Skip to content
کیجریوال اور آر ایس ایس: یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
عالمی سطح پر فی الحال ایک دلچسپ پریم کہانی چل رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کو اپنی تاجپوشی میں شرکت کی دعوت دے دی لیکن بیجنگ کو واشنگٹن جانے میں دلچسپی نہیں ہے۔ انہیں تو ہندوستا ن کی سرحدپھلانگ کر یہاں نئے ضلع بنانے کی پڑی ہوئی۔ اس کے برعکس ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ جانے کے لیے بیقرار ہیں مگر ڈونالڈ ٹرمپ ان کو بلا کر نہیں دیتے ۔ امریکہ ، ہندوستان اور چین کے درمیان فلم مقدر کا سکندرکی’ ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار ‘ والی صورتحال ہے۔ دہلی کے سیاسی افق پر بھی آر ایس ایس ، بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے بیچ بھی ایسا ہی پیار بھرا مثلث ہے۔ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی ہندوستان اور چین کی طرح ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں لیکن اس بیچ کیجریوال نے اچانک بھاگوت کو ایک محبت نامہ لکھ بھیجا ۔ یعنی جس طرح ٹرمپ پر مودی فدا ہیں اسی طرح کیجریوال بھاگوت پرڈورے ڈالنے لگے ۔پرانے یارِ غار بھاگوت بھی مودی سے ٹرمپ کی مانند خفا چل رہے ہیں لیکن سوال ہے آخر عآپ اور سنگھ کے درمیان یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟
دہلی اسمبلی کے انتخابات سے قبل عام آدمی پارٹی نے انڈیا محاذ سے اسی طرح نگاہ پھیر لی جیسا کہ ہاوڈی مودی کہنے والے ٹرمپ نے، نمستے ٹرمپ کرنے والے مودی کو نظر سے گرا دیا ۔ پہلے بھی انڈیا محاذ میں شامل عام آدمی پارٹی تنہا پنجاب اور ہریانہ میں کانگریس کے خلاف انتخاب لڑچکی ہے مگر نئے سال میں اس کے کنوینر کیجریوال نے ایک قدم آگے بڑھا دیا۔ انہوں نے یکم جنوری کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کو خط لکھ کر سیاسی گوگلی پھینک دی۔ انہوں نے موہن بھاگوت سے پوچھا کہ کیا بی جے پی کے ذریعہ کئے جانے والے "غلط کاموں” کی آر ایس ایس حمایت کرتا ہے؟ یہ بھی سوال کیا گیاکہ کیا پیسے بانٹنے والے بی جے پی لیڈروں اور ووٹر لسٹوں سے پوروانچلی اور دلت ووٹروں کے "بڑے پیمانے پر” غائب ہونے کو سنگھ نظر انداز کردے گا؟ اس پریم پتر کی نگاہیں آر ایس ایس اور نشانہ اس سے متاثر رائے دہندگان کی طرف ہے۔ کیجریوال یہ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں سنگھ کا بی جے پی کی حمایت کرنا درست نہیں ہے اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ووٹرس کو اس کا فرمان ٹھکرا دینا چاہیے۔
آر ایس ایس سے قبل اروند کیجریوال نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو خط لکھ کربی جے پی پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان کے حلقہ انتخاب میں ووٹر لسٹ کے اندر ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔ کیجریوال کے خطوط کا جواب نہ ای سی آئی نے دیا اورنہ آر ایس ایس نے مگر بی جے پی بیچ میں کود گئی۔ اس نے کیجریوال اور عآپ پر پلٹ کر الزام لگا دیا کہ وہ دہلی میں غیر قانونی روہنگیا اور بنگلہ دیشی باشندوں کو دستاویزات اور پیسے دے کر ووٹ بینک کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ بی جے پی دہلی کے سربراہ وریندر سچدیوا نے کہا کہ اکثر نئے سال کے پہلے دن کچھ مصمم ارادے کیے جاتے ہیں۔ اس لیےعآپ کنوینر اروند کیجریوال امسال جھوٹ بولنا بند کردیں ، اپنی بدعنوانی چھوڑ دیں ، بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کے نام پر جھوٹے وعدے کرنے سے گریز کریں اور جمنا کی حالت پر معافی مانگیں۔ سچدیوا نے کیجریوال سے دہلی میں شراب کی تشہیر بند کرنے اورملک مخالف طاقتوں سے چندہ لینا بند کرنے کا مطالبہ کیا۔کیجریوال کو بن مانگے بے شمار مشورے دینے والےسچدیوا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ خود اس سال کیا کریں گے اور کس سے پرہیز کریں گے؟
آر ایس ایس کا آج کل بڑا ڈیمانڈ ہے ۔ ایک طرف جھاڑو اور دوسری جانب کمل اس سے گہار لگا رہا ہے۔ بی جے پی کواچانک احساس ہوگیا کہ ہے وہ بالغ ہونے کے باوجود بیروزگار نوجوانوں کی مانند خود کفیل نہیں ہوسکی اور اب بھی اپنے سر پرست پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ یہ ہوا بنائی جارہی ہے کہ آر ایس ایس کی مدد سے بی جے پی کی ہریانہ اور مہاراشٹر میں بہتر کارکردگی رہی لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کیا کشمیر اور جھارکھنڈ میں سنگھ کے ہاتھ پیر ٹوٹ گئے تھے جو کمل نہیں کھل سکا ۔ حزب اختلاف نے تو بی جے پی کی جیت کے لیے ای وی ایم کی دھاندلی کو ذمہ دار ٹھہرادیا ہے۔ اروند کیجریوال جس وقت آر ایس ایس کو خط لکھ رہے تھے اس دوران مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش اور دہلی بی جے پی کے انچارج بیجیانت پانڈا پارٹی کے 70؍ اسمبلی حلقوں کے امیدواروں کی فہرست کا جائزہ لے رہے تھے ۔ . اس کے بعد شاہ نےآر ایس ایس کے ارون کمار کی توثیق سے حتمی فہرست وزیر اعظم مودی کی خدمت میں پیش کر دی ۔
بی جے پی اور عام آدمی پارٹی جس آر ایس ایس کو مکھن لگا رہے ہیں خود اس کے اندر ایک گھمسان چھڑا ہوا ہے۔ انتہاد پسند ہندو نوجوان موہن بھاگوت کو بزدل اور ہندوتوا کا دشمن کہہ رہے ہیں ۔ مساجد کے ائمہ کی تنخواہ روک کر کیجریوال جن ہندو مہنتوں کی ناز برداری کررہے ہیں وہ بھی موہن بھاگوت پر مسلمانوں کی خوشامدی سیاست کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ ایسے میں قوی امکان ہے کہ سنگھ کی سکہ بردار سیوک تو اروند کیجریوال کی جھولی میں نہ آئیں مگر آر ایس ایس مخالف مذہبی و سیکولر لوگ کیجریوال کا ساتھ چھوڑ کر کانگریس کا رخ کرلیں۔ منافقت سے ہر انسان کو چِڑ ھتا ہے الاّ یہ کہ اس کو شعورہی نہ ہو۔ موہن بھاگوت کے خلاف شعور کی بیداری کا کام کوئی اور نہیں خود سنگھ کے انگریزی ترجمان آرگنائزر نے کردیا۔بعد میں ڈانٹ پڑی تو معذرت چاہ لی مگر اپنے موقف سے رجوع نہیں کیا۔
اس نقصان کی بھرپائی کے لیےہندی جریدے پانچ جنیہ نے مندر مسجد تنازعہ پر موہن بھاگوت کی تائید کردی ۔ پانچ جنیہ نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ مسجد مندر تنازعہ کو دوبارہ اٹھانے پر سر سنگھ چالک کا حالیہ تبصرہ سماج کو دانشمندانہ مؤقف اپنانے کا واضح مطالبہ ہے۔ اس میں ملک کے اندرجاری غیر ضروری بحث اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی بابت خبردار کیا گیا ہے۔ اس طرح دوسروں کو ’بنٹو گے تو کٹو گے ‘ کہہ کر ڈرانے والے اب خود باہم بر سرِ پیکار ہیں ۔ بعید نہیں کہ اس سر پھٹول کی قیمت عآپ اور باپ یعنی بی جے پی دونوں چکانی پڑجائے۔آر ایس ایس میں پہلے بھی آپسی اختلافات ہوئے ہوں گے مگر سانجھے کی ہانڈی بیچ چوراہے پر پہلی بار پھوٹی ہے۔ اروند کیجریوال اسی دیوار میں پڑنے والی درار کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں اب اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
رمیش بھدوری کی بدزبانی اور اس پر آتشی و کیجریوال کے آنسووں کا سیلاب ہی خواتین کے ہاتھ سے کمل چھین کر جھاڑو تھمانے کے لیے کافی ہے۔ وہ اس قدر جذباتی ہوتی ہیں کہ اب ان کو لاڈلی بہنا کا لقب دے کر چاہے جتنے پیسے بانٹو اب کمل کے جھانسے میں نہیں آئیں گی ۔ ویسے مہاراشٹر میں بی جے پی کی حلیف شیوسینا کے رہنما سنجے گائیکواڑ نے رائے دہندگان کو گوشت ، شراب اور دو سے پانچ ہزار روپئے میں بکنے والی طوائف سے بدتر کہہ کر خواتین کی توہین کردی ۔ اس کے بعد خوددار خواتین کو اپنی غلطی کا احساس ہوچکا ہوگا ۔ یہ عجیب معاملہ ہے کہ ووٹ لینے کی خاطر پہلے پرویش ورما جیسے لوگ نوٹ بانٹتے ہیں اور ونود تاوڑے کی مانند رنگے ہاتھ پکڑے بھی جاتے ہیں مگر پھر روپیہ لینے والوں کی تضحیک کرتے ہیں ۔ووٹرس کی ایسی توہین اور آر ایس ایس کے اندر کی لڑائی کا باہر آجانا ہے نئے سال کی سب سے حیرت انگیز خبریں ہیں جن پر یہ شعر صا دق آتا ہے؎
پلٹ سی گئی ہے زمانے کی کایا
نیا سال آیا نیا سال آیا
اختر شیرانی منفرد لب و لہجے کے رومانی شاعر تھے ۔ انہوں نے نہ جانے کیا سوچ کر مندرجہ بالا شعر کہا جو 2025کے سیاسی تناظر پر پوری طرح منطبق ہوگیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ دہلی کی دھند نے سیاسی گلیارے کو پوری طرح ڈھانپ لیا ہے اور اس میں سےچونکانے والےاشارے نکل کر آ رہے ہیں ۔ اس کے حقیقت یا فسانہ ہونے کا فیصلہ آئندہ ماہ ہو جائےگا ۔ اس سال کی ابتدا میں خواجہ معین الدین چشی ؒ کی درگاہ پر چادر بھیجنے کا اعلان کرکے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوتوا نوازوں کو زبردست صدمہ دے دیا ۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے آر ایس ایس کے سامنے بی جے پی کو شکایت بھرا خط لکھا تو ایسا لگا کہ چھوٹا بھائی اپنے باپ کے سامنے بڑے بھائی کی شکایت کررہا ہے۔ اُدھر آر ایس ایس کے اندرمہا بھارت جاری ہے۔ پہلے اس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خلاف تنظیم کا انگریزی ترجمان آرگنائز ر نےاداریہ لکھا معافی مانگی اور پھر اس کے ہندی ترجمان پانچ جنیہ موصوف کی حمایت کردی۔ اس کنفیوژن پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
Post Views: 80
Like this:
Like Loading...
ڈاکٹر سلیم خان کا مضمون حسب سابق بہت خوب ہے۔اچھا تجزیہ ۔عمدہ اسلوب