Skip to content
بشار الاسد کے ملک چھوڑنے کے بعد دو لاکھ پناہ گزین وطن واپس آگئے
دبئی،19جنوری (ایجنسیز)
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق شعبے کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے کہا ہے کہ آٹھ دسمبر کے بعد سے 16 جنوری 2025 تک تقریباً دو لاکھ شامی پناہ گزین واپس شام لوٹ آئے ہیں۔ یہ شامی پناہ گزین خانہ جنگی کے دوران مختلف ملکوں میں پچھلے کئی برسوں سے پناہ لیے ہوئے تھے۔گرانڈی نے اس امر کا اظہار ہفتے کے روز کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ ایکس’ پر وطن واپسی کرنے والوں کے اعدادو شمار بتاتے ہوئے کہا ‘ یہ تعداد 195200 ہوچکی ہے۔
تاہم واپسی کا یہ سفر ابھی جاری ہے۔اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہا وہ جلد ہی شام اور اس کے پڑوسی ملکوں کا دورہ کرنے والے تاکہ پناہ گزینوں کی مدد کو بہتر کرنے کی ضرورتوں کے لیے سلسلے میں بہتری ہو۔یاد رہے اسرائیل کی شامی علاقوں میں بمباری کا سلسلہ بھی کافی برسوں سے جاری ہے اس لیے بہت سے شامی باشندے لبنان چلے گئے تھے۔
تاہم لبنان پر اسرائیلی بمباری میں شدت آئی تو پچھلے سال بہت سے پناہ گزین واپس شام آگئے تھے۔ اس واپسی میں تیزی بشارالاسد کے اقتدار کے آٹھ دسمبر کو خاتمے کے بعد ہوئی ہے۔ترکیہ میں 29 لاکھ شامی پناہ گزین موجود ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان کی 900 کلو میٹر تک پھیلی سرحد عبور کر کے خانہ جنگی کے دوران پہنچتے رہے۔اب ترکیہ کے حکام ان کی وطن واپسی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
Like this:
Like Loading...