Skip to content
معاہدۂ امن: شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
طوفان الاقصیٰ سے پروقار معاہدۂ امن تک کا سفر ایک معجزہ ہے۔ جون 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں 6 دن کے اندراسرائیل نے نہ صرف مصر کے جزیدہ نمائے سینا پر قبضہ کرلیا تھا بلکہ اور شام کو گولان کی پہاڑیوں سے بھی بے دخل کردیا تھا ۔ فلسطین سے مصر اور اردن کو نکال کر مغربی کنارے پر اپنا قبضہ جمالیا تھا ۔ ایک ہفتہ کے اندر مصر، شام اور اردن جیسے ممالک کو زیر کرنے والا اسرائیل کا 15؍ ماہ تک قیامت خیز تباہی و بربادی کے بعد بھی حکومت و اقتدار سے محروم حماس کے آگے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجانا معجزہ نہیں تو کیاہے؟ جنگ بندی کو حماس کے آگے سپر ڈالنے کا اعتراف کرتے ہوئے اسرائیل میں قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے کہا کہ وہ غزہ پٹی میں جنگ بندی کے مخالف ہےاور اس طرح کا کوئی بھی معاہدہ حماس کے سامنے اسرائیل کے طرف سے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے ۔ اس نے ایک ویڈیو میں، وزیر خزانہ بزالل اسموتریچ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی اس کا ساتھ کابینہ سے استعفی دے ڈالے لیکن اس گیدڑ بھپکی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ سموتریچ ساتھ نہیں آیا اور نہ خود اس نے استعفیٰ دیا،بس یہ ہواکہ دشمن کی زبان سےسچ نکل گیا ۔ ایسے میں انور مسعود کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
میں اپنے دشمنوں کا کس قدر ممنون ہوں انورؔ
کہ ان کے شر سے کیا کیا خیر کے پہلو نکلتے ہیں
حماس کےمعمر رہنما خلیل الحیہ نے۷؍ اکتوبرکو القسام بریگیڈ کی عسکری کامیابی کو عوام اور مزاحمت کے لیے باعثِ فخر بتاکر کہا کہ یہ نسل در نسل منتقل ہوگی۔ انہوں نے اس حملےکو دشمن پر کاری ضرب کہہ کر اسے عوامی حقوق کی جلد بازیابی اور دشمن کے عنقریب وطن(غزہ)، قدس اور تمام مقدس مقامات سے رخصت ہو نے کا پیش خیمہ بتایا ۔ اس اعتراف کے ساتھ کہ غزہ کےلوگوں نے ایسی مصیبتیں جھیلیں کہ جن سے دل دہل جائیں خلیل الحیہ نے اپنی مزاحمت پر فخر جتاتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے مجاہدین اور عوام کی ثابت قدمی پر ناز کرتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن کبھی بھی ہم سے کمزوری یا ہار کی توقع نہ کرے۔اس موقع پر خلیل الحیہ نے پرعزم مجاہدین کو سلام پیش کرکے شہداء کی یاد میں کہا : ’’ہم ان عظیم شہداء قائدین کے سامنے ادب و احترام کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے جسموں کے ٹکڑے اس معرکہ میں بکھر گئے،مثلاً شہید اسماعیل ہنیہ ، شہید یحییٰ السنوار ، شہید صالح العاروری ، اور تحریک کی سیاسی و فوجی قیادت کے دیگر ارکان۔‘‘ وہ بولے ہمارے قائدین اور شہداء کی تجارت اللہ کے ساتھ ہے، یہ تجارت کبھی ضائع نہیں ہوگی۔ ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یا تو فتح پائیں گے یا شہادت کی دولت سے نوازے جائیں گے، ان شاء اللہ۔یہی وہ جذبۂ جہاد و شہادت ہے کہ جس نےامریکہ و اسرائیل کے گھمنڈ کوخاک میں ملا دیا۔
اسرائیل آج جس شکست و ریخت سے دوچار ہے اس کا آغاز جون 2024 میں اس وقت ہوا جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے دورانِ جنگ اپنی ۶؍ رکنی جنگی کابینہ کو تحلیل کر دیا تھا۔ اسرائیل میں حزبِ اختلاف کے اہم رہنما بینی گینٹز اور ان کے اتحادی گادی آئزنکوٹ کے کابینہ سے نکل جانے کے بعد نیتن یاہو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگیا تھا ۔ اس سے ۸؍ دن قبل گینٹز نے جنگ کے لیے حکمت عملی کے فقدان پر استعفیٰ دیا تھا ۔ گینٹز اور آئزنکوٹ نے اکتوبر میں جنگ شروع ہونے کے چند دن بعد نیتن یاہو کے اتحاد والی قومی حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ دونوں اسرائیلی فوج کے سابق چیفس آف سٹاف رہ چکے ہیں اورانہوں نےاستعفے کا اعلان کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ حقیقی فتح تک پہنچنےمیں رکاوٹ دراصل وزیر اعظم کی قیادت ہے۔ فوج کا تجربہ رکھنے والے ان رہنماوں کو سمجھا بجھاکر ساتھ رہنے پر آمادہ کرنے کے بجائے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے نتن یاہو کو خط لکھ کر خود اس کو جنگی کابینہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کردیا ۔ اس کے جواب میں نیتن یاہو نے نئے ارکان کو شامل کرنے کے بجائے کابینہ ہی تحلیل کردی۔
اسرائیل کے اندر جنگ بندی کے حوالے سے شدید اختلافات رہےہیں ۔ ایک طرف بن گوئر نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پچھلے پندرہ ماہ کے دوران ہر بار امن معاہدے کو ناکام کرتا رہا ہے اور دوسری جانب کر لیکود پارٹی کے اہم رہنما اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کاااس موضوع پر نیتن یاہو سے اختلاف اتنا بڑھاکہ ایک جنگی مجرم کو دوسرے نے وزارت سے نکال باہر کیا ۔ اس ہزیمت سے ناراض ہوکر گیلنٹ نے پارلیمنٹ کی رکنیت بھی چھوڑ دی۔اس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی فوج میں جنگ کو غیر ضروری طول دیئے جانے پر بے چینی ہے۔ یہ بات فوجیوں کے اجتماعی خطوط کے حوالے سے بھی میڈیا میں آچکی ہے اور اس بار تو انہوں نے یہاں تک کہاتھا کہ اگر امن معاہدے پر عمل نہیں ہوا تو وہ جنگ لڑنے سے انکار کردیں گے۔ گیلنٹ کا الزام تھا کہ نیتن یاہو نے اس کے معقول مطالبے کو گویر جیسے انتہا پسند اتحادیوں کی خوشنودی اور اپنے اقتدار کی خاطرمسترد کرتا رہا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں نیتن یاہو نے نیو ہوپ پارٹی کوسرکارمیں شامل کرکے گیدون ساعرکو وزیر خارجہ بنادیا ۔ اس طرح بن گویر کا دباو ختم ہوا اور اس کے استعفیٰ کی اہمیت نہیں رہی۔ بن گوئرکی رسوائی پر سردار جعفری کا شعر ایک لفظ کی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
باعث عار ہے تنہا رویٔ رہ رو شوق
ہم سفر کوئی نہیں دورئ منزل کے سوا
امن معاہدے نے فسطائی انتہا پسندوں کے اندر مایوسی کی کیسی لہر دوڑا دی اس کی شاہد لاکھ تردد کے بعدبلائی جانے والی اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی تصاویرہیں ۔ ان میں سارے لوگ تناو میں ہیں اور ہر ایک چہرا اترا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس فلسطین سمیت پوری دنیا بشمول عالمِ اسلام خوشی سے جھوم اٹھا ہے۔ جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان ہوتے ہی غزہ، غرب اردن اور دنیا بھر میں لوگ جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔اردن، مراکش، تیونس، لبنان، شام اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں خوشیاں منائی گئیں ۔ مراکش میں سول سوسائٹی کی تنظیموں نے دارالحکومت رباط، کاسابلانکا، کینیترا، اوجدا، تانگیر، تیطوان اور اغادیر سمیت کئی شہروں میں جشن کا اہتمام کیا۔ فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں بینرزو کتبے اٹھا ئے لوگوں نے فلسطینیوں کی حمایت میں نعرے لگائے۔ خوش ہوکرکھجوریں اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔اردن کے دارالحکومت عمان کے اندر جشن منانے والوں نے جنگ بندی معاہدے کے اعلان کو اسرائیل کے خلاف فلسطینی مزاحمت کی فتح قرار دیا۔تیونس کے دارالحکومت تیونسہ میں مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور حماس کے مرحوم رہنما یحییٰ سنوار کی تصویر اٹھا رکھی تھی۔شام کے حلب اور حماۃ میں سینکڑوں لوگ معاہدے پر اپنی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ لندن میں فلسطینی مزاحمت کی نصرت کا جشن منانے والوں نے آتش بازی کی
حماس کے نائب سربراہ خلیل الحیہ نےجنگ بندی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اسے ایک تاریخی موقع بھی قرار دیا۔ ان کے بقول، ”ہمارے لوگوں نے قبضہ کرنے کے اعلانیے اور پوشیدہ مقاصد کو ناکام بنا دیا ہے۔ آج ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قبضہ ہمیں اور ہمارے لوگوں کی جانب سے کی جانے والی مزاحمت کو کبھی شکست نہیں دے سکتا۔‘‘اس موقع پر حماس کی قیادت نے بھی دشمن کو بے نقاب کرنے اور جارحیت کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنے والے تمام معزز عہدیداروں، سرکاری اور عوامی حلقوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے قطر اور مصر کی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔قطری وزیراعظم نے بھی مذاکرات میں شامل فریقین اورثالث مصر وا مریکہ کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ اگلے اتوار سے جنگ بندی نافذ ہوگی اور اس کے بعد ثالثی کرنے والے تینوں ممالک معاہدے کی شرائط اور اس کے مکمل نفاذ میں ایک دوسرے کا تعاون کریں گے۔
جنگ بندی کا سب سے اہم جشن تو مسجدِ اقصیٰ میں منایا گیا جہاں ہزاروں فرزندانِ توحید نے نعرۂ تکبیر کی نعروں سے اپنی اپنے قلبی جذبات کا اظہار کیا۔ غزہ میں میں بھی فرط و مسرت کی لہر دوڑ گئی اورچہارجانب’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے گونجنے لگے۔ عوام اس بے مثال مزاحمت اوراستقامت پر شاداں و فرحاں تھے صہیونی دشمن کو معاہدہ کرنے پر مجبور کردیا۔یہ جنگ بندی یقیناً باعثِ مسرت تھی کیونکہ اس سے نہ صرف جنگ کا خاتمہ ہوگا اور ان کی اپنی زمین غاصبانہ قبضے آزاد ہوگی بلکہ تعمیر نو کا آغاز ہوگا۔ اس کے علاوہ بیرونی امداد کے داخلے کی گزرگاہیں بھی کھل جائیں گی بلکہ زخمیوں کو بیرون ملک جاکر علاج کرانے کی راہ ہموار بھی ہو جائےگی۔ایک عظیم آزمائش سے گزرنے والے حوصلہ مند فلسطینی عوام طوفان الاقصیٰ کے معرکے میں شہیدہونے والے مزاحمتی قائدین پر فخر کا اظہار کرتے نظر آئے۔ تعمیر نو سے پر امید ہنستے مسکراتے چہروں کو دیکھ کر جاوید اختر کا یہ شعر یاد آگیا کہ ؎
ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر
نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
بہت سے زرد چہروں پر غبار غم ہے کم بے شک
پر ان کو مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
Like this:
Like Loading...