Skip to content
غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلا مرحلہ: اسرائیل 737 قیدیوں کو رہا کرے گا
مقبوضہ بیت المقدس،18جنوری (ایجنسیز)
اسرائیل کی وزارتِ انصاف نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز منظور شدہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں 737 قیدی اور زیرِ حراست افراد کو رہا کیا جائے گا۔وزارت نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہاکہ حکومت اس وقت جیل سروس کی تحویل میں موجود 737 قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کی رہائی کی منظوری” دیتی ہے۔وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق اسرائیل کی کابینہ نے ہفتے کے اوائل میں جنگ بندی معاہدے کی منظوری کے لیے ووٹ دیا جس سے اس کے نفاذ کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال ختم ہو گئی۔
وزارت نے مردوں، عورتوں اور بچوں کے نام بتائے جنہیں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے رہا کیا جائے گا۔اس سے قبل اس نے 95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست شائع کی تھی جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ انہیں غزہ میں اسرائیلی اسیران کے بدلے رہا کیا جائے گا۔توسیع شدہ فہرست میں فلسطینی صدر محمود عباس کی فتح پارٹی کے مسلح ونگ کے سربراہ زکریا زبیدی بھی شامل ہیں۔زبیدی 2021 میں پانچ دیگر فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کی گلبوا جیل سے فرار ہوئے جن کی کئی دنوں تک تلاش جاری رہی اور انہیں فلسطینیوں نے ایک ہیرو کے طور پر سراہا۔
بائیں بازو کی فلسطینی قانون ساز خالدہ جرار کو بھی رہا کیا جائے گا جنہیں اسرائیل نے کئی مواقع پر گرفتار اور قید کیا۔جرار پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کی ایک نمایاں رکن ہیں جسے اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔مغربی کنارے میں دسمبر کے آخر میں 60 سالہ بزرگ قیدی کو حراست میں لیا گیا اور تب سے بغیر کسی الزام کے وہ قید میں ہیں۔حماس کے قریبی دو ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ رہا ہونے والے یرغمالیوں کا پہلا گروپ تین اسرائیلی خاتون فوجیوں پر مشتمل ہے۔
تاہم چونکہ فلسطینی اسلامی تحریک فوجی عمر کے کسی بھی اسرائیلی کو فوجی سمجھتی ہے جس نے لازمی سروس مکمل کی ہو تو اس بات کا اطلاق ان شہریوں پر بھی ہو سکتا ہے جو حملے کے دوران اغوا کیے گئے تھے۔اے ایف پی کی حاصل کردہ فہرست میں پہلے مرحلے میں رہا ہونے والے 33 یرغمالیوں میں پہلے تین نام 30 سال سے کم عمر خواتین کے ہیں جو حماس کے حملے کے دن فوجی خدمات پر مامور نہیں تھیں۔وزارتِ انصاف کے ترجمان نوگا کاٹز نے کہا ہے کہ پہلے تبادلے میں رہا ہونے والے قیدیوں کی حتمی تعداد کا انحصار حماس کی طرف سے رہا کردہ زندہ یرغمالیوں کی تعداد پر ہو گا۔
Like this:
Like Loading...