Skip to content
مسجد پریچئے!
شمع فروزاں
ازقلم:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
مسجدیں اللہ کا گھر ہیں، یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے: المساجد بیوت اللہ والمؤمنون زوار اللہ (مسند دیلمی، حدیث نمبر: ۶۶۵۴، الجامع الکبیر للسیوطی، حدیث نمبر: ۱۱۸۴۸) اللہ کا گھر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مسجدوں میں وہی کام کئے جائیں گے، جن سے اللہ راضی ہوتے ہیں، دنیوی کام کاج چاہے وہ شرعا جائز ہوں، مسجد میں ان کو کرنا جائز نہیں ہے، جیسے: تجارت، ورزش، جائز ومباح کھیل، شعروسخن کی محفلیں جمانا وغیرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسجدوں میں بنیادی طور پر دو طرح کے کام کئے جاتے تھے، ایک: عبادت، دوسرے: دعوت، عبادت سے مراد ایسا عمل ہے جو خالصتاََ اللہ کی رضا کے لئے کیا جاتا ہو، اور جو اللہ کے سوا کسی اور کے لئے نہیں کیا جاتا ہو، جیسے : نماز، اعتکاف، تلاوت قرآن، ذکر دعاء وغیرہ۔
دعوت سے مراد ہے اسلام کی طرف بلانا، لوگوں کو دین حق سے مانوس کرنا، نیکیوں کی ترغیب دینا، برائیوں سے روکنا، دعوت کے اصل مخاطب تو وہ لوگ ہیں، جو ابھی دامن اسلام میں نہیں آئے ہیں، قرآن مجید میں ابنیاء کے اپنی قوم سے خطاب کے مضامین کثرت سے نقل کئے گئے ہیں، جن سے یہی بات واضح ہوتی ہے؛ لیکن جو لوگ اسلام کے دائرے میں آچکے ہیں اور ایمان کی نعمت ان کو حاصل ہو چکی ہے، ان کو اعمال صالحہ کی طرف بلانا بھی دعوت ہی کی ایک صورت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد نبوی میں مسلمانوں کو احکام شریعت کی تعلیم بھی دیتے تھے، قرآن مجید کی تلاوت بھی سکھاتے تھے، ان کے سوالات کے جواب بھی دیتے تھے، لوگوں کے حقوق کے بارے میں بھی ان کو بتاتے تھے، آپسی اختلافات کو حل کرنے کی ترغیب بھی دیتے تھے اور تدبیر بھی بتاتے تھے، یہ سب دعوت کی مختلف صورتیں تھیں۔
الحمد للہ مسلمانوں کو عمل صالح کی دعوت کا سلسلہ مسجدوں میں ہمیشہ سے قائم ہے، خطباء کے بیانات ، قرآن وحدیث کے دروس، فقہی مسائل کی وضاحت، دینی اجتماعات ، الفاظ قرآنی کی تعلیم وغیرہ، جو مسجدوں اور خاص کر بر صغیر کی مسجدوں کے معمولات میں سے ہیں، یہ سب دعوت کی مختلف صورتیں ہیں، اور آج ہمارے معاشرہ میں جو کچھ دینی فضا قائم ہے، اس میں ان ہی کوششوں کا حصہ ہے؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ تمام کوششیں برادران اسلام میں ہو رہی ہیں، برادران انسانیت میں اس کام کو ہم نے مکمل طور پر فراموش کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ نفرت بڑھتی جا رہی ہے، دلوں کے فاصلے وسیع سے وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں؛ کیوں کہ باہمی تعارف سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اور فاصلے سمٹتے ہیں، اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
قرآن مجید میں خود یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ دعوت محبت کو جنم دیتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کا اثر ایسا ہوگا کہ تمہارے دشمن گہرے دوست بن جائیں گے: فاذا الذی بینک ونینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم (حٰم سجدہ:۳۴) اس کی واضح مثال ہمارے ملک میں صوفیاء کرام کی خدمات ہیں، خواجہ معین الدین اجمیریؒ، خواجہ نظام الدین اولیاؒ، خواجہ گیسو درازؒ اور ملک بھر میں جن بزرگوں کے مزارات ہندوؤں اور مسلمانوں کا مرکز توجہ ہیں، یہ سب اپنے عہد کے اعلیٰ درجہ کے مبلغ اور داعی تھے، ان کے اخلاق، انسانیت نوازی ، بلند کرداری اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر اتنی بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے کہ جن کا شمار بھی دشوار ہے اور ایسے علاقوں میں اسلام کی اشاعت ہوئی، جو مزاج کی شدت اور اخلاق کی درشتی کے اعتبار سے مشہور زمانہ تھے، جیسے: راجستھان، میوات وغیرہ؛ لیکن ان کی خاموش دعوت نے لوہے کے دلوں کو موم کی طرح پگھلا دیا، اور آج بر صغیر میں جو مسلمان آباد ہیں، ان کی بڑی تعداد ان ہی حق کے پرستاروں اور نو مسلموں کی نسل سے ہیں، بادشاہوں نے زمینیں فتح کیں اور دنیائے اخلاق کے ان بادشاہوں نے لوگوں کے قلوب کو فتح کیا، زمینی بادشاہت تو ختم ہوگئی؛ لیکن قلب وروح کی بادشاہت ان بزرگوں کے دنیا سے گزر جانے کے بعد بھی آب وتاب کے ساتھ قائم ہے اور آئندہ بھی قائم رہے گی۔
دعوت صرف زبان اور قلم سے ہی نہیں ہوتی، عمل سے بھی ہوتی ہے، اور یہ دعوت زیادہ موثر ہوتی ہے، اس دعوت کا ہتھیار ہے: حسن اخلاق، اس کا نشانہ بہت کم چوکتا ہے، اور اگر مخاطب کو اپنا غلام بے دام نہ بنایا جا سکے تب بھی ضرور ہی ان کو نرم اور گداز کر دیتا ہے: ادفع بالتی ھيأحسن فاذ الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم (حم سجدہ: ۳۴)ملک کے موجودہ حالات میں برادران وطن تک اسلام کو پہنچانے اور اس کے لئے خاموش دعوت کا طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کی ایک صورت یہ ہے کہ ہم مواقع اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مسجدوں میں برادران وطن کو مدعو کریں، ان کو اذان کا مفہوم، سورۂ فاتحہ کا ترجمہ ، رکوع وسجدہ کی تسبیحات اور اذکار نماز کے معانی آسان زبان میں سمجھائیں، ان شاء اللہ اس کا غیر معمولی اثر ہوگا، مجھے اس سلسلے میں خود اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے، میں ایک بار ٹرین کے ذریعہ بہار سے حیدرآباد آرہا تھا، اور ان دنوں کسی وجہ سے ٹرین گھوم کر مدھیہ پردیش کے بعض علاقوں شاید رائے پور یا بلاس پور سے گزر کر حیدرآباد پہنچتی تھی، میرے ساتھ میرے بچے بھی تھے، جو اس وقت بہت کم سن تھے، جب ایک بڑے اسٹیشن پر ٹرین رکی تو ہماری کوچ میں جَین فیملی کے ایک صاحب اپنے بچوں کے ساتھ آکر بیٹھے، وہ ہماری صورت دیکھ کر بہت کھنچے ہوئے تھے، میں جب چھوٹے بچوں کے ساتھ سفر کرتا ہوں تو کچھ بسکٹ اور چاکلیٹ خرید کر ساتھ رکھ لیتا ہوں؛ تاکہ وہ ٹرین میں ادھر اُدھر کی غبار آلود چیزیں نہ کھائیں، میں نے اپنی نواسی کے ہاتھ میں چند چاکلیٹ دئیے، اور اشارہ کیا کہ اُن بچوں کو لے جا کر دو، بچے بھی اس کے ہم عمر تھے، ان کے بچوں نے لے لیا؛ کیوں کہ بچے تو بچے ہوتے ہیں، وہ میں اور تم کا امتیاز نہیں کرتے، پھر بچے آپس میں بات چیت کرنے اور کھیلنے لگے تو اُن صاحب کے انداز میں کسی قدر تبدیلی رونما ہوئی۔
آہستہ آہستہ وہ مجھ سے کچھ سوالات کرنے لگ گئے، اور بہت جلد مذہبی سوالات پر آگئے، انھوں نے کہا کہ آپ اتنے اچھے لوگ ہیں؛ لیکن پھر جیو (جاندار) کو کاٹ کر کیوں کھاتے ہیں؟ آپ کو نہیں لگتا کہ یہ بے رحمی کی بات ہے، میں نے کہا کہ ہم لوگ بھی خدا پر یقین رکھتے ہیں اور آپ بھی، اس دنیا کے پرمیشور نے یہی سسٹم بنایا ہے کہ اس کی ایک مخلوق دوسری مخلوق کے لئے خوراک کا کام کرے، اب آپ دیکھئے کہ جو پودے اور نباتات ہیں وہ بھی خدا کی مخلوق ہیں، اور موجودہ سائنس کہتی ہے کہ ان پودوں میں بھی حیات ہے، ان کے اندر احساس وشعور بھی ہے اور خوشی اور غم کے جذبات بھی ہیں، تو کیا ہم چاول، گیہوں کھانا چھوڑ دیں گے؟ ہم جو ایک گلاس پانی پیتے ہیں، اگر اس کو مائیکرو اسپیس سے دیکھا جائے جس کا میڈیکل ٹیسٹ کے لئے استعمال ہوتا ہے تو نظر آئے گا کہ سینکڑوں جراثیم اس میں تیر رہے ہیں، تو ا گر ہم قدرت کے اس نظام سے مُکر جائیں تو نہ کھانے کا ایک دانہ کھا سکیں گے اور نہ پانی کا ایک قطرہ پی سکیں گے، دنیا کی مخلوقات میں انسان چوں کہ سب سے اعلیٰ مخلوق ہے؛ اس لئے اس کو خوراک نہیں بنایا جا سکتا؛ لیکن درندے جانور ان کو بھی خوراک بنا لیتے ہیں اور یہ بات اللہ ہی نے ان کی فطرت میں ڈال رکھی ہے۔
وہ کافی خوش ہوئے، کوئی جواب تو نہیں دیا؛ لیکن کہا کہ میں نے تو اس طرح سوچا ہی نہیں تھا، پھرکہنے لگے کہ یہ جو آپ لوگ مسجد سے چیختے ہیں، اور پکار پکار کر’’ اللہ اکبر‘‘ کہتے ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ میں نے کہا : انسان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ جب بھگوان اس کو کوئی نعمت دیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے، دولت مند سمجھتا ہے کہ میری دولت بڑی ہے؛ اس لئے وہ غریبوں اور مزدوروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، حکمراں سمجھتا ہے کہ میری حکومت بڑی ہے، وہ رعایا کو نیچی نظر سے دیکھتا ہے، اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میری تعلیم کا د رجہ بڑا ہے، جتنے جاہل اور کم پڑھے لکھے لوگ ہیں، وہ معمولی درجہ کے ہیں، اُن کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، اور جب انسان دوسروں کو نیچی نظر سے دیکھتا ہے تو اس میں تکبر، اپنی بڑائی کا احساس اور دوسرے کی تحقیر کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے، دنیا میں جتنا ظلم ہوتا ہے، اس کا اصل سبب یہی ہے؛ اس لئے بار بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہلایا جاتا ہے کہ یاد رکھو ! پرمیشور بڑا ہے، نہ تمہاری دولت بڑی ہے ، نہ تمہاری عزت ، نہ تمہارا علم بڑا ، نہ تمہارا اقتدار، یہ سب چھوٹے ہیں، خدا بڑا ہے، یہ چیز انسان کو تکبر میں مبتلا ہونے سے بچاتی ہے، میں نے اس کے ساتھ ساتھ اذان کے دوسرے کلمات کی بھی وضاحت کی، انھوں نے بڑی توجہ سے سنا اور اخیر میں کہنے لگے کہ آپ نے تو لاکھوں کی بات بتا دی، مسجد کے ایک امام صاحب میرے دوست ہیں، ان سے میں نے کئی بار اس کا مطلب پوچھا؛ مگر انھوں نے نہیں بتایا، سکندرآباد میں جب ہم لوگ اترے تو وہ تلنگانہ کی اپنی کسی مذہبی زیارت گاہ پر جانا چاہ رہے تھے، باہر نکلے تو میری گاڑی آچکی تھی اور وہ لوگ گاڑی کے انتظام میں مشغول تھے، میں نے ان سے کہا کہ میں تو یہیں کا رہنے والا ہوں، مجھے اپنی منزل تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہے، ہم لوگ ایک آٹو لے کر چلے جائیں گے، آپ پہلی بار آئے ہیں اور آپ کو دور جانا ہے تو میری گاڑی لے کر چلے جائیں، ان شاء اللہ میرے ڈرائیور صاحب آپ کو بہت اچھی طریقہ پر پہنچا دیں گے، انھوں نے بہت شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ ہم لوگوں کے گرو ہیں، پھر انھوں نے اور ان کے رفقاء سفر نے اپنی تہذیب کے مطابق میرے پاؤں چھوئے اور کہنے لگا کہ ہم نے پہلے ہی سے گاڑی بک کرا لی ہے ، وہ چند منٹوں میں ہی آجائے گی، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سیدھی سادھی دو چار بھلی باتیں کہنے کا لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔
————
اسلام کے تعارف کے لئے سب سے اہم جگہ ہماری مسجدیں ہیں اور مسلمانوں کے اخلاق کے تعارف کے لئے سب سے بہتر جگہ ہمارے مدرسے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جب بنو ثقیف کا وفد آیا تو آپ نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا؛ تاکہ وہ مسجد کے نظام سے متأثر ہوں اور ان کو ہدایت دی کہ وہ ادھر اُدھر نہ جائیں :ان وفد ثقیف لما قدموا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أنزلھم المسجد لیکون أرق لقلوبھم فاشترطوا علی أن لا یحشروا…. الخ (سنن ابی داؤو، حدیث نمبر: ۳۰۲۶، السیرۃ النبویۃ لابن ہشام:۴؍۱۸۴) ہم لوگوں کے لئے چوں کہ مسجد جانا اور وہاں کے ماحول کو دیکھنا ایک معمول کی بات ہے؛ اس لئے اس ماحول کی اثر انگیزی کا احساس ہمارے دل ودماغ کے اندر پیدا نہیں ہوتا؛ لیکن جب برادران وطن یہاں آتے ہیں تو ان پر اس کا بڑا اثر پڑتا ہے، حیدرآباد میں جس ادارہ (المعہد العالی الاسلامی ) کی خدمت مجھ سے متعلق ہے، کورونا کے زمانہ سے پہلے ہم لوگ اس میں موقع بہ موقع غیر مسلم بھائیوں کو بلانے کا اہتمام کرتے تھے، ایک بار ایسے ہی ایک پروگرام میں گائیتری پریوار کے مذہبی قائدین اور ان کے متبعین کو دعوت دی گی، وہ بہت شوق سے آئے، ادارے کے ایک چھوٹے سے پارک میں ضیافت کے ساتھ ساتھ تلگو زبان میں اسلام کے تعارف کا پروگرام رکھا گیا، لوگوں نے بڑی دلچسپی سے سنا ، گہرے تأثرات کا اـظہار کیا، مغرب کا وقت ہوگیا، مسجد میں اذان ہوئی تو ان حضرات نے کہا کہ ہم آج تک کبھی مسجد کے اندر نہیں گئے اور نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، کیا ہم لوگ مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں؟ ہم لوگوں نے کہا : آپ کا استقبال ہے، آنے والوں میں بعض خواتین بھی تھیں، اور ان میں سے ایک کا تعلق میڈیا سے تھا، وہ کہنے لگیں کہ مولانا صاحب! مگر آپ مجھ کو تو مسجد میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے؛ کیوں میں ایک عورت ہوں اور آپ کے دھرم میں عورت مسجد کے اندر نہیں جا سکتی ، میں نے کہا : ایسا نہیں ہے، ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تو عورتیں مسجد میں نماز بھی ادا کرتی تھیں، عورتوں کی ذمہ داری کے اعتبار سے ان کی آسانی کے لئے اور موجودہ دور کے اخلاقی بگاڑ کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی سیکوریٹی کے لئے ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ گھر ہی میں نماز ادا کر لیں؛ لیکن عورتوں کے لئے مسجد میں داخل ہونے کی ممانعت نہیں ہے، آپ مسجد کا ماحول اور نماز کی کیفیت کو دیکھنا چاہتی ہیں تو ضرور تشریف لائیں، ہم لوگوں نے نماز کی صفوں کے پیچھے کرسیاں لگوادیں ایک خوش آواز طالب علم کو نماز کی امامت کے لئے کہا اور نماز کے بعد شعبہ انگریزی کے ایک طالب علم سے سورۂ فاتحہ کا ترجمہ کرایا، اور سنتوں کے بعد ان کو مسجد کا پورا ماحول دکھایا کہ یہاں صفائی ستھرائی کا کتنا اہتمام ہوتا ہے! سوائے قرآن مجید کے کوئی اور چیز یہاں نہیں ہوتی ، وہ لوگ حیرت سے ایک دوسرے کا منھ تک رہے تھے، وہ کہنے لگے کہ ہم لوگ سمجھتے تھے کہ مسجد میں کوئی بند کمرہ بھی ہوتا ہے، جہاں ہتھیار رکھے جاتے ہیں؛ مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے، وہ بہت متاثر ہو کر واپس ہوئے اور کہنے لگے : آج ہماری زندگی کا بہت اچھا دن تھا کہ ہمیں خدا کے گھر میں آنے کا موقع ملا۔
یہ بھی دعوت کا ایک خاموش طریقہ ہے اور آج اس کی ضرورت ہے ، بڑی بڑی مسجدوں میں بعض اوقات غیر مسلم سیاح سیاحت کی غرض سے آتے ہیں، ہم اس موقع کو بھی دعوت کے لئے استعمال کرسکتے ہیں، میں نے ملیشیا میں دیکھا کہ وہاں کئی بڑی مسجدوں میں غیر مسلم سیاحوں کے آنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور تربیت یافتہ مبلغین مختصر وقت میں ان سے اسلام کا تعارف کراتے ہیں اور منتظمین نے بتایا کہ اس سے متاثر ہو کر بہت سارے حضرات مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں، ضرورت ہے کہ ہم اپنے ملک میں بھی مسجد کا تعارف یا مسجد پریچے کے عنوان سے موقع بہ موقع غیر مسلم بھائیوں کو دعوت دیں، ان کو اذان اور سورۂ فاتحہ کا مفہوم سمجھائیں، اسلام کا تصور توحید اور اس کے نتیجے میں پروان چڑھنے والے مساوات کے نظریہ کو سمجھائیں، مسجد کی صفائی ستھرائی اور ماحول کی پاکیزگی کا ان کو مشاہدہ کرائیں، ان کو محبت کے دو بول کہیں ، ہو سکے تو ہلکی پھلکی ضیافت کر دیں، اگر ہم ایسا کریں گے تو یقین ہے کہ اللہ کے گھر کی کشش ان کو متاثر کئے بغیر نہیں رہے گی۔
بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ مسجدوں میں غیر مسلموں کا داخل ہونا درست نہیں ہے، پتہ نہیں یہ غلط فہمی کہاں سے پیدا ہوگئی؟ کسی خاص مصلحت سے یا مسجد کے تحفظ کے لئے غیر مسلموں کو کیا مسلموں کو بھی مسجد میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے؛ لیکن مسلمان نہ ہونے کی وجہ سے کسی کا داخلہ مسجد میں ممنوع نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں غیر مسلموں کے وفود مدینہ حاضر ہوتے تھے، آپ مسجد نبوی ہی میں ان کا قیام کراتے تھے، بنو ثقیف مشرک تھے، اُن کا وفد خدمت ِاقدس میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا اور ان کے قیام کے لئے اس طرح خیمے لگوائے کہ وہ مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں اور قرآن مجید کی تلاوت سنیں (مصنف عبدالرزاق، باب المشرک یدخل المسجد عن ابن جریج، حدیث نمبر: ۱۶۳۸) ضمام بن ثعلبہ ایک وفد کے ساتھ آئے، جن کا تعلق قبیلہ بنو سعد سے تھا، آپ نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا(صحیح بخاری عن انسؓ، حدیث نمبر: ۶۳) بنو نجران کے عیسائیوں کا وفد ساٹھ افراد پر مشتمل تھا، خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور کئی دنوں ان کا قیام رہا، آپ نے مسجد نبوی ہی میں ان کے قیام کا انتظام فرمایا (زاد المعاد:۳؍ ۵۴۹، شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ:۵؍ ۱۸۸) غزوہ بدر میں جو مشرکین قید کئے گئے، آپ نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا، ان میں جبیر بن مطعم بھی تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کی نماز میں سورہ طور کی تلاوت کر رہے تھے، مجھے ایسا لگا کہ اس تلاوت کو سن کرس میرا دل پھٹ جائے گا: فکأنما صدع قلبی لقرأۃ القرآن (السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر: ۴۴۰۲) ابو سفیان جو مشرکین مکہ کے سردار اور قائد تھے، اور اہل مکہ نے احد اور غزوہ خندق کی لڑائی ان ہی کی قیادت میں لڑی تھی، وہ مسلمان ہونے سے پہلے ایک بار صلح حدیبیہ کی تجدید کی بات کرنے کے لئے مدینہ آئے اور مسجد نبوی میں بھی داخل ہوئے: کان ابو سفیان بن حرب یدخل مسجد النبی وھو مشرک (المغنی لابن قدامہ:۸؍ ۵۳۲)
اسی لئے فقہاء کا بھی عمومی رجحان یہی ہے کہ مسلمانوں کی اجازت سے غیر مسلم حضرات مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں، فقہاء احناف کے نزدیک تو اس میں بہت وسعت ہے؛ لیکن اس سلسلے میں محتاط قول وہ ہے، جو فقہاء شوافع اور بعض حنابلہ کا ہے کہ حرم کی مسجدوں کے علاوہ دیگر مسجدوں میں مسلمانوں کی اجازت سے ان کے داخل ہونے کی گنجائش ہے: یجوز للکفار دخول المساجد باذن المسلمین الا المسجد الحرام وکل مسجد فی الحرم، والی ھذا ذھب الشافعیۃ (دیکھئے: روضہ الطالبین للنووی: ۱؍ ۲۹۶) حرم میں حرم مکی اور حرم مدنی دونوںکو شامل کیا جا سکتا ہے؛ البتہ ارض حرم کے بعض احکام جیسے شکار وغیرہ میں مکہ کے احکام مدینہ سے مختلف ہیں، اس بات کو سامنے رکھا جائے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حرمین شریفین کو چھوڑ کر دوسری مسجدوں میں مسلمانوں کی اجازت سے غیر مسلم بھی داخل ہو سکتے ہیں، حرمین شریفین کی مسجدوں میں غیر مسلموں کا داخلہ درست نہیں؛ کیوں کہ ۹ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا اعلان فرما دیا تھا: فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا (توبہ: ۲۸)
یہ تو اس مسئلہ کا شرعی پہلو ہے؛ لیکن اس میں جو مصلحت کا پہلو ہے وہ دوپہر کی دھوپ سے زیادہ روشن ہے، آج کل مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے خاص طور پر مسجد کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں، ان میں دو غلط فہمیاں بہت عام ہیں، اول یہ کہ مسلمان کہیں اور کسی بھی جگہ اور کسی کی زمین پر بھی مسجد تعمیر کر لیتے ہیں، یہ پروپیگنڈہ کچھ اس قدر کیا گیا کہ برادران وطن کی نظر میں یہ ایک مسلم حقیقت بن گئی، اس کے لئے ضرورت ہے کہ تاریخ سے تعلق اور دلچسی رکھنے والے دانش ور اور اہل علم کی ایک تعداد اس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے، جہاں جہاں اور جس جس مسجد پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے، وہ گہرائی کے ساتھ اس کی تاریخ کا مطالعہ کر یں، آثار قدیمہ کے ریکارڈ سے فائدہ اٹھائیں، خاص کر ہندو مورخین کی تحریروں کو کھنگالیں اور دلیل اور معقولیت کے ساتھ اپنی بات کو پیش کریں اور اس کو چھوٹے چھوٹے ورقیوں کی شکل میں خوب پھیلائیں، سوشل میڈیا پر اس کو نشر کریں اور غیر مسلم بھائیوں تک بھی اس کو زیادہ سے زیادہ پہنچانے کی کوشش کریں۔
دوسری غلط فہمی یہ پیدا کی جاتی ہے کہ مسجدیں دہشت گردی کا اڈہ ہیں، یہاں ہتھیار چُھپا کر رکھے جاتے ہیں، لوگوں کو اس کے استعمال کی ٹریننگ دی جاتی ہے،اگر برادران وطن کو صرف مسجد کا معائنہ کرادیا جائے، مسجد کے اعمال کے بارے میں بتا دیا جائے، وہ اپنی آنکھوں سے نماز کا طریقہ دیکھ لیں، اذان کا ترجمہ سن لیں تو ان شاء اللہ ڈھیر ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی، اور سوچ میں بہت فرق آئے گا، موجودہ حالات کے پس ِ منظر میں اس کو دعوت ِاسلام کا نام نہ دیا جائے، ملاقات اور زیادہ سے زیادہ تعارف ِ اسلام کا عنوان دیا جائے، تو ان شاء اللہ اس سے بڑی تبدیلیاں آئیں گی اور کم سے کم دلوں میں نرم گوشہ تو ضرور پیدا ہوگا۔
کاش مسجد کی انتظامی کمیٹیاں ، ائمہ وخطباء اور مسلمان اس پر توجہ دیں جو آسان بھی ہے اور جس میں کوئی خطرہ بھی نہیں ہے، اللہ کرے کہ یہ حقیر آواز لوگوں کی توجہ حاصل کرے اور صدا بصحراء نہ ہو جائے۔
Post Views: 90
Like this:
Like Loading...