Skip to content
دہلی کی سیاست : عآپ سے باپ تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
عام آدمی پارٹی ایک دلچسپ پوسٹر نکالا جس میں شادی کےگھوڑے پر چھتری تو لگی ہے مگر دولہا غائب ہے۔ اس کے ساتھ سوال کیا گیا کہ ’اپنے دولہے کا نام تو بتائیے‘؟ اس سوال کا بلا واسطہ جواب وزیر اعلیٰ کے خلاف بی جے پی امیدوار رمیش بدھوری کی بدزبانی نے یہ کہہ کر دیا کہ ’اب تو آتشی نے اپنا باپ بدل دیا‘۔ برہمچریہ یعنی تجرد کی قائل سنگھ کے سنسکاروں پر پلی بڑھی بی جے پی کی بارات میں رمیش بدھوری سے اچھا دولہا کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔رمیش بھدوری نے اپنے نہایت بھدے بیان سے مودی بھگتوں کا دل جیت لیا ۔ برسوں سے نفرت کی شراب نے ایک ایسی بدمعاشوں کی ٹولی تیار کردی ہے جو اسی طرح کی گالی گلوچ سے خوش ہوجاتی ہے ۔ ان لوگوں کے نزدیک تو اب یہ فیصلہ ہوگیا کہ اگرخدا نخواستہ دہلی میں کمل کھل جائے تو اتفاق رائے سے رمیش بھدوری ہی وزیر اعلیٰ ہوں گے ۔ بی جے پی نے اگر کسی اور کو نامزد کردیا تو بعید نہیں کہ وہ لوگ بغاوت کردیں اور رمیش بھدوری کے حق میں احتجاج کرنے لگیں ۔ اس لیے کہ اخلاقی سطح پر اس سے نیچے کسی اور کا گرنا مشکل ہے اور سنگھی سنسکار میں جو اخلاقی سطح جتنا نیچے گرتا ہے اس کا سیاسی قد اتنا ہی اونچا ہوجاتا ہے ۔ اس کی زندہ مثالیں خود وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ ہیں۔ ان کے علاوہ اترپردیش میں یوگی ادیتیہ ناتھ اور آسام کے ہیمنتا بسوا سرما بھی کوئی کم نہیں ہیں ۔ بہار کے گری راج سنگھ، کرناٹک میں تیجسوی سوریا اور مہاراشٹر میں نتیش رانے جیسے نہ جانے کتنے بدزبان قطار میں ہیں ۔ ہرکوئی بدتمیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔
رمیش بھدوری نے جب ایوان پارلیمان میں لوک سبھا کے رکن دانش علی کو ’’مسلم دہشت گرد، ’’بھروا‘‘ (طوائفوں کا دلال) اور ’’کٹوا‘‘ یعنی ختنہ شدہ کہہ کر گالی دی تو وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اپنی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے معافی مانگنی پڑی ۔ بی جے پی نے اس رمیش بھدوری کو معطل تونہیں کیا مگر اس کا انتخابی ٹکٹ کاٹ کر سیاسی خصی بنادیا ۔ بھدوری نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’یہ ملاّ دہشت گرد ہے، باہر پھینکو نا اس ملے ّکو‘‘۔ بھدوری کی بدزبانی پر سابق مرکزی وزیر صحت اور بی جے پی دہلی کے رہنما ہرش وردھن ہنستے اور خوش ہوتے دکھائی دئیے ۔ پارٹی نے ان دونوں کو ٹکٹ سے محروم کرکے ایوان پارلیمان سے باہر پھینک دیا ۔ پارلیمانی انتخاب میں غیر متوقع ناکامی کے بعد بی جے پی کو احساس ہوا کہ بھدوری جیسے لوگوں کے بغیر دہلی کا صوبائی انتخاب نہیں جیتا جاسکتا ۔ اس لیے کفارہ ادا کرنے کی خاطر اسے آتشی مارلینا سنگھ کے خلاف میدان میں اتار دیا گیا تاکہ وزیر اعلیٰ کو ہرانے والے کے لیے وزارت اعلیٰ کی کرسی کا جواز نکل سکے ۔ بھدوری کی بدتمیزی کے وقت رکن پارلیمان اسدالدین اویسی کی پیشنگوئی کہ بھدوری کو دہلی میں وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنایا جائے گا سچ ثابت ہوئی۔ دانش علی کی توہین پر خاموش رہنے والے عآپ رہنماوں کو اب راحت اندوری کا یہ شعر یاد آرہا ہوگا ؎
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر سبھی زد میں یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
رمیش بھدوری نے پہلے تو کالکا جی کی سڑکوں کو پرینکا گاندھی کے گالوں کی مانند بنا دینے کا اعلان کیا ۔ اس پر ہنگامہ ہوا تو کہا کہ کانگریس پارٹی کی سرکار میں شامل لالو پرساد یادو نے بہار کی سڑکوں کو ہیما مالنی کے گال کی طرح چکنا بنانے کی بات کی تھی اس لیے جب تک لالو اور کانگریس معافی نہیں مانگتے وہ اپنے بیان پر قائم رہیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ کیابی جے پی کی ساری خاتون سیاستدانوں کے گال اتنے کھردرے ہیں جو ان کی مثال نہیں دی جاسکتی ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس طرح کسی کے بارے میں کوئی بھی بولے تو وہ مذموم حرکت ہے اور اس کی مذمت میں تفریق و امتیاز نہیں ہونا چاہیے ۔ دوسری جماعتوں کو تو خیر ایسی غلطی کے بعد ندامت ہوبھی جاتی ہے مگر بی جے پی کے ڈھیٹ لوگ نادم نہیں ہوتے کیونکہ انہیں اعلیٰ کمان کے ساتھ نچلی سطح کے کارکنان کی بھی حمایت حاصل ہوتی ہے لیکن اس بار رمیش بھدوری کی زبان کچھ لمبی پھسل گئی۔ اس نے کہہ دیا کہ ’اب تو آتشی نے اپنا باپ بدل دیا ۔ وہ مارلینا سے سنگھ ہوگئی‘۔ اس کے بعد پانی سر سے اس قدر اونچا ہوگیا کہ اس کو معافی مانگنی پڑی ۔
رمیش بھدوری کے اس قابلِ اعتراض بیان پر عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج کو 1992 کی فلم ’جو جیتا وہی سکندر‘ یاد آگئی۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں کلبھوش کھربندا اسپورٹس ٹیچر تھے اور وہ کہتے ہیں ’جو جیتا وہی سکندر‘ جب انتخاب کے نتائج آئیں گے تو پتہ چل جائے گا کون کس کا باپ ہے؟ یہ فلم چونکہ بہت پرانی ہے اور بھاردواج نے بچپن میں دیکھی تھی اس لیے وہ بھول گئے ۔ فلم میں کلبھوشن کھربندا یعنی رام لال شرما جیتنے والےکھلاڑی سنجے شرما کا باپ یعنی عام آدمی پارٹی کا اروند کیجریوال ہے۔ فلم میں اسکول ٹیچر دوبے کا کردار نبھانے والا اسرانی ان سے کہتا ہے ’رام لال جی آج میں بھی مان گیا جو جیتا وہی سکندر‘ لیکن یہ معیار درست نہیں ہے۔ کسی کے سکندر ہونے کا دارومدار اس کی جیت ہار پر نہیں ہوتا ۔ پورس نے سکندر سے جنگ ہار کر بھی بازی جیت لی تھی۔ کل کو اگر بی جے پی انتخاب جیت جائے اور رمیش بھدوری یا اس جیسے کسی بندر کو وزیر اعلیٰ بنادے تب بھی وہ سکندر نہیں بن سکتا ۔ اس کو وہ شہرت اور ناموری نہیں مل سکتی جو وزیر اعلیٰ کے طور پر اروند کیجریوال کو حاصل ہوئی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے عآپ کو آپدا یعنی ناگہانی آفت کہا تو اس کے جواب میں کیجریوال بولے ’دہلی میں نہیں بی جے پی میں آپدا آئی ہوئی ہے‘۔ ان کے مطابق بی جے پی دہلی میں تین عدد آپداوں سے جوجھ رہی ہے۔ پہلی تو یہ ہے کہ اس کے پاس وزیر اعلیٰ کا چہرا نہیں ہے۔ یہ بالکل درست بات ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو بی جے پی کو مودی کے چہرے پر دہلی کا انتخاب نہیں لڑنا پڑتا ۔ یہ حقیقت بھی اب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ جب بی جے پی کے پاس سینی یا فڈنویس جیسا علاقائی چہرا ہوتا ہے تو وہ ہریانہ اور مہاراشٹر میں انتخاب جیت جاتی ہے ۔ اس کے بغیر جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں مودی کے چہرے پر اسے ناکامی ہاتھ آتی ہے۔دہلی میں بی جے پی کے سارے چہرے اتنے بدنما ہیں کہ ان کو چھپانا پڑتا ہے۔ ان میں سے ایک تو رمیش بھدوری ہے کہ جس کو وزیر اعلیٰ آتشی کے سامنے میدان میں اتارا گیا تو اس نے پارٹی کے چہرے پر ایسی کالک پوت دی کہ وہ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہی۔
اروند کیجریوال کے خلاف بی جے پی کو سابق رکن پارلیمان پرویش ورما کے سوا کوئی نہیں ملا۔اس نے پچھلے انتخاب میں شاہین باغ کے مظاہرین پر الزام لگایا تھا کہ : "یہ تمہارے گھروں میں گھس کر تمہاری بہن بیٹیوں کو ریپ اور قتل کریں گے”۔ اس کے بعد عارضی طور پر اسے انتخابی مہم سے ہٹانے کی نوبت آئی تھی ۔ اس کے پارلیمانی انتخاب میں بھی اسے ٹکٹ نہیں دیا گیا لیکن اب پھر اسی لنگڑے مگر منہ زورگھوڑے کو میدان میں لانا پڑا۔ کانگریس اور عآپ سے پارٹی میں شامل ہونے والے گہلوت اور لولی کو ٹکٹ دے کر بی جے پی نے اعتراف کرلیا کہ ایک زمانے میں دہلی کی سب سے مضبوط سمجھی جانے والی سیاسی جماعت فی الحال شدید قحط الرجال کا شکار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے وزیر اعلیٰ کا چہرا تو دور اسمبلی الیکشن لڑانے کے لیے پارٹی کے اندر سے مناسب امیدوار بھی نہیں مل رہے ہیں۔ اروند کیجریوال کے مطابق بی جے پی کے پاس بیانیہ کا فقدان ہے۔ اس کے ہاتھ میں کوئی ایسا سلگتا ہوا مسئلہ نہیں ہے کہ جسے بھنا کر انتخاب جیتا جا سکے ۔ ہندتوا کے معاملے میں پارٹی کے اندر کنفیوژن ہے۔ کبھی مساجد کے نیچے مندر ڈھونڈنے کی بات کرکے ہندو جذبات بھڑ کائے جاتے ہیں اور کبھی اجمیر کی درگاہ پر چادر بھجوا کر اس کا اثر زائل کیا جاتا ہے۔
کیجریوال کہتے ہیں کہ بی جے پی کے پاس ایجنڈا بھی نہیں ہے یعنی جب و ہ فلاح بہبود بمعنیٰ ریوڈیاں بانٹنے کی بات کرتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے عام آدمی پارٹی کی نقل کررہی ہے۔ آج کل ہر دوسرے دن عآپ پر اوٹ پٹانگ الزامات کی برسات کرنےوالے مودی کے جواب میں کیجریوال کہتے ہیں وزیر اعظم مودی اپنی ریلی میں 38 منٹ بولے اس میں سے 29 منٹ انہوں نے صرف دہلی والوں اور ان کی منتخب کردہ حکومت کو گالیاں دینے میں برباد کر دیئے۔ ایشوز پر بات نہیں کی۔ کیجریوال نے صوبائی اور مرکزی حکومت کی کارکردگی کا موازنہ کرکے بتایا کہ مودی سرکار کے پاس بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے اسی لیے وہ لوگ گالی گلوچ کرتے ہیں ۔مودی سے لے کر بھدوری تک سب کا یہی مسئلہ ہےجو ان کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔ رمیش بھدوری کی بدنما ویڈیو دیکھتے ہوئے بے ساختہ ناسخ کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا
Post Views: 258
Like this:
Like Loading...