Skip to content
کیلی فورنیا میں لگی بے قابوآگ:
قدرتی آفات روک نہیں سکتے، لیکن حفاظتی انتظامات نقصانات کم کر سکتے ہیں
نیویارک،11جنوری (ایجنسیز)
لاس اینجلس میں جنگل کی آگ کو تیز خشک ہواؤں اور خشک درخت، پودوں اور گھاس پھونس سے پھیلنے کا موقع ملا۔آبادی کے بڑے پیمانے پر انخلا اور پیشگی وارننگ کے نظام سے جانی اور مالی نقصان، جہاں تک ممکن ہو سکا، کم کرنے میں مدد ملی۔جنگل کی آگ کے دھوئیں میں انتہائی نقصان دہ چھوٹے ذرات پی ایم 2.5 ہوتے ہیں جو انسانی صحت کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 42 لاکھ افراد فضائی آلودگی سے منسلک بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہلاک جاتے ہیں۔موسمیات کے عالمی ادارے ورلڈ میٹیرولو جیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ اگرچہ حفاظتی انتظامات سے قدرتی آفات، جیسا کہ لاس اینجلس کی جنگل کی آگ ہے، کو روکا نہیں جا سکتا لیکن اس سے زندگیاں بچانے اور املاک کا نقصان کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ کے دوران ڈبلیو ایم او کی ترجمان کلئیر نؤلی نے کہا کہ حفاظتی انتظامات آگ سے ہوئے والے نقصانات کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور آبادی کے انخلا کے منصوبے انسانی جانیں بچانے کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔انہوں نے قدرتی آفات کے بدترین اثرات کو محدود کرنے کے لیے مناسب انخلا کے منصوبوں اور قبل از وقت خبردار کرنے کے نظاموں کو مؤثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔اس ہفتے لاس اینجلس کے مختلف حصوں میں پھیلنے والی تباہ کن جنگل کی آگ سے 10 افراد ہلاک اور دس ہزار سے زیادہ عمارتیں جل چکی ہیں۔ خدشہ ہے کہ آگ سے متاثر ہونے والے علاقوں میں جب صفائی کا عمل شروع ہو گا تو مزید لاشیں بھی مل سکتی ہیں۔
جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے موسمیات کے عالمی ادارے کی ترجمان کلئیر نؤلی کا کہنا تھا، خطرے سے پیشگی خبردار کرنے کا نظام فائدہ مند رہا۔انہوں نے کہاکہ آپ جانتے ہیں کہ اس سے لوگوں کو آگ سے متاثرہ علاقوں سے نکالنے، ان کی جانیں بچانے اور مالی نقصانات کم کرنے میں مدد ملی۔لاس اینجلس میں جنگل کی تیزی سے پھیلنے والی آگ کے بارے میں ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ اس میں سب سے بڑا کردار تیز ہواؤں کا تھا۔ ہوائیں درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں کیونکہ وہ زمین اور پودوں کو خشک کر دیتی ہیں۔ڈبلیو ایم او کامزید کہنا ہے کہ جنگل کی آگ کے پھیلاؤ میں معاون عوامل میں، ہوا میں نمی کی کمی، درختوں، جھاڑیوں، گھاس پھونس اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کا خشک حالت میں ہونا شامل ہے۔
اور یہ وہ عوامل ہیں جن کا براہ راست تعلق آب و ہوا کی تبدیلی اور زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے ہے۔ترجمان نؤلی نے کہا کہ اگرچہ ہر قدرتی آفت کا سبب آب و ہوا کی تبدیلی نہیں ہوتی، لیکن ایسے شواہد موجود ہیں کہ یہ تبدیلی کئی طرح کی قدرتی آفات کے امکان اور اس کی شدت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ترجمان ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس نے جنگل کی آگ کے ایک اور نقصان دہ پہلو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جنگل کی آگ کا دھواں، فضائی آلودگیوں کے مجموعے کو جنم دیتا ہے۔
Like this:
Like Loading...