Skip to content
بلڈوزر، مساجد اور فرقہ وارانہ سیاست: بی جے پی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی
ازقلم:شیخ سلیم ،ممبئی
بی جے پی حکومت اپنے ادھورے وعدوں اور اقتصادی ناکامیوں کے باعث شدید تنقید کا شکار ہے، مسلسل فرقہ وارانہ سیاست کا سہارا لے رہی ہے تاکہ عوام کی توجہ اپنی خراب کارکردگی سے ہٹائی جا سکے۔ بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم اور صحت جیسے اہم مسائل کو حل کرنے کے بجائے، حکومت نے مذہب اور نفرت کی سیاست کو اپنا ہتھیار بنایا ہے تاکہ اپنی سیاسی طاقت اور اقتدار کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے، تاکہ عوامی رائے کو اپنی مرضی کے مطابق موڑا جا سکے۔
اس حکمت عملی کی سب سے واضح مثال مساجد اور مدارس کے سروے کروانے کا ہے۔ "تحقیقات” کے نام پر حکومت نے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی ہے، خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے تاکہ اپنی خراب حکمرانی سے عوامی توجہ ہٹائی جا سکے۔ یہ اقدامات تاریخی حقائق یا قومی ترقی سے زیادہ فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔ حکومت کے حامی میڈیا ادارے یا عرف عام میں گودی میڈیا ان اقدامات کو "قومی سالمیت کی فتح” کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جبکہ ان کے تقسیم کرنے والے برے اثرات کو نظرانداز کرتے ہیں۔
بدنام زمانہ "بلڈوزر ” نے اس فرقہ وارانہ ایجنڈے کو مزید مضبوط کیا ہے۔ مسلمانوں کے علاقوں میں جائیدادوں کو نشانہ بنانا اور اکثر قانونی عمل کے بغیر انہدام کرنا ریاستی طاقت کے غلط استعمال کی واضح مثال ہے۔ اس طرح کے اقدامات نے اقلیتوں کو خوفزدہ اور الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کے حامی نیوز چینلز ان انہدامات کو "غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی” یا "قبضہ مافیا کے خاتمے” کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ ان کے فرقہ وارانہ پہلو کو چھپاتے ہیں۔
ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب، جسے بی جے پی نے بھارت کی "حقیقی آزادی” کی علامت قرار دیا ہے، بھی اسی فرقہ وارانہ سیاست کی ایک اور مثال ہے۔ بی جے پی کی بیان بازی نے اس کو ایک سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے، گویا 1947 میں ملی آزادی نامکمل تھی۔ اس طرح کا بیانیہ آزادی کے متوالوں کی قربانیوں کو کمتر اور بھارت کے آئین کے اصولوں کو نظرانداز کیا ہے۔ میڈیا نے اس تقریب کو بھرپور کوریج دی، اور اسے "تاریخی لمحہ” قرار دیا، جبکہ عوام کو درپیش اقتصادی اور سماجی مسائل کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔ میڈیا میں عوامی مسائل پر کوئی بحث دیکھنے میں نہیں آتی۔
یہ تمام حربے بی جے پی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ 2 کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ حقیقت نہ بن سکا، ہر شہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کرنے کا دعویٰ ایک خواب ہی رہا، اور 5 کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف ایک دور کی کوڑی بن گیا۔ ان ناکامیوں کو چھپانے کے لیے حکومت مذہبی اور فرقہ وارانہ مسائل کا سہارا لے رہی ہے، اور میڈیا کے ذریعے یہ بیانیہ غالب کر رہی ہے۔ ٹی وی چینلز اور اخبارات کو مذہبی فخر اور قوم پرستی ہندو مسلم کے جذبات سے بھرپور مواد فراہم کر کے عوام کو اصل مسائل سے دور رکھا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا کو بھی پروپیگنڈے کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حمایت یافتہ آئی ٹی سیلز اور ٹرول آرمی ان پلیٹ فارمز کو فرقہ وارانہ مواد، تنقید کرنے والوں کی کردار کشی، اور متنازعہ ہیش ٹیگز کے ذریعے بھر دیتی ہیں۔ آزاد آوازوں کو دبایا جاتا ہے تاکہ بی جے پی کا بیانیہ ڈیجیٹل دنیا میں غالب رہے۔
جب ملک کے کروڑوں لوگ مہنگائی، بے روزگاری، اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں، تو ایسے میں بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست اور میڈیا کا استعمال غیر ذمہ دارانہ ہی نہیں بلکہ انتہائی افسوسناک بھی ہے۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اس بیانیے کو چیلنج کرے، ملک کو درپیش حقیقی مسائل پر زور دے، اور ایسی پالیسیاں پیش کرے جو ملک کو متحد کریں، تقسیم نہ کریں۔
بھارت کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ترقی، مساوات، اور انصاف کو فوقیت دے، نہ کہ سیاسی چالوں اور فرقہ وارانہ ایجنڈے کو۔ بی جے پی کی "فرقہ وارانہ سیاست” اور میڈیا کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی حکمت عملی یہ ثابت کرتی ہے کہ جب حکمرانی ناکام ہو جائے تو انتشار پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ہتھکنڈوں کو پہچانیں، حکومت سے جوابدہی طلب کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ قوم کے حقیقی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔
Like this:
Like Loading...