Skip to content
کاس گنج مقدمہ: ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اترپردیش کے ضلع کاس گنج میں 2018 کے اندر ایک فرقہ وارانہ فساد ہوگیا ۔ اس فساد میں ڈبل انجن سرکار کے باوجود چندن گپتا نامی ایک نوجوان کی گولی لگنے سے موت ہوگئی۔ اس سانحہ کی فیکٹ فائنڈنگ کے لیے سینٹر فار سوسائٹی اینڈ سیکولرزم کی ایک ٹیم ایڈوکیٹ عرفان انجنیر اور نیہا دابھاڑے کی قیادت میں ایک وفدکاس گنج گیااور رپورٹ تیار کی مگر ۷؍سال بعد جب اس پر عدالت کا فیصلہ آیا تو وہ دستاویز پھر سے زندہ ہوگئی۔ ان لوگوں نےوہاں جاکر عام باشندوں ، انتظامیہ یعنی پولیس افسران ، فساد زدگان ، چندن گپتا کے والد سوشیل گپتا وغیرہ سے ملاقات کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس تشدد کے لیے کون سے عوامل ذمہ دار ہیں؟ سی ایس ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق اس دنگا فساد کے پیچھے اسی سال ہونے والی مسلمانوں کی ایک مثبت قدم کارفرما نظر آتاہے جس نے ہندوتوا نواز تنظیموں کو بے چین کردیا ۔
اس سال اترپردیش کی یوگی سرکار نے مسلمانوں سے یوم جمہوریہ کے موقع پر اپنی حب الوطنی کا اظہار کی خاطرتقریبات کا اہتمام کرکے ویڈیو بنانے کا حکمنامہ جاری کیا تھا ۔ اس سے پہلے اسکول و کالج کے احاطے میں ایسی تقریبات ہوتی تھیں مگر اس بار بڈو نگر علاقہ کے مسلمانوں نے صبح دس بجے عبدالحمید چوراہے پر یوم جمہوریہ منانے کا فیصلہ کیا ۔ اس پروقار تقریب میں اسکول کے طلباء اور شہر کے عمائدین کو شرکت دعوت دی گئی ۔ پہلی بار مسلمانوں کے ذریعہ جوش و خروش کے ساتھ قومی تہوار منانے کے فیصلے نے قوم پرستی کی مونو پولی چلانے والے خود ساختہ ٹھیکیداروں کو بے چین کردیا ۔ سرکاری اجازت کے ساتھ منعقد ہونے والی اس تقریب میں خلل ڈالنے کی خاطر اسی دن سنکلپ گروپ کے 60 تا 70 نوجوان موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر انتظامیہ کی توثیق کے بغیر بڈو نگر کے ویر عبدالحمید چوک پہنچ گئے۔
وہاں پہنچ کر ان بلوائیوں نے ’ہندوستان میں رہنا ہوگا تو وندے ماترم کہنا ہوگا‘ اور ’رادھے راھے‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے لگانے شروع کردئیے جن کا یوم جمہوریہ کی روح سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اس کے ردعمل میں مسلمانوں نے ’گوڈسے مردہ باد ‘کے نعرے لگائے تو ان لوگوں کو مرچی لگ گئی ۔ عرفان انجنیر کو دورے پر ایسی ویڈیو دِکھائی گئیں جن میں اس غیر قانونی ریلی کے مشتعل نوجوان تقریب کی کرسیاں ہٹاکر انہیں راستہ دینے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس پر مسلمان منتظمین نے ان نوجوان کو تقریب میں شامل ہونے کی دعوت دی اور کہا بعد میں جب کرسیاں ہٹا لی جائیں گی تو وہ ریلی لے کر جائیں لیکن بات نہیں بنی۔
ریلی کے شرکاء کو اگر یوم جمہوریہ منانے میں دلچسپی ہوتی تو اس تقریب میں شریک ہوجاتے یا اس میں روڑا اٹکائے بغیر کسی اور راستے سے اپنا قافلہ لے جاتےلیکن وہ تو فساد کرنے کے لیے آئے تھے اس لیے انہوں نے لاٹھیوں سے وہاں موجود پر امن لوگوں پر حملہ کردیا اور وہیں سے کاس گنج میں فرقہ وارانہ تشدد کی ابتداء ہوئی۔ بڈو نگر کے لوگوں نے اس کے جواب میں موٹر سائیکل ریلی میں شامل فسادیوں پر کرسیاں پھینکیں ۔ وہ لوگ اس جواب کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے اپنی موٹر سائیکلیں چھوڑ کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں نے ان کے نمبر سے پولیس کو آگاہ کیا اور کہا وہ انہیں وہاں سے لے جائے ۔ اس موقع پر اگر پولیس ان فسادیوں کو گرفتار کرلیتی یا کم ازکم تنبیہ کردیتی تو نہ چندن گپتا ہلاک ہوتا اور نہ فساد بھڑکتا ۔ اس کے بعد یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ بڈو نگر میں ریلی کے شرکاء کو ’پاکستان زندہ باد ‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا اور وہاں پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔یوم جمہوریہ کا جشن منانے والے مسلمانوں پر یہ الزامات مضحکہ خیز تھے ۔
سی ایس ایس کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو اس بہتان طرازی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ وہاں موجود کسی مسلم تو کجا ہندو نے بھی اس دعویٰ کی تصدیق نہیں کی۔ چندن گپتا کے والد سوشیل گپتا نے جو ویڈیو دکھائی اس میں بھی ان نعروں کی کوئی سگبگاہٹ نہیں تھی۔ چشم دید گواہوں نے پوری طرح اس الزام کو مسترد کردیا کہ بڈو نگر میں فرقہ وارانہ فساد کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس طرح بظاہر فساد کا خطرہ ٹل گیا مگر وہ لوگ ماننے والے نہیں تھے ۔ وہ سارے تحصیل روڈ پر جمع ہوگئے ۔ وہاں ان کی تعداد میں بھی خاصہ اضافہ ہوگیا تھا اور اس بار ان کے پاس لاٹھیوں کے ساتھ پستول سے لیس ہوکر اپنی موٹر سائیکل اور انتقام لینے کی غرض سے واپس آئے نیز دوکانوں کی توڑ پھوڑ شروع کردی اور مسلمانوں پر حملے کرنے لگے ۔ اس دوران گولیاں چلنے لگیں ۔ ان میں سے ایک نے چندن گپتا کو ہلاک کردیا اور دوسری سے نوشاد نامی نوجوان زخمی ہوگیا۔
وطن عزیز میں پہلے انصاف کی دیوی کے آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی تھی اور ہاتھ میں تلوار بھی پائی جاتی تھی ۔ پچھلے دنوں وہ پٹی ہٹا دی گئی مگر اس کے باوجود این آئی اے کی عدالت نے ان ویڈیوز کو دیکھ کر یہ جاننے کی کوشش نہیں کی فساد کیسے شروع ہوا؟ اس نے اپنی کھلی آنکھوں سے صرف دونوں فریقین کےنام اور لباس سے انہیں شناخت کیا اور تلوار کے بجائے کتاب سے فیصلہ کیا ۔ اس فیصلے کو دیکھنے کے بعد یہ معاملہ تحقیق طلب ہوجاتا ہے کہ وہ کتاب ملک کا آئین ہے یا منو سمرتی کیونکہ مؤخر الذکر میں ہی اس طرح کے تفریق و امتیاز کی ترغیب دی گئی ہے کہ جس میں جائے حادثہ پر موجود نہیں ہونے کے باوجود چندن گپتا کے والد سشیل گپتا 20 لوگوں کے خلاف محض لوگوں سے سن کر 13گھنٹے بعد نامزد شکایت درج کروا دیتے ہیں۔ این آئی اے تفتیش شروع کرتی ہے تو قاتلوں کی تعداد بڑھ کر 31 ہوجاتی ہے ۔ ان میں سے ایک ملزم کا دوران سماعت انتقال ہوجاتا ہے۔ 2لوگوں کو شک کی بنیاد پر بری کر دیا جاتا ہے اور 28کو عمر قید کی سزا سنا دی جاتی ہے۔
اس کے برعکس جب مسلمان اپنی دوکانوں کو لوٹنے اور جلانے والوں کی نام بنام شکایت درج کرانے جاتے ہیں تو حملہ آوروں کی پہچان نہیں لکھی جاتی اس طرح انتظامیہ کا جانبدارانہ رویہ طشت ازبام ہوجاتا ہے۔اپنے سیاسی آقاوں کے اشارے پر انتظامیہ نے اس مقدمہ بلا وجہ ملک سےغداری کی دفعہ 124؍اے بھی لگادی۔ اس طرح چور دروازے سے اسے عام عدالت کے بجائے لکھنؤ میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے اندر منتقل کر دیا گیا ۔ اس کے بعد فیصلہ تو طے ہوگیا مگر پھر بھی6؍سال 11؍ ماہ اور7؍ دن بعد ناٹک کا پردہ گرا ۔ 2022ءسے باقائدہ شروع ہونے والے اس مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے 18؍ میں مقتول کے والد سشیل گپتا، چشم دید بھائی وویک گپتا، سوربھ پال وغیرہ شامل تھے۔ فریق دفاع کو بھی 23؍گواہوں کو پیش کرنے کا موقع دیاگیا لیکن ایسی گواہی کا کیا فائدہ جس پر اعتبار ہی نہ کیا جائے؟اس کے بعد عدالت کے جج وویکانند سرن ترپاٹھی نے 28؍ ملزمین کو قتل کا قصور وار قراردیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنادی ۔
سوال یہ ہے کہ یہی کرنا تھا تو اتنا وقت ضائع کرنے کی ضرورت تھی ؟جج صاحب کو خوف ہے کہ کہیں بلقیس بانو کے مجرمین کی طرح 14؍ سال بعد کہیں انہیں معافی نہ مل جائے تو عمر قید کے اوپر قومی پرچم کی توہین کے ارتکاب کے جرم میں ۳-۳؍ سال قیدکا بھی فیصلہ سنادیا ہے۔ کلیدی ملزم سلیم اور ۶؍ دیگر کو آرمس ایکٹ کے تحت بھی سزا سنائی گئی جبکہ چندن اور اس کے ساتھی پستول لے کر انتقام لینے کے لیے آئے تھے۔ باقی تمام ہی ملزمین پر فسادبھڑکانے، بھیڑ اکھٹا کرنے، اینٹ پتھر سے چوٹ پہنچانے، جان لیوا حملے، گالی گلوج، جان مال کے نقصان، قومی پرچم کی توہین کے الزامات کے تحت فیصلہ کیا گیا اورتعزیراتِ ہند کی دفعات 147، 148،149،341 وغیرہ کے تحت سلیم، وسیم، زاہد عرف جگا، آصف قریشی عرف ہٹلر، اسلم قریشی، اکرم ، شباب، توفیق، محسن، راحت، سلمان، آصف جم والا، ببلو، نیشو، کھلن، واصف، عمران ولد قیوم، شمشاد، ظفر، شاکر ، ثاقب، خالد پرویز، ثاقب، فیضان، شاکر، مناظر رفیع کو قیدِ تا حیات کی سزا سنائی گئی۔
سی ایس ایس ایس کی تفتیشی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ گرفتار شدہ سو سے زیادہ مسلمانوں کو یونہی چلتے پھرتے گرفتار کرلیا گیا اور وہ بے قصور ہیں۔ ان میں سے کئی ضروریات زندگی کا سامان لینے کے لیے گھر سے باہر نکلے تھے۔ گرفتار شدگان میں ایک 70 فیصدی معذور نوجوان بھی تھا ۔ وہ بھلا کسی جرم کا ارتکاب کیا کرتا ؟ ایک ایسے بزرگ کو حراست میں لیا گیا جن کی اہلیہ اس دوران رحلت فرما گئیں۔مبینہ کلیدی مجرم سلیم کے بھائی نےعرفان انجنیر کو ایک ویڈیو بتائی جس کے مطابق وہ جائے واردات سے دور ایک اسکول میں تھا لیکن اگر کسی آنکھوں پر عصبیت کی پٹیّ بندھی ہوتو بھلا وہ کیسے دیکھ سکتا ہے؟ یہ کمال کی جانبداری ہے کہ یوم جمہوریہ منانے والے مسلمانوں کو ایسی کڑی سزا اور اس میں خلل اندازی کرنے کے بائیک ریلی سے وہاں آنے والوں کوکوئی سزا نہیں۔ چندن گپتا کی موت کے کے بعد کئی دنوں تک مسلمانوں کے گھر اور دوکانیں جلانے والوں کی کوئی گرفت نہیں ۔ چندن گپتا کی لاش پر سیاست کرنے والی عدلیہ اور اس کے آقاوں پر ولی اللہ ولی کایہ شعر صادق آتا ہے؎
آج میں اونچا ہوں سب سے اور سب سے محترم بھی
تیغ میرے ہاتھ میں ہے اور لاشوں پہ کھڑا ہوں
Post Views: 250
Like this:
Like Loading...