Skip to content
ظریفانہ : لوٹ کے بدھو گھر کو آئے
—————-
ازقلم :ڈاکٹر سلیم خان
—————–
للن بولا کلن سے یا ر اب اپنے وزیر خارجہ جئے شنکر سے کچھ نہیں ہوتا ۔ مجھے تو لگتا ہے ان کی چھٹی کردینی چاہیے۔
کلن سوامی نے جواب دیا بھیا اس بیچارے کی کیا غلطی ؟ اس کو کام ہی ایسا سونپا گیا جو کسی کے بس میں نہیں تھا ۔ یہ تو ان کا قصور ہے ۰۰۰۰
للن سنگھ بیچ میں بول پڑا یعنی تم گھوم پھر کر جئے شنکر کی ناکامی کے لیے پردھان جی کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہو؟ کیوں؟؟
ارے بھائی تم نے نہیں سنا ’بوئے پیڑ ببول کے تو آم کہاں سے پائے؟‘ پردھان جی اپنے ببول کے پیڑ سے آم لانے کے لیے بھیجیں گے تو کیا ملے گا؟
اپنے آدمی کی اتنی حمایت ٹھیک نہیں ۔ کوئی وزیر خارجہ دورہ کر کے بھی ایک معمولی دعوتنامہ نہ لاسکے تو اسے اپنے عہدے پر رہنے کا حق نہیں ہے۔
یہ دعوتنامہ اتنا ہی معمولی تھا تو لانے کے لیے وزیر خارجہ کو کیوں بھیجا؟
چلو مانا کہ کہ معمولی نہیں قیمتی تھا تب بھی اس کو لانے میں ناکام ہوجانے والے کو سزا تو ملنی ہی چاہیےنا؟
دیکھو بھائی پہلے تو وزیر خارجہ کو دعوتنامہ لانے کے لیے بھیجنا ہی غلط تھا اور اگر امکانات پر غور کرلیا جاتا تو یہ فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔
للن نے پوچھا تو کیا تمہارا مطلب ہے بغیر سوچے سمجھے یہ قدم اٹھا لیا گیا ؟
اور نہیں تو کیا پردھان جی سوچتے ہیں ’مودی ہے تو (کچھ بھی) ممکن ہے‘ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ شیطان بھی خود کو بھگوان سمجھ سکتا ہے۔
اچھا یار یہ بتاو کہ کیا یہ احسان فراموشی نہیں ہے کہ پردھان جی نے تو امریکہ جاکر ببانگِ دہل اعلان کردیا تھاکہ ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘۔
کلن نے جواب دیا جی ہاں انہوں نے تو احمدآباد بلا کر ’نمستے ٹرمپ ‘ بھی کہا تھا لیکن نتیجہ کیا نکلا ٹائیں ٹائیں فش ،ا س کے باوجود ٹرمپ ہار گئے ۔
ارے بھائی انسان کوشش ہی تو کرسکتا ہے ۔ نتیجہ تھوڑی نا نکال سکتا ہے۔
یہ ہوئی نا سمجھداری کی بات لیکن اگر ٹرمپ اس وقت جیت جاتا تو تم لوگ کہتے کہ ہمارے پردھان جی نے اسے فتح مند کردیا ۔
للن نے کہا چلو مان لیا اس وقت نہ سہی تو ابھی جیت گیا اس لیے کیااسے اپنے دیرینہ دوست کو یاد نہیں کرنا چاہیے ؟
دیکھو بھائی اس بار وہ بیرونِ ملک سے آنے والوں دراندازوں کے خلاف جذبات بھڑکا کر جیتا ہے ۔ اسے ہندوستانیوں کو واپس بھیجنا ہے کیا سمجھے ؟
اسی لیے تو پردھان جی کا وہاں جاکر اسے سمجھانا بہت ضروری تھا ۔
وہ سمجھنا نہیں چاہتا اور سکھوں نے جئے شنکر کے خلاف ہندوستانی سفارتخانے و امریکی وزارت خارجہ کے سامنے مظاہرے کرکے کھیل بگاڑ دیا۔
ہاں یار پولیس نے ان خالصتانی مظاہرین کوکھدیڑا کیوں نہیں؟ ٹرمپ کو شاہ جی سے سیکھنا چاہیے کہ کس طرح احتجاج سے نمٹا جاتا ہے ؟
بھیا یہ تم جسے خوبی سمجھتے ہو دنیا کی نظر میں وہ عیب ہے ۔ اسی سرکار ی جبر واستبداد نے دنیا بھر میں اپنے ملک کا نام بدنام کردیا ہے ۔
لیکن پھر بھی خالصتانیوں کو اس طرح مظاہرہ کرنے کی اجازت دینا کیونکر درست ہے؟
دیکھو بھائی ایک امریکی شہری گروپتونت سنگھ پنوں کے قتل کا مقدمہ امریکہ میں چل رہا ہے اس میں نکھل گپتا نامی ایجنٹ گرفتار ہوچکا ہے۔
للن بولا تو کیا ہوا ؟ ایسے کئی ایجنٹ گرفتار ہوتے رہتے ہیں ۔
اس مقدمہ میں اجیت ڈوبھال سے لے کر امیت شاہ تک سب ماخوذ ہیں اور اسے کناڈا میں ہردیپ نجر کے قتل سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔
ارے بھائی نجر اور پنوں ہندوستانی ہیں ، انہوں نے اپنے ملک کے خلاف بغاوت کی تو ان کو سزا دینے کا ہمیں حق ہے۔ اس میں غلط کیا ہے؟
للن بھیا وہ ہندوستانی تھے لیکن اب امریکی و کینیڈین شہری ہیں ۔ کیا ہم کسی کو ہندوستان کی سرزمین پر قتل و غارتگری کی اجازت دیں گے؟
اچھا تو کیا وہ احتجاج اس لیے تھا ؟ تب تو امریکہ کا انتظامیہ اس کو روک نہیں سکتا لیکن اس کا دعوتنامہ سے کیا تعلق ؟ ٹرمپ نے بلایا کیوں نہیں؟؟
اس کی کئی وجوہات ہیں۔ امریکہ کے اندر مذہبی آزادی کی نگرانی کرنے والے ایک آزاد ادارہ کی رپورٹ کو ہماری سرکار نے مسترد کردیا ۔
للن نے سوال کیا اچھا ۔ اس میں کیا تھا ؟؟
وہی سب جو ہم لوگ آئے دن اخبارات میں پڑھتے ہیں ۔ ہجومی تشدد، مسجدوں اور گرجا گھروں پر حملے ، بلڈور نا انصافی وغیرہ ۔
ارے بھائی یہ تو ہمارا داخلی معاملہ ہے۔ اس میں کسی کو مداخلت کا کیا حق ہے؟
ٹھیک ہے مگر کسی رپورٹ کو بلا کسی وضاحت اور ثبوت کے جانبدار کہہ کر مسترد کردینا تو داداگیری ہے ۔ اس سے ملک کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔
للن بولا اچھا تو تم ہی بتاو کہ شبیہ کو درست کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟
بھیا اگر وہ حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے آنا چاہتے ہیں تو اجازت دے کر اچھا سلوک کیا جائے تاکہ سرکاری موقف بھی اس میں آجائے۔
للن نے تائید کی جی ہاں اتنا تو کرنا ہی چاہیے ۔ ویسے بھی سب کچھ اخبار اور ٹیلی ویژن پر آہی جاتا ہے۔
ہماری سرکار نے اس ادارے کے لوگوں کو ویزا تک نہیں دیا ۔ وہ بھی ٹھیک ہوا ورنہ اگر انہیں گرفتار کرلیتےیا مارپیٹ ہوجاتی تو بڑی کرکری ہوتی۔
للن بگڑ کر بولا یار غضب کرتے ہو کیاتم اپنی سرکار کو اتنا بیوقوف سمجھ رکھا ہے؟ لیکن کیا ہم اپنے خلاف کسی رپورٹ کو مسترد بھی نہیں کرسکتے؟
لیکن پھر انہیں بھی تو حق ہے کہ ہمیں دعوت دیں یا نہ دیں ؟اگر ہم اتنے خود دار ہیں تو کٹورا لے کر جئے شنکر کو دعوتنامہ کے لیے کیوں بھیج دیا؟
ارے بھائی ہم وشو گرو ہیں اس لیے پردھان جی کا وہاں اس تقریب میں جانا ضروری ہے۔
کلن بولا بھیا وشوگرو تو وہ ہوتا ہے جسے پوری دنیا اپنا قائد تسلیم کرے ۔ خود ساختہ وشو گرو کو کوئی نہیں پوچھتا۔ یہ تو جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے۔
للن نے پوچھا یہ ’کرنی اور بھرنی ‘ والی بات سمجھ میں نہیں آئی۔
کیا تمہیں یاد ہے پچھلی بار جو بائیڈن ہندوستان آئے تو ہماری سرکار نے انہیں پریس کانفرنس تک کرنے کی اجازت نہیں دی ۔
للن نے سوال کیا جی ہاں لیکن جو بائیڈن کی توہین سے تو ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش ہونا چاہیے کیونکہ اسی نے ان کو ہرا کر اقتدار سے بے دخل کیا تھا ؟
دیکھو بھیا اس وقت جو بائیڈن امریکہ کے صدر تھے اس لیے وہ ایک فرد کی نہیں پوری قوم کی توہین تھی اس کو ٹرمپ کیسے برداشت کریں گے؟
جی ہاں میں نے اپنے پردھان کے سوا کسی ملک کے سربراہ کو پردیس میں جاکر اپنے پیشرو پر تنقید کرتے نہیں سنا ۔ وہ اس کاخوب خیال رکھتے ہیں ۔
اچھا یہ بتاو کہ امریکہ کا سب سے بڑا دشمن تو چین ہے مگر ٹرمپ نے وہاں کے سربراہ شی جن پنگ کو دعوت دے دی مگر ہمیں نہیں بلایا ؟
کلن تمہارے اس سوال کا جواب مجھے ایک روسی ٹیلی ویژن سیریل (ڈرامہ) میں ملا ۔
اچھا تو کیا وہ اردو میں تھا ؟ یا تمہیں بھی ڈاکٹر ظ انصاری کی طرح روسی زبان آتی ہے۔
جی نہیں وہ روسی میں تھا اور مجھے روسی نہیں آتی مگر پیچھے سے اردو کمنٹری چل رہی تھی اور نہیں بھی ہوتی تو معاملہ سمجھ میں آجاتا۔
اچھا وہ کیسے؟ اور اس ڈرامے میں کیا تھا ؟
اس کے اندر ساڑی میں ملبوس ایک خاتون کا نام بھارت تھا ۔ ڈرامہ میں یہ دکھایا گیا تھا کہ امریکہ اور روس دونوں اس سے بیاہ رچانا چاہتے ہیں۔
للن خوش ہوکر بولا اچھا یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ دونوں بڑی طاقتوں کو پردھان جی کی خارجہ پالیسی نے اپنا گرویدہ کرلیا ہے۔
جی نہیں! ڈرامہ میں جب روس کہتا ہے کہ اسے کیوں اس سے بیاہ رچا لینا چاہیے تو بھارت اس کے قریب آجاتی ہے۔
یہ تو فطری بات ہے ؟
لیکن پھر جب امریکہ اپنے سے شادی کے فائدے بتاتا ہے تو اس کی جانب راغب ہوجاتی ہے۔
للن نے کہا یہی تو پردھان جی کا کمال ہے کہ انہوں نے دونوں کے درمیان توازن بناکر رکھا ہوا ہے۔
کلن بولا اس نام نہادتوازن کو امریکی مفاد پر ستی اور ابن الوقتی گردانتے ہیں ۔
ہاں تو ہمیں اپنے قومی فائدے کے لیے یہ کرنا چاہیے؟ روس سےسستا تیل ملے تو کیوں نہ لیں ؟؟ اور اپنا مال امریکہ کو کیوں نہ بیچیں ؟؟؟
جی ہاں یہ تمہاری اور پردھان جی کی سوچ ہے مگر امریکیوں کی نظر میں ہم اپنے فائدے کے لیے کسی بھی جانب لڑھکنے والے تھالی کے بیگن ہیں ۔
خیر جو بھی ہیں لیکن چین سے تو ہماری حالت بہتر ہے۔ اس کو دعوت مل گئی اور ہمیں نہیں ملی یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
ارے بھیا ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حلیف اور حریف دونوں کو بلائیں گے اور ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم نہ حریفوں میں ہیں اور نہ ۰۰۰۰۰
بس بس سمجھ گیا ۔ تم بھی ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی طرح ایس جئے شنکر کو بیرا کہنے والوں میں سے ہو؟
جی نہیں ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کے مطابق گزشتہ سال مودی نے ٹرمپ کی دعوت ٹھکرانے کا اعلان کرکے رسوا کیا تھا ۔کیا وہ انتقام نہیں لیں گے؟
ارے تو کیا ہوا؟ مودی نے ٹرمپ کی بیوی میلانیا اور بیٹی ایوانکا کو 2760 اور2450 ڈالرس کے کنگن بھی تو تحفے میں دئیے تھے ۔
مجھے پتہ ہے اس کے علاوہ ہندوستانی ٹیکس دہندگان کےخزانے سے مزید 16تحفوں پر بھی کروڈوں لٹا دئیے ۔
جی ہاں وہی تو میں کہہ رہا تھا کہ ان احسانات کا بھی تو کچھ خیال رکھنا چاہیے۔
ارے بھیا لیکن ٹرمپ کی ناراضی جِل بائیڈن کو دئیےجانے والے سب سے مہنگے تحفے سے ہو سکتی ہے۔
اچھا تو وہ کیا تھا؟
بھیا مودی جی نے اپنی شان بگھارنے کے لیے جِل بائیڈن کو 17؍لاکھ کا ہیرا تحفے میں دے دیا ۔ اب اس سے ٹرمپ حاسد ہوجائے تو کیا غلط ہے ۔
یار کلن اپنی زوجہ یشودھا بین کی حق تلفی کرنے والے پردھان جی کا کسی اور کی بیوی کو اتنا مہنگا تحفہ دے دینا واقعی شرمناک ہے۔
کلن بولا اچھا تو اب سمجھ میں آیا کہ کس کی بددعا سے ’لوٹ کے بدھو گھر کو آئے؟‘
Post Views: 370