Skip to content
من تو بچہ ہے جی ، تھوڑا کچا ّہے جی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی نے 118 ویں بار اپنے من کی بات پیش کی حالانکہ اب اس کی دلچسپی پوری طرح ختم ہوچکی ہے۔ اس کو مودی جی اپنی سائٹ پر بھی دس لاکھ سے کم لوگوں نے دیکھا اور پانچ سو لوگوں نے بھی اس پر تبصرہ کرنے کی دلچسپی نہیں دکھائی ۔ اس کے پتہ چلتا ہے کہ مودی جی کی مانند ان کی ویڈیو کو بھی کوئی پوچھ کر نہیں دیا۔ دونوں کی مقبولیت عوام میں تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے۔ اس کے برعکس دس دن قبل نکھل کامتھ نےوزیر اعظم کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ کیا تو اسے مودی کی سائیٹ پر 23؍ لاکھ لوگوں نے دیکھا جبکہ نکھل کی سائیٹ پر 32 لوگوں نے دیکھا۔اس طرح گویا ۵۵ لاکھ لوگوں تک وہ پہنچ گئے ۔ اس کے باوجود مودی کو ’من کی بات‘ پسند ہےکیونکہ وہ بچپن میں ریڈیو سنا کرتے تھے ۔ اس لیے انہوں نے بتایا کہ بچوں کے لیے جدوجہد آزادی پر مبنی انمیشن سیریز کا دوسرا سیزن بہت جلد شروع ہونے والاہے۔مودی کے مطابق وہ بچوں کا پسندیدہ پروگرام ہے اور اس نامعلوم جانبازوں کا چرچا ہوتا ہے۔ ویسے ان نامعلوم لوگوں میں بھی سنگھ پریوار کا دورتک کو اتا پتہ نہیں تھا۔
بچوں کو وہ سیریز پسند ہو یا نہ ہووزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا بچپن بہت پسند ہے ۔ پوڈ کاسٹ میں اپنے بچپن کے استاد کا حوالہ دیتے وقت بھی موصوف نے اپنی ہی تعریف کی ۔ وہ بولے ’’ویلجی بھائی نے محسوس کیا تھا کہ مودی چیزوں کو تیزی سے سمجھتے تھے لیکن پھر اپنے ہی خیالات میں گم ہو جاتے تھے‘‘۔اس پوڈ کاسٹ کے ذریعہ وزیر اعظم اب بھی عوام کو اپنی گنجلک ماضی میں گم کردینا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے اپنے بچپن کے بارے میں بتایا کہ انہیں مقابلہ آرائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ بغیر زیادہ محنت کے امتحانات پاس کرنا پسند کرتے تھے۔ آج کل وہ عوام کی خدمت کرنے یا ان کے مسائل کو حل کرنے کی مشقت اٹھانے کے بجائے اشتہارات اور خطابت کی مدد سے بغیر محنت کے انتخاب میں کامیابی درج کروانا چاہتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں انہیں مختلف سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی تھی سو اب بھی ہے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے ایوان پارلیمان میں وقت گزارنے یا دفتر میں جانے کے بجائے ان کا زیادہ تر وقت انتخابی مہم اور سیر و سیاحت پر صرف ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے دورانِ گفتگو اپنے 93 سالہ اسکولی استاد رس بیہاری منی ہار کا کی پذیرائی کا ذکر کیا مگر ان کے سیاسی گرو بیچارے اڈوانی تو غیض و غضب کا شکار ہوئے ۔ پہلے تو بھرے اسٹیج پر مودی جی نے ان کی جانب سے منہ پھیر لیا اور پھر رام مندر کے افتتاح میں انہیں قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا۔
وزیر اعظم نےاس پوڈ کاسٹ میں ا پنے بچپن کی ایک دلچسپ عادت کا ذکر کیا تو مشہور کہاوت ’ لنگور بوڑھا ہوجائے تب بھی قلابازیں کھانا نہیں بھولتا ‘ یاد آگئی۔ موصوف نے فرمایا لڑکپن میں وہ بغیر کسی خاص تیاری کے ڈراموں کے مقابلوں میں خود بخود حصہ لیتے تھے ۔ آج کل انتخابی مہمات میں ان کا ’دیدی او دیدی‘ اور منگل سوترسے مجرا تک کے مکالمات کو سن کر پتہ چلتا ہے کہ ان کی پرانی عادت یہ گل کھلا رہی ہے۔ انہوں نے سیاست میں کامیابی کے لیے لگن، عزم، اور لوگوں کی خوشیوں اور غموں کے تئیں ہمدردی کو لازمی قرار دیا مگر گجرات فساد کے بعد دنگائیوں کو تحفظ دیتے وقت اور ریلیف کیمپس کو بچے پیدا کرنے کی مشین کہنے والے وزیر اعلیٰ کی حساسیت اس وقت کہاں چلی گئی تھی ؟ ان کی ہمدردی کس کے ساتھ تھی؟؟ عوامی زندگی میں حساسیت کی اہمیت پر زور دینے والا رہنما فساد میں مرنے والے کو گاڑی کے نیچے آکر دبنے والا کتے کا پلاّ قرار دے اور اس کے ساتھی بلقیس بانو کے قاتلوں کی سزا کم کروا کر جشن منا نے کے بعد حساسیت کی بات کریں تو اس سے بڑی بے حسی اور کون سی ہوگی؟
کیا یہ حیرت انگیز باب نہیں ہے کہ دنیا بھر میں امن قائم کرنے کی غرض سے گھومنے والا وزیر اعظم پچھلے ڈیڑھ سال سے تشدد زدہ منی پور جانے کی زحمت نہ کرسکااور اس کے بعد ڈھٹائی کے ساتھ غمخواری کادرس دے رہا ہے؟ وزیر اعظم کی یہ بات سراسر غلط ہے کہ سماج ان لوگوں کو قبول کرتا ہے جو قوم کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اگرایسا ہوتا تو وہ تیسری بار وزیر اعظم نہیں بنتے۔ دس لاکھ روپئے کا کوٹ پہننے اور دن میں کئی بار لباس تبدیل کرنےوالا وزیر اعظم جب اشوک بھٹ جیسے مخلص کارکن کی سادہ زندگی کی تعریف کرتا ہے توہنسی آتی ہے۔ وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ ’’سیاست صرف انتخابات لڑنے کا نام نہیں ہے بلکہ عام لوگوں کے دل جیتنے کا عمل ہے‘‘۔ یہ بات وہ شخص کہہ رہا ہے جو دن رات انتخابی جوڑ توڑ میں لگا رہتا ہےاور دل جیتنے کے بجائے توڑنا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
سیاست کو ’’گندہ مقام‘‘ سمجھنے کے تاثر کو ختم کرنے کی خاطر مودی جی نے نادانستہ طور پر خود اپنے خلاف بہت پتہ کی بات کہہ دی ۔ انہوں نے فرمایا سیاست کی تصویر کو سیاست دانوں کے اعمال ہی آلودہ کر سکتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال خود ان کی ذات والا صفات ہے۔ اس میں جو کمی رہ جاتی ہے اس کو ان کے حواری پورا کردیتے ہیں ۔ وزیر اعظم اور ان کے حواریوں سیاسی تالاب کو اس قدر گدلا کردیا ہے کہ شریف آدمی کو اس کے قریب آنے میں گھن محسوس ہوتی ہے۔ مودی جی کے مطابق سیاست میں اب بھی ان مثالی افراد کے لیے جگہ ہے جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ تبدیلیاں تو اب بھی رونما ہورہی ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ مثبت کے بجائے منفی رخ پر ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنے انٹرویو میں ایک مقامی ڈاکٹر کا ذکر کیا جس نے برسوں پہلے کم وسائل کے ساتھ آزادانہ انتخابی مہم چلا کر یہ ثابت کیا تھا کہ معاشرہ نہ صرف سچائی اور لگن کو پہچانتا ہے بلکہ اس کی حمایت بھی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو بی جے پی اپنی انتخابی مہم پر لاکھوں کروڈ خرچ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ کیا یہ سب سچائی اور لگن کی کمی کو پورا کرنے کی خاطر کیا جاتا ہے؟
وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ غلطیاں انسانی فطرت کا حصہ ہیں لیکن وہ ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔یہی بات انہوں نے نوٹ بندی کے وقت کہی تھی اور اچھے نتائج کے نہ آنے کی صورت میں پھانسی پر لٹکانے کی پیشکش بھی کی تھی مگر پھر اس سے پلٹ گئے ۔ غلطی تو غلطی ہے وہ کسی بھی ارادے سے کی جائے اس کا مرتکب سزا کا مستحق ہوتا ہے۔مودی نے اپنے پہلے ہی پوڈ کاسٹ میں خوب پھلجڑیا ں چھوڑیں مثلاً سیاستداں کو ایک اچھا ٹیم پلیئر ہونا چاہیے اور حاکمانہ رویہ نہیں اپنانا چاہیے ۔ مودی جیسے آمر کی زبان سے ایسا جملہ سن کر ہنسی کے ساتھ ساتھ رونا بھی آتا ہے۔ مودی کہتے ہیں جمہوریت میں الزامات اور جوابی الزامات کو قبول کرنا چاہیے لیکن ان کا اسپیکر جب حزب اختلاف کے رہنماوں کا مائیک بند کردے۔ اڈانی کو بچانے کے لیے مہو موئیترا کی رکنیت ختم کردی جائے۔ ڈیڑھ سو سے زیادہ ارکان کو باہر کرکے ایوان بالا میں متنازع قانون منظور کرلیا جائے تو یہ الفاظ بے معنیٰ ہوجاتے ہیں ۔
وزیر اعظم نے ایک اہم بات یہ بھی بتائی کہ :’’ تنقید اور اختلاف رائے ہر شعبے، بشمول سیاست اور کام کی جگہوں پر، عام بات ہے۔ اس لیے ان کو قبول کرکے آگے بڑھنا ضروری ہے‘‘۔ مودی اور شاہ کی جوڑی اگر اس اصول پر کاربند ہوتی تونہ ہرین پنڈیا کا قتل ہوتا اور نہ جسٹس لویا پر دل کا دورہ پڑتا۔ 2002 کے گجرات انتخابات اور گودھرا واقعہ کا حوالہ دے کر مودی بولے کہ انہوں نے ان چیلنجنگ اوقات میں اپنے جذبات اور ذمہ داریوں کو قابو میں رکھا۔ یہ دعویٰ درست ہوتا تو وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی ان کو مجمع میں راج دھرم کا پالن کرنے کی تلقین کیوں کرتے؟ وزیر اعظم کے مطابق سیاست اگر صرف انتخابات، جیتنے یا ہارنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں پالیسی سازی اور حکمرانی بھی شامل ہے اوروہ بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے کا ذریعہ ہے تو وہ دن رات انتخابی مہم اور سیاسی جوڑ توڑ میں مصروفِ عمل کیوں رہتے ہیں ؟ سچ تو یہ ہے کہ مودی جی کے ’من کی بات ہو یا ’پوڈکاسٹ‘ ہردو جگہ وہ اپنی ہی تعریف و توصیف میں مصروفِ عمل رہتے ہیں لیکن ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اتنی بھیانک ہوتی ہے کہ اگر وہ خود بھی اسے ٹیلی پرومپٹر پر پڑھ لیں تو انہیں اس سے الجھن ہونے لگی گی۔ ویسے مودی جی جس ذوق و شوق سے اپنے بچپن کی جھوٹی سچی کہانیاں سناتے ہیں اس کو سن کر علامہ اقبال کی مشہور نظم بے ساختہ یاد آجاتی ہے؎
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا
Like this:
Like Loading...