Skip to content
فلسطین، عالمی طاقتیں اور مکافاتِ عمل کا قانون
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین، اکولہ،مہاراشٹر)
=============
دنیا کے بنائے ہوئے قوانین انسانی عقل و فہم کی محدود استعداد کا مظہر ہیں جو تاریخی، سماجی اور سیاسی حالات کے تغیر کے ساتھ اپنی شکل بدلتے رہتے ہیں۔ان قوانین کی بنیاد انسانی مصلحتوں، معاشرتی ضروریات اور وقتی تقاضوں پر ہوتی ہے جس کے باعث ان میں ترمیم، تنسیخ اور تبدیلی کا مسلسل سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن قدرت کا قانون خالقِ کائنات کا وضع کردہ ایک اٹل نظام ہے جو ابدیت کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے اور کائنات کے ذرّے ذرّے پر حکمران ہے۔ اس قانون میں نہ تو کوئی تبدیلی ممکن ہے اور نہ ہی کسی طاقت کو اس پر اثر انداز ہونے کی مجال ہے۔ جب ظلم اپنی حدوں سے تجاوز کر جاتا ہے اور انسانیت کا ضمیر خوابیدہ یا مُردہ ہوجاتا ہے تب قدرت کی خاموش عدالت اپنا کام شروع کرتی ہے اور ایسے فیصلے صادر ہوتے ہیں جن کے سامنے انسانی عدالتیں بے بس نظر آتی ہیں۔ یہ مکافاتِ عمل کا وہ ابدی قانون ہے جو ہر فعل کا حساب رکھتا ہے۔
مکافاتِ عمل، یعنی عمل کا ردِ عمل، ایک کائناتی قانون ہے۔ جو کچھ ہم کرتے ہیں،اچھا یا برا،اس کا نتیجہ ہمیں ضرور بھگتنا پڑتا ہے۔ جس طرح اچھائی کی جزا ملتی ہے، اسی طرح برائی کی سزا بھی ملتی ہے۔ یہ دنیا مکافاتِ عمل کی جگہ ہے، جہاں ہر عمل کا حساب ہوتا ہے۔
دورِ حاضر میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت تسلیم کیا جاتا ہے۔ جدید ترین عسکری ساز و سامان، ایک مضبوط معیشت اور عالمی سیاست پر گہرا اثر و رسوخ اسے ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ وہ دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کرتا اور انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویدار ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جیسی بظاہر ناقابلِ تسخیر طاقتیں بھی اللہ تعالیٰ کے وضع کردہ قوانین کے سامنے سرِ تسلیم خم ہیں۔ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عالمی طاقتوں کی منافقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ امن کی باتیں تو کرتی ہیں لیکن ان کی پالیسیاں جنگ کو فروغ دیتی اور انصاف کے نام پر ظلم کی حمایت کرتی ہیں۔ یہ دنیاوی طاقتیں اس بنیادی حقیقت سے غافل ہیں کہ اس وسیع و عریض کائنات کی حقیقی اور مُطلق حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہی وہ ذات ہے جو ہر لمحہ اپنے عدل کے میزان کو قائم رکھتا ہے اور کائنات کی ہر چیز کو اپنے اٹل قانون کے تحت چلاتا ہے۔ اس کی گرفت سے نہ کوئی بھاگ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کے حکم کی نافرمانی کر سکتا ہے۔
قدرت کا قانون محض انفرادی اعمال کا ہی نہیں بلکہ اجتماعی رویوں اور قوموں کے انجام کا بھی محاسبہ کرتا ہے۔ ظلم اور ناانصافی کا ردِ عمل کسی نہ کسی صورت میں ضرور ظاہر ہوتا ہے۔
جنوری 2025 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں لگنے والی آتشزدگی اس اٹل حقیقت کی ایک تازہ اور المناک مثال ہے۔ یہ محض ایک اتفاقی حادثہ یا قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ یہ ان ظلم و ستم اور ناانصافیوں کے خلاف ایک قدرتی انتباہ تھا جو دنیا کے مختلف خطوں میں امریکا اور اس کے حواریوں نے روا رکھا ہے۔ امریکہ جو اسرائیل کی بے دریغ حمایت کرتا ہے اور مظلوم فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم میں شریکِ جرم ہے قدرت کے قہر سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے! فلسطینیوں پر دہائیوں سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، ان کے گھر اجاڑے جا رہے ہیں، ان کی زمینیں غصب کی جا رہی ہیں اور معصوم جانیں بے دردی سے لی جا رہی ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والے اسرائیل اور حماس کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں فلسطینی عوام کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ 3 دسمبر 2024 تک کی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی جوابی کارروائیوں میں تقریباً 44,502 فلسطینی شہید اور 105,454 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں بلکہ ان گنت خاندانوں کی تباہی، معصوم جانوں کے زیاں اور مستقبل کے تاریک ہونے کی المناک داستانیں ہیں۔ اس تنازعے نے غزہ کی پٹی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بُری طرح مُتاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں گھر اور عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں اور 10 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ضروری سامان، خوراک، پانی، ادویات اور طبی سہولیات تک محدود رسائی کے باعث غزہ میں انسانی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک اور سنگین ہے۔ یہ اعداد و شمار اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (UNOCHA) کی رپورٹوں پر مبنی ہیں جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ امریکہ کی یکطرفہ اور ظالمانہ پالیسیوں نے ہمیشہ اسرائیل کی جارحیت کو بڑھاوا دیا ہے۔ ان پالیسیوں کے ذریعے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی بے دریغ فوجی، مالی، اور سفارتی امداد نے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں سے بے پرواہ کر دیا ہے۔ ایسے میں یہ قیاس کرنا بے جا نہ ہوگا کہ لاس اینجلس کی حالیہ تباہ کن آتشزدگی، جس نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، شاید اس اجتماعی ظلم اور ناانصافی کا ایک المناک مظہر بھی ہو۔ یہ گویا قدرت کا ایک خاموش انتباہ ہے کہ جب ظلم اپنی حدوں سے تجاوز کر جاتا ہے تو اس کے نتائج صرف مظلوموں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ظالموں اور ان کے حامیوں کو بھی کسی نہ کسی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
لاس اینجلس کاؤنٹی کے شیرف رابرٹ لونا نے اس ہولناک تباہی کا موازنہ ایٹم بم حملے کے بعد کے مناظر سے کیا ہے۔ اس جان لیوا سانحے میں اب تک گیارہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور ایک لاکھ اسی ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ریاستی ادارے ‘کیل فائر’ کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، آگ اب بھی چھ مختلف مقامات پر شعلہ زن ہے اور اس پر مکمل طور پر قابو پانا ابھی باقی ہے۔ پیلیسیڈز کے علاقے میں لگنے والی سب سے بڑی آگ نے اکیس ہزار پانچ سو ایکڑ سے زائد رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جبکہ ایٹن کے علاقے میں چودہ ہزار ایکڑ زمین اس کی زد میں آئی ہے۔ اب تک ایک ہزار سے زائد عمارتیں اس آتشزدگی کی نذر ہو کر راکھ کا ڈھیر بن چکی ہیں۔
یہ ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ اللہ کا قانونِ مکافاتِ عمل جو عدلِ الٰہی کا ایک اٹل اور دائمی اصول ہے ہر دور میں جاری رہا ہے۔ یہ قانون نہ صرف انفرادی سطح پر انسان کے اعمال کا حساب لیتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر قوموں کے عروج و زوال کا بھی فیصلہ کرتا ہے۔ قرآنِ مجید جو انسانی فطرت اور کائناتی اصولوں کا سب سے بڑا اور مُستند ماخذ ہے ہمیں بار بار اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور مظلوموں کی آہ و بکا عرشِ معلیٰ تک پہنچنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: "اور یہ بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک کر دیا اور ان کے ہلاکت کے لیے وقت مُقرر کر دیا تھا۔” (سورۃ الہ کہف: 59) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرما دیا ہے کہ ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا دنیا میں ہی ملتی ہے اور ان کی تباہی کا ایک وقت مُقرر ہے۔
اسی طرح قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے: "اور (اے سننے والے!) ہرگز اللہ کو ان کاموں سے بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم کر رہے ہیں۔ اللہ انہیں صرف ایک ایسے دن کے لیے ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔” (سورۃ ابراہیم: 42) یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں ہے بلکہ وہ انہیں ایک مُقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں۔ لیکن جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے اور توبہ کا وقت گزر جاتا ہے تو اللہ کی عدالت حرکت میں آتی ہے اور پھر کسی کو کوئی مہلت نہیں ملتی۔ اس آیت میں ہر مظلوم کے لیے تسلی اور ہر ظالم کے لیے سخت وعید ہے۔ نیز اس آیت میں اس مشہور مُقولے کی مکمل تائید بھی ہے کہ "خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں”۔ یعنی اللہ تعالیٰ فوراً سزا دینے میں تاخیر کر سکتا ہے لیکن اس کی پکڑ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ اس کی عدالت میں دیر ہو سکتی ہے لیکن انصاف ضرور قائم ہوتا ہے۔
تاریخ کے اوراق ایسے بے شمار واقعات سے بھرے پڑے ہیں جہاں ظالم حکمران اپنی طاقت کے نشے میں چُور ہو گئے اور اللہ کے عدل کے سامنے بے بس ہو کر عبرت کا نشان بن گئے۔ فرعون کی طاقت اور غرور اسے بچا نہ سکا۔ اس نے اپنی سلطنت کی بنیاد ظلم پر رکھی تھی، بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا لیکن جب اللہ کا حکم ہوا تو وہ اپنے لشکر سمیت دریائے نیل کی موجوں میں غرق ہو گیا۔ نمرود جو اپنی خدائی کا دعویٰ کرتا تھا ایک حقیر مچھر کے ذریعے ہلاک ہوا۔ اسی طرح چنگیز خان جس نے اپنی خونخوار فوجوں کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے بڑے حصوں کو روند ڈالا اپنے ظلم و ستم کی وجہ سے تاریخ کے صفحات پر ایک بھیانک نشان چھوڑ گیا۔ اس کی قائم کردہ سلطنت بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ بیسویں صدی میں ہٹلر جس نے نسلی برتری کے جنون میں لاکھوں انسانوں کا خون بہایا بالآخر ذلت آمیز موت سے دوچار ہوا۔ یہ سب اور ان جیسے دیگر واقعات مکافاتِ عمل کے اس اٹل قانون کی واضح مثالیں ہیں جو ہر دور میں جاری و ساری رہتا ہے۔ یہی اصول آج بھی قائم ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا۔
فلسطین کے مظلوم عوام کی دلخراش چیخیں، ان کے معصوم بچوں کی آہیں اور ان کے آنسو اللہ کے عرشِ معلیٰ تک پہنچ رہے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے طاقتور ممالک ان کی فریادوں کو نظر انداز کر رہے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب مظلوم کی آہ اللہ کے حضور پہنچتی ہے تو کوئی دنیوی طاقت اسے روکنے کی سکت نہیں رکھتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:”مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔” (صحیح البخاری: 2448) یہ حدیثِ مُبارکہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ دنیا کے حکمرانوں کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ مظلوموں کی آہیں جب قدرت کے قانون کو حرکت میں لاتی ہیں تو دنیا کی کوئی نام نہاد سپر پاور اسے روک نہیں سکتی۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کی طاقت وقتی اور محدود ہے جبکہ اللہ کی قدرت ابدی اور لامحدود ہے۔
لاس اینجلس کی یہ المناک تباہی محض ایک اتفاقی حادثہ یا محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک زوردار اور واضح انتباہ ہے کہ انسانی طاقت اور ٹیکنالوجی کی پہنچ محدود ہے جبکہ اللہ رب العزت کی قدرت لامحدود اور اٹل ہے۔ دنیا کی وہ بڑی طاقتیں جو اپنے مادی وسائل اور عسکری قوت کے زعم میں خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتی ہیں اس بنیادی حقیقت سے ہرگز منہ نہیں موڑ سکتیں کہ اس وسیع و عریض کائنات کا حقیقی مُختارِ کُل، مالک و خالق، صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ظلم کا انجام ہمیشہ تباہی و بربادی ہوتا ہے اور مُکافاتِ عمل کا وہ اٹل قانون جو عدلِ الٰہی کا مظہر ہے کبھی خاموش نہیں رہتا۔ ہم اس ناگہانی آفت میں ہونے والے نقصانات پر امریکی عوام کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ وہ اور ان کے ظالم حکمران اس المناک سانحے سے سبق حاصل کریں اور انصاف کو اپنی زندگیوں کا محور و مرکز بنائیں تاکہ یہ دنیا امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکے۔
=========================================
Post Views: 24
Like this:
Like Loading...