Skip to content
کیا حماس نے خواتین کو ایک سال تک اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں یرغمال رکھا؟
غزہ،20جنوری (ایجنسیز)
فلسطینی کی تحریک مزاحمت حماس کی جانب سے تین اسرائیلی خواتین قیدیوں کو رہا کیے جانے کے بعد اتوار کے روز اس علاقے کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں جس کے اندر حماس نے خواتین قیدیوں کو غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے رکھا تھا۔اس تناظر میں خبروں میں اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حلقے اس خبر کے گردش کرنے کے بعد صدمے میں ہیں کہ حماس نے ’’نٹزاریم کوریڈور‘‘ کے شمالی علاقے میں خواتین قیدیوں کو حراست میں رکھا تھا۔
یہ وہ علاقہ تھا جہاں ایک سال سے زیادہ عرصے سے اسرائیل کا کنٹرول تھا۔اسرائیل نے ’’نٹزاریم محور‘‘ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ وہاں فوجی مقام بنایا۔ اسے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے ایک فوجی زون کے طور پر استعمال کیا تھا۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کی ٹیموں نے حماس سے تین مغوی خواتین کو ”نیٹزاریم” کے محور میں حاصل کیا تاکہ انہیں اسرائیلی فوج کے حوالے کیا جائے۔
تینوں خواتین کے کے اہل خانہ کبوتزرعیم کے اندر ڈیلیوری ایریا میں ان کی آمد کے منتظر تھے۔اسرائیلی چینل 12 کے صحافی امیت سیگل نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زیر حراست خواتین زیتون کے علاقے یا غزہ شہر میں تھیں۔ یہ خواتین درحقیقت نیٹزاریم محور کے قریب تھیں۔ اسرائیلی صحافی نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج نے وہاں کئی چھاپے مارے۔ اسرائیل نے غزہ معاہدے میں اب تک بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔
غزہ شہر کے وسط میں واقع السرایا کے علاقے میں حماس کے عسکریت پسندوں کے ایک بڑے پھیلاؤ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اس علاقے درجنوں نقاب پوش اپنے ہتھیار اٹھائے ہوئے رہائشیوں کے درمیان نمودار ہوئے ہیں۔ اسرائیلی چینل 12 نے تصدیق کی کہ حماس بریگیڈز نے اپنی طاقت برقرار رکھی ہے۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ہر جگہ ان کی موجودگی اور طویل جنگ کے باوجود غزہ کی پٹی پر ان کے کنٹرول کی تصدیق ہوتی ہے۔
Like this:
Like Loading...