Skip to content
یکساں سیول کوڈ اور قانون کا غیر یکساں نفاذ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بھارتیہ جنتا پارٹی بنیادی طور پر ایک شوشے باز سیاسی جماعت ہے۔ جن سنگھ نے اپنی الگ شبیہ بنانے کی خاطر کچھ مسائل اٹھائے تھے مثلا گئوکشی ، دفع370، یکساں سیول کوڈ اور پھر اس میں رام مندر کا اضافہ وغیرہ ۔ یہ لوگ ابتداء میں شمال اور مغربی ہند میں تھے تو گائے کا مسئلہ چلتا تھا لیکن مشرق اور جنوب میں جانے کے بعد دال آٹے کا بھاو پتہ چلاتو گئوکشی پر ملک گیر پابندی کو بھول گئے ۔ دفع370ختم ہوگیا اور رام مندر بھی بن گیا مگر اس کا کوئی سیاسی فائدہ نہیں ملا ۔ اب یکساں سیول کوڈ قومی سطح کے بجائے اتراکھنڈ میں نافذ کرنے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔اس طرح شادی، طلاق، نان نفقہ ، جائیداد کے حقوق، متبنہ اور وراثت جیسے معاملات میں بلا تقریق مذہب، ذات یا فرقہ یکساں قانون ہوگا ۔ یکم جنوری 2025 سے اس کے نفاذمیں بلدیاتی انتخابات کا نوٹیفکیشن رکاوٹ بن گیا اس لیے 26 جنوری 2025 سے امکان ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتو یکساں اور غیر یکساں سے فرق پڑتا ہے لیکن جہاں سرکار اور عوام بلکہ عدلیہ تک آئین و قانون کو پامال کرنے میں ایک دوسرےپر سبقت لے جارہے ہوں تو ان شوشوں کی کیا اہمیت ہے؟
بابری مسجدکا تنازع ملک کے عدالتی نظام کو پوری طرح بے نقاب کرچکا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے مسلم فریق کے سارے دلائل کو تسلیم کرنے کے باوجود مسجد کی زمین مندر کو دے دی ۔ اس نا انصافی کے لیے کسی یکساں سیول کوڈ کی ضرورت نہیں پیش آئی۔ عدالتِ عظمیٰ نے بابری مسجد کے شہید کئے جانے ظلم اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیا مگر جب اس کے ملزمین کو سزا دینے کا وقت آیا تو وہی گول مول بات کہہ دی گئی یعنی پہلے تو یہ تسلیم کیا گیا کہ ‘مسجد کو سماج مخالف عناصر نے منہدم کیا تھا‘اوپر سے جن رہنماؤں پر الزام عائد کیا گیا تھا ان کے بارے عدالت نے الٹا یہ کہہ دیا کہ وہ تو سماج مخالف عناصر کو روکنے کی کوشش کررہے تھے یعنی وہ بیچارے تو سزا کے بجائے انعام کے مستحق ہیں۔ جج صاحب کے مطابق سی بی آئی کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ آڈیو اور ویڈیو شواہد کوئی سازش ثابت نہیں کرسکےکیونکہ تقاریر کی آڈیو واضح نہیں تھی۔اصل بات یہ ہے کہ ڈبل انجن سرکار میں سی بی آئی کی کیا مجال کے حکمراں طبقہ کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرے حالانکہ تفتیشی اداروں کی رپورٹ میں اتنا ضرور کہا گیا تھا کہ ایل کے اڈوانی، اوما بھارتی، اور کلیان سنگھ سمیت 32 ملزمان اس اسٹیج کے قریب موجود تھے جہاں سیاسی، مذہبی اور مندر کے لیے مہم چلانے والوں نے وہ تقاریر کیں جن کی وجہ سے ہجوم مشتعل ہوا۔
عدالت میں سی بی آئی یہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکی کہ وہ شہ نشین کے قریب خاموش تماشائی نہیں تھے بلکہ اشتعال دلا رہے تھے اور بابری مسجد کی شہادت پر خوشیاں منارہے تھے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جس وقت یہ مقدمہ قائم ہوا تھا مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اور لال کرشن اڈوانی خوفزدہ تھے اس لیے انہوں نے این ڈی ٹی وی کے ایک پروگرام میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بابری مسجد کی شہادت ایک ‘خوفناک غلطی تھی لیکن مجھے آج تک معلوم نہیں کہ ہجوم کے مشتعل ہونے کے نتیجے میں ہوا یا کسی گروہ کی جانب سے جان بوجھ کر کیا گیا’ ۔اپنی حکومت آگئی اور وقت بدلنے کے بعد فیصلہ بھی اپنے حق میں آگیا تو اڈوانی شیر بن گئے اور انہوں نے تیور بدل کر کہہ دیا ”میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ نومبر 2019 میں سپریم کورٹ کے دیے گئے اس فیصلے کے مطابق آیا جس نے اجودھیا میں ایک عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کا راستہ یقینی بنایا اور جس کا سنگ بنیاد 5 اگست کو رکھا گیا تھا۔ اس فیصلے نے ان کی اور بی جے پی کی رام جنم بھومی تحریک کے حوالے سے ان کے اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے۔” کارسیوا کے لیے زمین کو مسطح کرنے کی ترغیب دینے والے اٹل بہاری واجپائی نے بھی مقدمہ کے وقت ڈر کے مارے کہا تھا کہ کار سیوکوں کا ایک گروہ قابو سے باہر ہوگیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جو کچھ ایودھیا میں ہوا وہ افسوسناک تھا ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن ہم کامیاب نہ ہوسکے۔
اس منافقت کے برعکس مقدمہ میں بری ہونے والے ایک ملزم جئے بھگوان گوئل نے عدالت کے باہر ہی میڈیا سے کہہ دیا تھا ”ہم نے مسجد توڑی تھی، عدالت اگر ہمیں مسجد توڑنے پر سزا بھی دیتی تو ہم اسے قبول کرتے اور ہمیں خوشی ہوتی۔ عدالت نے ہمیں سزا نہیں دی، یہ ہندو دھرم کی فتح ہے۔” مذکورہ بالا اعلان کےوقت کچھ لوگوں نے جئے شری رام کے نعرے بھی لگائے۔ یہ نعرے بازی اور بلند بانگ دعوے اس لیے ہوئے کیونکہ انہیں یقین تھا مرکزی و ریاستی سرکار ان کا بال بیکا ہونے نہیں دے گی اور ریڑھ کی ہڈی سے محروم عدلیہ ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے گا ورنہ اس سے پہلے جب مخالفین کی حکومت تھی تو یہی لوگ منہ چھپاتے پھِر رہے تھے ۔ دو ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں جج ایس کے یادو نے یہ تو کہا کہ بابری مسجد کا انہدام منصوبہ بند نہیں تھا اوروہ سب کچھ اچانک ہوا اور سماج دشمن عناصر نے مسجد کو منہدم کردیا لیکن ان سماج دشمن عناصر کو گرفتار کرکے سزا دینے کی کوئی زحمت نہیں کی جنہوں نے اتنا بڑا ظلم کیا تھا ۔ وہ اگر انتظامیہ کو اس کا حکم دیتے تب بھی ان کی غیر جانبداری کا بھرم رہ جاتا ۔
اس مقدمہ کے توسیع پر چلنے والے جج ایس کے یادو 32 مجرموں کو بری کرکے سبکدوش ہوگئے ۔ اترپردیش کی یوگی حکومت نےانہیں معاون لوک پال کے عہدے سے نواز کر سرکار کی خوشنودی کے لیے ناانصافی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ابھی حال میں کاس گنج کے اندر ضلعی عدالت کے جج وویکا نند سرن ترپاٹھی نے بھی وی ایچ پی کے کسی بلوائی کی جانب توجہ نہیں کی۔ انہیں گرفتارکرکے عدالت میں حاضر کرنے کا حکم تک نہیں دیا الٹا 28؍ غیر متعلق مسلمانوں کو عمر قید کی سزا سنا دی تاکہ انہیں بھی انعام و اکرام سے نوازہ جائے ۔ 26؍ جنوری 2018 کو یوم جمہوریہ کے دن کاس گنج میں ایک ترنگا یاترا نکالی گئی تھی ۔ اس جلوس کی قیادت ابھیشیک گپتا عرف چندن گپتا اپنے بھائی وویک گپتا اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ کر رہاتھا۔ یہ سبھی نوجوان موٹر سائیکل پر بھارت ماتا کی جئے اور وندے ماترم کے نعرے لگا رہے تھے۔یوم جمہوریہ کے دن ترنگے پر چم کے ساتھ حب الوطنی کے نعروں پر بھلا کس کو اعتراض ہوسکتا ہے؟ لیکن خبروں اور تصاویر کے مطابق اس جلوس میں قومی پرچم کم اور بھگوا جھنڈے زیادہ تھے۔
ترنگا ریلی میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بھی لگائے جارہے تھے۔ ہندووں کے درمیان مسلمانوں کو اشتعال دلانا بے معنیٰ مشق تھی اس لیے یہ لوگ مسلم اکثریتی بڈو محلے میں جادھمکے ۔ سنکلپ نامی تنظیم سے وابستہ وی ایچ پی اور اے بی وی پی کے کارکنان کی بالیکا کالج گیٹ کے پاس عبدالحمید چوک پر مسلمانوں سے جھڑپ ہوگئی اور پھر تنازع بڑھ کر فساد میں بدل گیا ۔ ذرائع ابلاغ میں فی الحال سرکاری موقف کی لکیر پیٹتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ یوم جمہوریہ منانے والے بیچارے چندن گپتا کو مسلم بلوائیوں نے گولیوں سے بھون دیا اور عدالت نے ان سب کو سزائے موت سنا کر انصاف کردیا حالانکہ ایک آدمی کو گولی مارنے میں 28 لوگوں کا ملوث ہونااپنے آپ میں شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے کیونکہ آج کل تو28 لوگوں کے قتل پر بھی کسی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملتا اور سارے ملزم باعزت بری ہوجاتے ہیں۔ این آئی اے عدالت کے جج وویکانند سرن ترپاٹھی نے اپنے مذکورہ بالا فیصلے سے لکھنو کی خصوصی عدالت کے جج ایس کے یادو کی یاد دلا دی ۔
وطن عزیز میں ’ایک قوم ایک انتخاب ‘ یا ’ ایک ملک ایک قانون ‘ کا نعرہ آئے دن گونجتا رہتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو ایک وقت میں پور ے ملک کے اندر الیکشن کا امکان ہے اور نہ یکساں سیول کوڈ کا نفاذ ممکن ہے۔ ون نیشن ون الیکشن کی خاطر جو رپورٹ تیار کی گئی اس میں اٹھارہ ہزار صفحات ہے۔ اسےکون پڑھے گا ؟ اس پر کتنی بحث ہوگی ؟؟ اور کب فیصلہ ہوگا ؟ یہ کہنا ناممکن ہے لیکن جب بھی حکومت یا اڈانی کسی مصیبت میں پھنسیں گے تو گودی میڈیا کو یہ جھنجھنا پکڑا دیا جائے گا۔ یہی حال ‘ایک ملک ایک قانون ‘ کا ہے جسے پرسنل لا کے خلاف جذبات بھڑکانے کی خاطر استعمال کیاجاتا ہے۔ ان قوانین کا تعلق صرف عائلی معاملات سے ہے ۔ فوجداری اور دیوانی قوانین تو اب بھی یکساں ہی ہیں لیکن کیا ان کے تحت یکساں فیصلے ہوتے ہیں ؟کیا ایک ہی جرم کے خلاف ملک بھر میں یکساں سزائیں دی جاتی ہیں؟کیا ایسا نہیں ہے ایک ہی جرم نچلی عدالت جسے سزا دیتی ہے وہ اوپر جاکر چھوٹ جاتا ہے۔ پچھلے دنوں کیرالہ کے اندر یکے بعد دیگرے دو مقدمات میں آر ایس ایس کے لوگوں کو جس طرح سزا دی گئی اس کا اتر پردیش یا مدھیہ پردیش میں تصور بھی محال ہے اس لیے قوانین کو یکساں طور پر نافذ کیے بغیر یکساں سیول کوڈ ایک بے معنیٰ شوشہ ہے۔ حکومت جو چاہے قانون بناکر سیاست کرتی رہے مسلمان تو ہر حال میں اپنی شریعت پر چلیں گے ۔
Post Views: 168
Like this:
Like Loading...