Skip to content
وہ جس نے قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دیے
ازقلم: عبد الکریم بڑگن،بنگلور الکل
کہ جس نے درس انسانیت کے دریا بہا دیئے ۔ جس نے اونٹوں کے چرانے والوں میں کردار کے جوہر چمکائے جس نے بادشاہی میں فقیری کی۔ جس نے درس مساوات دیا ۔ عدل و قسط کے قیام کے لئے خالق کائنات کی مرضی و خوشنودی کے لئے ذوق و شوق سے اپنی عمر عزیز کھپائی ۔ جس نے خلق خدا کو وہ کچھ دیا جس سے تاریخ ناآشنا تھی ۔ جس نے عورت کو حیا کی چادر دی جس نے کمزوروں ومحروموں اور مظلوموں کی فریاد درسی کی ۔ جس نے سیاه حبشی کوسید کا مقام دیا اور بیت الله پر چڑھ کر اذان دینے کے لئے اپنا کندها پیش کیا
جس کے اندر بلا کی محبت تھی سوزوگداز کا پیکر تھا جہاں جہاں سے گزرا اپنی خوشبو پھیلاتا رہا۔ اُس کے حسن خلق کی خوشبوپوری کائنات محسوس کر رہی تھی۔ اسی کی خوشبو سے ہماری محفلیں معطر ہو رہی ہیں ـ یه وه خوشبو ہے جسکو کوئی زوال نہیں یہ مہک قیامت اور اس کے بعد بھی باقی رہیگی ۔
اس کی زندگی میں عفو ہی عفو تھا در گذرہی در گذر تھا فیاضی ہی فیاضی تھی ۔ اسی محبت آميز سلوک نے عربوں کی کایا پلٹ دی ۔ جن کے جھگڑے صدیوں سے چلتے تھے اس کی تعلیم وتزکیه کے اثر سے اخوت و بھائی چارہ کا سایه دار درخت اگادیا ۔ سماجی زندگی میں والدين کا مقام سمجھایا ۔ کہ جب نے اک نوجوان کو مخاطب کرتے کہا که تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے ۔ سائل کو اونٹوں کے ایک ریوڑھ سے نوازا ۔ جو لوگ قتل پر تے تھے۔ ظلم کی حدیں پھاند ڈالی تھیں ستايا تھا گالی گلوج کی تھی کوئی ہتھکنڈا ایسا نہیں تھا جو محسن انسانیت کے خلاف استعمال نہ ہوا ہو ۔ اقتدار با کمال ملنے کے باوجود اس نے سب کو معاف کر دیا سب کو امان بخشی ۔ تاریخ نے اس اعلیٰ سطح کا انسان عظیم نہیں دیکھا ہوگا ۔ کہ جس نے جنگی قیدیوں کی آه وبکا سن کر بے چین ہوا اور ان کے بندھن ڈھیلے کرنے کا حکم دیا۔ جس نے سامان ڈھوکر بڑھیا کو اُس کے مکان تک پہنجایا اور اسی بڑھیا سے اپنے خلاف ایل فیل سنتارہا ۔ جس نے اپنے اوپر کوڑا نہ گرنے پر گھر جاکر عیادت کا حق ادا کیا۔ جس نے ظلم کے خلاف ایک حرکی تنظیم قائم کی تھی جس نے ایمان کی دولت سے سعید روحوں کر ا یسی تربیت کی که وہی لوگ جان نچھاور کرنے والے بن گئے
محبت و اخوت کا اسيا ماحول برپاکر دیا کہ پوری دنیا ششدر رہ گئی ۔ اسکی زبان میں محبت ،اس کے دل میں محبت اسکے کردار میں محبت اسکی فکر میں محبت ، اسکے روپے میں محبت مظلوموں سے محبت ظالموں سے محبت ۔ اپنوں سے سے محبت غیروں سے محبت
غرض کہ وہ سرتا پا محبت هی محبت تھا۔
اقبال نے ملت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ
ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انسان کو
اخوت کابیان ہوجا محبت کی زبان ہوجا
جس کے تصور سے ہونٹوں یہ تبسم بھی آتا ہے اور آنکھ میں آنسو بھی بھر آتے ہیں ۔ جس کے آوازے کو خالق کائنات نے ہمیشہ کے لئے سر بلند کردیا دشمن هی جڑ کٹا نکلا ۔ تکمیل ایمان کے لئے جس کی اطاعت کولاز می قرار دیا گیا ۔
کیا آپ ایسی شخصیت کی پیروی کرکے اپنے آپ کو اور نسل انسانی کو جہنم سے نجات دلانے کی جدوجہد میں این عمر عزیز کھپانا چاہیں گے ؟
8867164963
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...