قریب گاڑیوں کی رفتار کم کرنے کے لیے سپیڈ بریکر، رمبل اسٹرپس، اور واضح نشانات نصب کیے جائیں تاکہ بڑی تعداد باآسانی گزر سکے ۔
* فٹ اوور بریج کی تعمیر: شاہراہ پر ایک فٹ اوور بریج کی تعمیر ایک اہم اور مستقل حل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ کو سڑک پار کرنے کے دوران گاڑیوں کے خطرے سے بچایا جا سکتا ہے۔ طلباء اور راہگیر آسانی سے اپنی اپنی منزلوں کی طرف آ جا سکتے ہیں۔
* پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص راستے: طلبہ کے لیے محفوظ چلنے کے راستے فراہم کیے جائیں یا راستوں کی اس اعتبار سے تقسیم کی جائے کہ طلباء اور گاڑیوں کا کم سے کم سابقہ پڑسکے۔
* محفوظ کراسنگ کا انتظام اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی: زیبرا کراسنگز کے واضح نشانات اور مناسب روشنی کے انتظامات کیے جائیں اور پولیس اہلکار کو باقاعدگی سے تعینات کیا جائے، خصوصی طور پر اسکول شروع ہوتے اور چھوٹتےوقت۔
عوامی شمولیت: طلبہ، والدین، اور مقامی رہائشیوں کے ساتھ روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ لوگ مزید محتاط رہ سکیں۔
ممبئی کے دیگر علاقوں میں ایسے اقدامات کی کامیابی کو دیکھا جا چکا ہے۔ مثال کے طور پر،22 جنوری 2022 کی دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بائیکلہ میں ایک پائلٹ پروجیکٹ نے بی ایم سی، ٹریفک پولیس، اور روڈ سیفٹی تنظیموں کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے اسکول زونز کو محفوظ بنایا ہے۔
7 جون 2023 کو وجے کمار یادو کی دی انڈین ایکسپریس میں ایک رپورٹ کے حوالے سے مہاراشٹرا میں پیدل چلنے والوں کی اموات کی تعداد 2022 میں 2894 انرول کی گئی۔ اس کے پیش نظر، یہ ضروری ہے کہ حکام فوری اقدامات کریں تاکہ شیواجی نگر نمبر 1 کیمپس کے طلبہ کو محفوظ بنایا جا سکے۔
حفاظتی مداخلتوں کو نافذ کر کے مزید حادثات کو روکا جا سکتا ہے اور ہمارے بچوں کے لیے جو ہمارے ملک کا مستقبل ہیں، آنے والے وقت میں ہم ان ہی میں کسی کو ڈاکٹر، انجینئر، بیوروکریٹ ، تاجر، ادیب، انشاء پرداز، سماجی کارکن ، سیاسی خدمتگار اور دیگر شعبوں میں اپنی خدمات انجام دیتے دیکھ رہے ہوں گے ۔ہمارے مستقبل کی بہتری کے لیے محفوظ اور منظم ماحول فراہم کیا جا نا از حد ضروری ہے۔
شیواجی نگر ایم پی ایس نمبر 1 کے بلڈنگ انچارج جناب انصاری اسماعیل ابراہیم نے کہا:
"شیواجی نگر سگنل کے قریب طلبہ کی حفاظت فوری اور لازمی توجہ کا متقاضی مسئلہ ہے۔ یہاں کے خطرناک ٹریفک کی صورتحال ہمارے معصوم بچوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہے۔ اگر فٹ اوور بریج تعمیر کیا جائے تو اسکول کی دیوار سے متصل 20 فٹ کی جگہ موجود ہے، جہاں بآسانی 6 فٹ کی چوڑائی میں بریج تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ کو فوری طور پر حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، والدین اور طلبہ کو بھی ٹریفک قوانین کی آگاہی دی جائے تاکہ وہ محتاط رہیں اور حادثات سے بچ سکیں۔”
مکرمی! ہم متعلقہ حکومتی اداروں، سماجی کارکنان، سیاسی اہلکاروں، اور دیگر ذمہ داران سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر حل کریں۔ ماہرین سے مشاورت کے ذریعے مؤثر حل ترتیب دیے جائیں اور فوری طور پر نافذ کیے جائیں۔ ہم حکومت سے خصوصی طور پر درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس سنگین صورتحال کو سنجیدگی سے لے اور ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے تاکہ طلبہ کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ہمیں امید ہے کہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا، اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل یقینی بنایا جائے گا۔
عبید الرحمٰن عبد العظیم (معلّم، شیواجی نگر ایم پی ایس اُردو نمبر 1)
