Skip to content
جمعہ نامہ: نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے :’’ اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے‘‘۔کائنات ہستی میں کوئی جنگ آخری نہیں ہوتی کیونکہ امن کا کوئی بھی معاہدہ ابدی نہیں ہوتا ۔ دین اسلام میں معاہدے کی پاسداری پر بہت زور دیا گیا ہے مگریہ ایک عملی مذہب ہے اس لیے دشمن کی بدعہدی کے جواب میں اس کو توڑنے کی بھی گنجائش موجود ہے۔ آگے فرمانِ الٰہی ہے :’’ اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا ‘‘۔ اس معاملے میں اگر دشمنانِ اسلام کی طاقت اور اس کے نتیجے میں متوقع شکست رکاوٹ بن رہی ہو تو یقین دہانی کرائی گئی کہ : ’’منکرینِ حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے، یقیناً وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے‘‘۔ اس بشارت کےبعد ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کے بجائے حرکت و عمل کی ترغیب دیتے ہوے فرمایا گیا:’’ تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے‘‘۔
عصرِ حاضر میں گھوڑوں کی جگہ جنگی جہازوں ، میزائیلوں اور ڈرونس نے لے لی ہے۔ اس کام میں وسائل خرچ کرنے سے کترانے والوں سے کہا گیا : ’’ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا‘‘۔ اس حکم کی تعمیل کے وقت دشمنانِ اسلام کے سابقہ رویوں کویاد کرکےاندیشوں کا شکار ہونے والوں کو ڈھارس بندھائی گئی کہ :’’ اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لیے اللہ کافی ہے وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعہ سے آپ کی تائید کی ‘‘۔ یعنی اللہ رب العزت پر توکل کرکے اس کے احکامات کی بجا آوری کی جائے۔ اس سے پہلے والی آیت میں بدعہدی کرنے والوں کو بدترین مخلوق قرار دے کر فرمایا :’’انہوں آپ کے ساتھ نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے‘‘۔ ایسے لوگوں کے ساتھ اس سلوک کا حکم دیا گیا کہ :’’ پس اگر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد جو دُوسرے لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ان کے حواس باختہ ہو جائیں توقع ہے کہ بد عہدوں کے اِس انجام سے وہ سبق لیں گے‘‘ ۔
یہ آیات ان دونوں سوالات کا جواب دیتی ہیں کہ حماس نے پندرہ ماہ قبل حملہ کیوں کیا تھا ؟ اور اب صلح کیوں کرلی ؟؟ سیرتِ نبویﷺ میں ہجرتِ مدینہ ، غزوۂ بدر، صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے بعد عام معافی ایک زنجیر کی باہم مربوط کڑیاں ہیں۔منزلِ مقصود کے راستے میں مختلف مراحل ہیں۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ کئی امن معاہدے کیےمگر مسلسل بدعہدیاں کرتا رہا اس لیے ۷؍اکتوبر کا حملہ ناگزیر ہوگیا ۔ اپنے مقاصد کے حصول کی تکمیل کے بعداب صلح کا معاہدہ لازمی ہوا تو اس پر مہر ثبت کردی گئی۔ زندگی کے کسی مرحلے میں انسان جب ٹھہر کر سوچتا ہے توذہن کے صفحۂ قرطاس پر نادانستہ ماضی کا حساب کتاب شروع ہوجاتا ہے۔ اس موقع پراسماعیل ہنیہ، یحیٰ سنوار، حسن نصرااللہ اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے ہزاروں مجاہدوں کو کون بھول سکتا ہے کہ جواس آیت کی مصداق ہیں:’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہیدہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں ۔ جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اُس پر خوش و خرم ہیں‘‘۔
آج ہم لوگ جس طرح انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں ، وہ بھی ہمارے متعلق :’’ مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے‘‘اس تعلق کو بیان کرنے کے بعدخوشخبری دی گئی :’’وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا‘‘۔ کائناتِ ہستی میں شکست خوردہ چلتی پھرتی لاشیں زندہ کہلانے کی حقدار نہیں ہیں۔ زندہ روحیں تو ظلم و استبداد سےسینہ سپر ہوکرطاغوتِ وقت کو اپنی شرائط پر صلح کرنے کے لیے مجبور کرنے والے ہوتی ہیں ۔ اسرائیل اور امریکہ نے جذبۂ جہادو شہادت کو اسلحہ اور فوج کے ذریعہ شکست دینے کی کوشش کی مگرمات کھا گئے۔ اس حقیقت کا اعتراف خود انہیں کے خیمے سے ہورہا ہے ۔اسرائیل میں قومی سلامتی کے وزیر بن گوئیر اس معاہدے کو حماس کے آگے ہتھیار ڈالنے کا مترادف ٹھہرا کر استعفیٰ دے چکاہے۔
اسرائیل کے ظلم ِعظیم کا شریکِ کار امریکہ اور اس کے یہودی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے اپنی آخری تقریر میں اعتراف کیاہے کہ حماس سے اسرائیل جنگ ہار گیا۔ وہ بولے حماس نے شہداء کی تعداد سے زیادہ نئے مجاہدین کی بھرتی کرلی یعنی جس طاقت کو وہ نیست و نابود کرنے کےوہ آرزومند تھے اسے رب کائنات اور بھی مضبوط کردیا ۔ مال و متاع کےخسارہ کا حساب کتاب کرنے والوں کے لیے عرض ہے کہ دورانِ جنگ اسرائیل کی معیشت 28فیصد کم ہوئی جو غزہ کے مالی نقصان سے بہت زیادہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ اسرائیل نے حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے ہر فوجی کے بدلے پچاس بے قصورلوگوں کو شہید کرنے کی کوشش کی لیکن ان میں کثیر تعدادخواتین اور بچوں کی تھی۔ اس کے سبب عالمی عدالت انصاف میں وہ نسل کشی کا مجرم قرار پایا اور اس کے خلاف وارنٹ بھی نکلا جبکہ حماس نے ہر یرغمال کے عوض اسرائیلی جیل میں عمر قید کی سزا بھگتنے والے پچاس مجاہدین کو چھڑا لیا۔ ان کی اہمیت کا اندازہ شہید یحیٰ سنوار سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنھیں اسی طرح کے ایک معاہدے کے تحت رہائی ملی تھی اور پھر جو ہوا وہ اس پر فیض کا یہ مصرع صادق آتا ہے:’’نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی‘‘۔
Post Views: 159
Like this:
Like Loading...