Skip to content
ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
’اندھیر نگری چوپٹ راج‘ اگر کوئی دیکھنا چاہتا ہے تو موجودہ ہندوستان میں آئے نیز بغیر محنت دن کے اجالے میں اس کا نظارہ کرنا ہو تو اترپردیش چلا جائے۔ یوپی میں پچھلے سال کااختتام اتنا بھیانک ہوا کہ اس نئے برس کا اندازہ لگانا نہایت آسان ہوگیا۔ اتر پردیش کے مراد آباد میں کچھ شر پسندوں نے گئو کشی کے الزام میں ایک 42 سالہ مسلم شخص کو پیٹ پیٹ کرشہید کر دیا۔ ہجومی تشدد کا شکار ہونے شاہ دین کو ویسے تو 30 دسمبر کی رات قتل کیا گیا مگر اگلے دن میرٹھ کے ایک اسپتال میں ان کی موت کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ علاج کے دوران انتقال ہوا ۔ یہ افسوسناک واقعہ مرادآباد کے مزلا تھانہ علاقے میں منڈی کمیٹی چوکی کے قریب منڈی سمیتی کے احاطے میں پیش آیا۔ پولیس نے یہ اعتراف ضرور کیا کہ شاہ دین کو کچھ شر پسندوں نے گئوکشی کے الزام میں پیٹ پیٹ کر شدید زخمی کیا مگر قاتلوں بچانے کی خاطر کہہ دیا کہ اس کی موت میرٹھ کے اسپتال میں علاج کے دوران ہوئی تاکہ ہجومی قتل کا معاملہ ہی نہ بنے اور اس بابت عدالتِ عظمیٰ کی ساری ہدایات سے پہلو تہی کی جاسکے۔
اس سانحہ کی ویڈیو وائرل ہوئی اور بدمعاشوں نے کیمرے کے سامنے اقبالِ جرم بھی کیا مگرانتظامیہ کی جن آنکھوں پر زعفرانی پٹی باندھی تھی اس کو وہ سب دکھائی ہی نہیں دیااس لیے اب بھی قاتل نامعلوم ہیں۔ اس قتل کے معاملے میں پولیس مقتول کے بجائے قاتل کی حمایت میں کھڑی ہوئی ہے۔ مبینہ طور پر یہ کہا جارہا ہے کہ واقعہ رات دیر گئے اس وقت پیش آیا جب کچھ لوگوں نے اندھیرے میں کچھ سر گرمی دیکھی ۔ ان لوگوں کے مطابق جو ہجومی قتل میں شریک تھے جب وہ قریب گئے تو شاہ دین سمیت چند لوگوں کو گائے ذبح کرتے دیکھا ۔ شر پسندوں کےمطابق انہوں نے پکڑنے کی کوشش کی تو تین لوگ فرار ہو گئے مگر مقتول پکڑا گیا۔ اس بیان کو بلا تفتیش میڈیا سمیت انتظامیہ نے سچ مان لیا اور پھیلانے لگے۔ یہ الزام اگر درست ہو تب بھی ملزم کو پولیس کے حوالے کرنے کے بجائے اس حد تک پیٹنا کہ وہ ہلاک ہوجائے کہاں کا انصاف ہے؟ پولیس نے شاہ دین کے بھائی کی شکایت پر حملہ آوروں کے خلاف غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ درج تو کر لیا ہے مگر ۔ یہ قتل غیر ارادی کیسے ہوگیا ؟ کوئی نہیں جانتا ۔ پولیس کے اس جانبدارانہ رویہ پر ملک زادہ منظور کایہ شعر صادق آتا ہے کہ ؎
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
اتر پردیش کی پولیس ایک طرف تو قاتلوں کا سراغ نہیں ملتا مگر دوسری جانب اسے یقین ہوجاتا ہےکہ مقتول شاہ دین گائے کو ذبح کررہا تھا۔ اس قیاس کے تحت پولیس والوں نے شاہ دین کے ساتھیوں سمیت خود اس شخص کے خلاف بھی جو اب دنیا میں نہیں ہے گائے ذبح کرنے کے الزامات پر مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ ایسا اندھا قانون دنیا میں کہیں نہیں ہوگا ؟ اتر پر دیش انتظامیہ کے نزدیک کسی پر گئو ماتا کے قتل کا الزام اس کو موت کی بھینٹ چڑھانے کے لیے معقول جواز ہے لیکن اس شخص کا غریب اور مسلمان ہونا ضروری ہے ورنہ اس سانحہ کے دس دن بعد یوپی کی ہی دادری کوتوالی علاقے میں 4 کروڑ روپئے کی مالیت کا گوشت پکڑا گیا ۔ آگے چل کر لیباریٹری سے یہ تصدیق بھی ہوئی کہ گائے کا تھا لیکن اس کے مالک کا بال بیکا نہیں ہوا کیونکہ وہ امیر کبیر ہندو برہمن تھا ۔
9؍ نومبر کو گئو رکھشکوں نے لوہرلی ٹول پر مغربی بنگال سے آنے والے ایک ٹرک کو روکا اور اس میں گائے کے گوشت کی موجودگی کی اطلاع دی۔ یہ مال دادری کے بشارا روڈ پر واقع ایس پی جے کولڈ اسٹوریج سے لے جایا جا رہا تھا۔ یہ کولڈ اسٹوریج اگر کسی غیر ہندو کا ہوتا تو اس پر باباجی کا بلڈوزر چل جاتا اور فرقہ وارانہ فساد بھی ہوجاتا لیکن چونکہ اس کا مالک پورن جوشی تھا اس لیے کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس کے طفیل گوشت برآمد کرنے والی کمپنی کے مسلم ڈائریکٹر خورشید نبی کے ساتھ بھی کوئی بدسلوکی نہیں کی گئی ۔ اس ادارے کے منیجر اکشے سکسینہ، ٹرک ڈرائیور شیوشنکر اور آپریٹر سچن کو باعزت گرفتار کرکے سورج پور کی عدالت میں پیش کیا گیا اور بہت جلد وہ سب ضمانت پر رہا ہوجائیں گے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے گائے کو ماتا ماننے والوں کو اسے ذبح کرکے دنیا بھر میں برآمد کرنے کی آزادی ہے لیکن اگر کسی غیر پر الزام بھی لگ جائے تو بغیر ثبوت و مقدمہ اس کا قتل جائز ہوجاتا ہے۔
اس واقعہ کے دو دن قبل اترپردیش کے ہی مین پوری میں کشنی تھانے کے اندر مخبروں کی مدد سے آوارہ گایوں کو جمع کرکے فروخت کرنے والے ایک گروہ کے ۷؍ لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔ کشنی تھانہ کے تحت کسمرا چوکی کے اہلکاروں نے یہ کارروائی کی۔ گئو کشی کے معاملے میں ملوث ان لوگوں کے لیے انتظامیہ نے’ مویشیوں کے ساتھ سفاکی کرنے والے‘ نامی اصطلاح ایجاد کرلی تاکہ ان کے خلاف غم وغصہ پیدا نہ ہو۔ پولیس تھانے کے انچارج مہاراج سنگھ بھاٹی نے یہی بتایا کہ اس گروہ کے لوگ ہنومان مندر کے پاس جمع تھے۔ پولیس نے جب انہیں گھیرا تو ان لوگوں اس پر گولی تک چلا دی ۔ یہ سب اس یوگی کے راج میں ہوا جو برسوں سے اترپردیش کو جرائم سے پاک کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ اس گولی باری میں دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے مگر ان کے ساتھی ۷؍لوگوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
اس گروہ کی رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے باوجود ماب لنچنگ اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ اس میں ایک مومن خان کے علاوہ راجو بھدوریا، گنگا رام ، موہن سنگھ سسودیہ، ویر بھان، ویر سنگھ اور رام سنگھ کا غلبہ تھا۔ ان ملزمین کے قبضے سے 37؍ زندہ مویشی ، دو دیسی طمنچے، کارتوس وغیرہ ملے اور اس بین الریاستی کے لوگ اترپردیش کے علاوہ راجستھان کے بھی تھے ۔ اتفاق سے فی الحال دونوں صوبوں میں زعفرانی ڈبل انجن سرکار ہے اور زور و شور سے یہ کاروبار ہورہا ہے۔ تفتیش کے بعد انکشاف ہوا کہ ان آوارہ مویشیوں کو اکٹھا کرکے بیچنے کے لیے لے جایا جاتا تھا ۔ ان لوگوں پر گئوکشی کا مقدمہ نہیں بنا بلکہ مویشیوں کے ساتھ سفاکی کی دفعہ لگا کر جیل بھیجا گیا حالانکہ ان کو کون اور کیوں خریدتا ہے یہ جاننے کے لیے کسی شرلاک ہومز کی چنداں ضرورت نہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی بچانا ہو اس کے لیے ہزار راستے ہیں اورجسے پھنسادیا تو اس کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔
یوگی ادیتیہ ناتھ نے اپنے سیاسی فائدے کی خاطر پولیس کے منہ کو خون لگا دیا ہے اور اب وہ خونخوار وحشی مسلمانوں کے علاوہ دوسروں کی بھی چیر پھاڑ کرنے لگا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا جو رخ مراد آباد میں نظر آیا کہ وہاں مقتول شاہ دین کو موردِ الزام ٹھہرا کر قاتل کی بلا واسطہ مدد کی گئی وہی چہرالکھیم پور کھیری میں بھی دکھائی دیا ۔ وہاں پر ایک آدمی کو مارنے کے بعد پہلے تو میڈیا کے ذریعہ اسے گینگسٹر بتادیا گیا تاکہ اس کے تئیں ساری ہمدردیاں ختم ہوجائیں ۔ ہلاسی پوروا گاوں کے رام چندر موریہ کو شراب بنانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا اور پھر کہا گیا کہ بھاگتے ہوئے وہ خود گر کر مرگیا۔ اس کے اہل خانہ نے آخری رسومات کو ادا کرنے سے انکار کردیا اور ہائی وے پر جام لگا دیا تو انہیں سمجھانے کی خاطر سی او کو بھیجا گیا۔ وہ انہیں سمجھانے بجھانے کے بجائے ڈانٹنے ڈپٹنے لگے اور اتفاق سے اس کی ویڈیو بھی بن گئی۔
لکھیم پو کھیری کے سی او ویڈیو کے اندر یہ کہتے دیکھا جاسکتا ہے کہ چاہے جتنے دن لاش کو رکھنا ہے رکھو، نہ تو کوئی تھانہ معطل ہوگا ، نہ ہی تم کو تیس لاکھ معاوضہ ملے گا ۔ تمہاری کوئی بھی مانگ پوری نہیں ہوگی ۔ اس کے بعد افسروں نے لاٹھی چارج کرکے راستہ کھلوا دیا اور آگے چل کر رام چندر موریہ کے اہل خانہ نے آخری رسومات تو ادا کردیں لیکن نہ سی او کی جانچ ہوئی اور تھانہ پولیس پر کوئی فرق پڑا۔ یہ مرکز کی حکومت میں ریاستی وزیر داخلہ اجئے مشرا ٹینی کا علاقہ ہے جہاں دن دہاڑے ان کے بیٹے نے کسانوں کو اپنی گاڑی سے کچل دیا۔ اس کے باوجودٹینی اپنے عہدے پر برقرار رکھا گیا۔ ایسے میں بھلا انتظامیہ کو خوف کیونکر محسوس ہوگا اور وہ کب تک ہندو مسلمان میں تفریق کرے گا ؟ ایک وقت تو ایسا ضرور آئے گا کہ جب اس کے سامنے جو بھی آئے گا وہ اسے کھا جائے گا۔ اترپردیش پولیس اب بے لگام ہوچکی ہے اور اس نے اپنے پرائے کا فرق بھی بھلا دیا ہے۔ اس کی سفاکی پر نادم ندیم کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے
یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے
Post Views: 241
Like this:
Like Loading...