Skip to content
ڈونلڈ ٹرمپ کی تاجپوشی:
آغاز تو اچھا ہے انجام خدا جانے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا :’’میں قتل وغارتگری بند کروا دوں گا‘‘ اور انہوں نے اپنی تاجپوشی سے قبل جنگ بندی کرواکر وہ وعدہ نبھا دیا ۔ اس لیے یہ کہنا پڑے گا ’آغاز تو اچھا ہے انجام خدا جانے ‘‘ ۔ امریکہ میں صدارتی امیدوار کے لیے دو مرتبہ صدر منتخب ہونے کا موقع ہوتاہے اس لیے ایسے کئی صدور گزرے ہیں کہ جنھوں نے لگاتار دوسری بار کامیابی درج کرائی ۔ امریکی تاریخ میں ٹرمپ دوسرے ایسے صدر ہیں کہ جنھیں دو مختلف اوقات میں پھر سے منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1885 سے 1889 تک گروور کلیولینڈ نے یہ عہدہ سنبھالا تھا لیکن وہ اگلا انتخاب ہار گئے ۔ چار سال بعد انہوں نے پھر سے قسمت آزمائی کی اور 1893 میں دوسری بار منتخب ہوکر 1897 تک صدارتی عہدے پر فائز رہے۔ ویسے ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلی بار سابق صدر کے طور پر عدالت میں کھینچا گیا اور اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعدان پر نہ صرف مقدمہ چلا بلکہ الزامات ثابت بھی ہوگئے۔ سوئے اتفاق سے سزا سنانے قبل وہ انتخاب جیت کر قانون سے بالا تر ہوگئے اس لیے مجرم ٹھہرائے جانے کے باوجود نہ جیل گئے اور نہ انہیں جرمانہ ادا کرنا پڑا ۔ ایسی مضحکہ خیز حرکت اگر کسی مسلم ملک یا چین و کوریا میں سرزد ہوجاتی تو نہ جانے کتنا کچھ لکھ کر مذاق بنایا جاتا مگر امریکی جمہوریت سامراج پر سب خاموش رہے کیونکہ اس پر میرتقی میر کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
صدر ٹرمپ کے حلف برداری کسی شہنشاہ کی تاجپوشی سے کم نہیں تھی۔ اس پر شکوہ تقریب کے خرچ کا تخمینہ 200ملین ڈالرسے زیادہ ہے۔ اس میں سابق صدور کے علاوہ غیر ملکی سربراہوں اور دیگر اہم شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا ۔ مہمانوں کے انتخاب سے صدر ٹرمپ نے ساری دنیا کو بتا دیا کہ وہ کس کو اپنا دوست اور کسے دشمن خیال کرتے ہیں۔ اس معمہ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حالت سے بہ آسانی حل کیا جاسکتا ہے۔ مودی جی کا شمارصدر ٹرمپ کے قریب ترین عالمی رہنماوں میں ہوتا تھا ۔ دنیا کے کسی سربراہِ مملکت نے ان کی انتخابی تشہیر میں حصہ لینے کی خاطر امریکہ کا قصد نہیں کیا ۔ مودی نے اپنے حواریوں کے ذریعہ ’ہاوڑی مودی‘ کے عنوان سےامریکہ کی سرزمین پر ایک زبردست خطاب عام کا اہتمام کروایا اور اس میں ٹرمپ کو بلا کر یہ اعلان فرمادیا کہ ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ ۔ اس احمقانہ حرکت کے پیچھے یہ منصوبہ رہا ہوگا کہ ٹرمپ دوبارہ جیت جائیں تو اس کا سہرا پنے سرباندھ کر خود کو ’وشوگرو گھوشت‘ کردیا جائے۔ اس لیے کورونا کے باوجود ٹرمپ کو احمد آباد بلا کر’نمستے ٹرمپ‘ کی خاطر جم غفیر جمع کیا گیا لیکن ان سارے تماشوں کے باوجود ٹرمپ ہار گئے اور مودی کا طلسم ٹوٹ گیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی غلطی کی اصلاح کے لیے بائیڈن سے دوستی کرلی ۔ اس وقت کسی کو ٹرمپ کے پھر سے صدارتی امیدوار بننے کی توقع نہیں تھی لیکن وہ بن گئے اورچار سال بعد ان کے سامنے کملا ہیرس تھیں۔ان کے والدین چونکہ ہندوستانی تھے اس لیے مودی کے سامنے دھرم سنکٹ کھڑا ہوگیا ۔ امریکہ میں انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تو لوگ یہ امید کررہے تھے کہ وہ پرچار نہ سہی مگر اپنے دیرینہ رفیق سے ملاقات تو ضرور ہی کریں گے لیکن وہ اس کی جرأت نہیں کرسکے ۔ اس کے بعد تو ٹرمپ مودی دوستی دشمنی میں بدل گئی ۔ ٹرمپ نے اس بار اپنے سب سے بڑے حریف جن شی پنگ کو مودی پرترجیح دے کر یہ پیغام دیا کہ انہیں رقابت گوارہ ہے مگر منافقت برداشت نہیں ہے۔ یہ کھلا راز ہے کہ دسمبر کے اواخر میں وزیر خارجہ جئے شنکر کو امریکہ بھیجنے کا مقصد کسی طرح مودی کے لیےدعوتنامہ حاصل کرنا تھا لیکن الٹا ہوگیا۔ وزیر اعظم کے بجائے جئے شنکر کا بلاوہ آگیا ۔ غالب کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہوگا جو اسے یہ شعر کہنا پڑا؎
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
وزیر اعظم نریندر مودی کے بس میں ہوتا تو ایس جئے شنکر کوجانے سے منع کردیتے لیکن امریکہ بہادر کی ناراضی کا خوف آڑے آگیا ۔ اس کے بعد ٹرمپ نے مکیش امبانی کو اہلیہ سمیت دعوتنامہ بھیج کر مودی جی زخموں پر نمک پاشی کی ۔ امبانی کے بجائے اگر اڈانی کو بلایا جاتا تب مودی جی یہ سوچ کر اپنے آپ کو مطمئن کرلیتے کہ ’میں نہ سہی تو میرا ہم زاد سہی ‘ لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ گوتم اڈانی کے خلاف فی الحال امریکہ کی ایک عدالت نے وارنٹ جاری کررکھا ہے اس لیے بعید نہیں تھا انہیں ہوائی اڈے سے گرفتار کرنےکے بعد عدالت میں حاضر کرنےکے بجائے جیل بھیج دیا جاتا۔ ویسے بعید نہیں کہ امریکہ کی جیل میں چکی پیسنے کا اندیشہ اڈانی کو اسپتال پہنچا دیتا اور انہیں غیر حاضری کا بہانہ بھی مل جاتا۔ اڈانی اور امبانی میں وفاداری کا بھی فرق ہے۔ مکیش امبانی اپنے بیٹے کی شادی کا دعوتنامہ لے کر سونیا گاندھی کے گھر جاکر راہل گاند ھی سے بھی ملے تھے ۔ اس کے باوجود وہ لوگ تو اس فضول خرچی کے مظاہرے میں نہیں گئے مگر مودی جی پہنچ گئے۔ ٹرمپ نے دہلی میں خدمت خلق اور خواتین کے حقوق کی خاطر کام کرنے والی دیپِکا دیشوال کو بھی بلوا لیا ۔ وہ اقوام متحدہ میں تین بار ہندوستان کی نمائندگی کرچکی ہیں مگر کانگریس کے ٹکٹ پر دہلی بلدیہ کا انتخاب بھی لڑا ہے۔ یہ مودی کی سب سے بڑی تضحیک تھی لیکن بیچارے کریں تو کریں کیا؟ ان کی حالت تو اس شعر کی مصداق ہے؎
دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا ان کا پاسباں اپنا
ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات سرد گرم رہے ہیں لیکن اسرائیل تو امریکہ کا دائمی نورِ نظر رہا ہے اس حوالے سے نیتن یاہو تو دعوتنامہ کے اولین حقدار تھے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ٹرمپ کے ذریعہ تھوپی گئی جنگ بندی کےسبب اسرائیل کے تین طاقتور وزراء استعفیٰ دے چکے ہیں اور یاہو کی کی کرسی ڈول رہی ہے امریکی صدر پر ان کی دلجوئی لازمی تھی لیکن ٹرمپ نے انہیں بھی دھتکار دیا ۔ مودی کی طرح نیتن یاہو کے معاملے میں کسی ذاتی پر خاش کا عمل دخل نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر ایسا ہوتا میامی میں موجود ان کی بیوی سارہ اور بیٹے یائر کو مدعو نہیں کیا جاتا ۔ نیتن یاہو کی عدم موجودگی کاسبب امام ہشام الحسینی کے بلائے جانے میں پوشیدہ ہے۔ افتتاحی تقریب میں پہلی بار مذہبی رہنماؤں کا دعائیہ خطاب رکھا گیا ۔ اس میں ایک امام، پادری اور ربی کو مدعو کیا گیا۔ ان میں سے پادری اور ربی کو تو کوئی نہیں جانتا مگر امام صاحب خاصے معروف آدمی ہیں ۔
شیعہ امام ہشام الحسینی مشی گن ریاست کے شہر ڈئیربورن میں واقع "کربلا مرکز برائے اسلامی تعلیمات” کے ڈائریکٹر ہیں ۔ اگرچہ الحسینی عراقی امریکی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں تاہم ناقدین نے ان کے سابقہ بیانات کو اسرائیل مخالف شدت پسندی پر مبنی قرار دیتے رہے ہیں ۔ 2007 میں فوکس نیوز چینل کے اینکر نے ان پر حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کرنے کے لیے دباو ڈالا تو انہوں نے اس کو مسترد کر دیا۔ الحسینی کا جواب تھا کہ "یہ آپ کا خیال ہے، حزب للہ ایک لبنانی تنظیم ہے”۔ 2006 میں اپنے شہر کے اندر ان پر حزب اللہ کی عملی حمایت کرنے پر الحسینی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ اس کی پروا کیے بغیر شہیدحسن نصر اللہ کی تصویر ہاتھ میں لے کر اسٹیج پر نمودار ہوئے ۔ امریکی ڈرون حملے سے ایرانی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی شہادت پربھی 2020 میں انہوں نے ایک فیس بک پوسٹ میں تعزیت کی تھی ۔
امریکہ میں بے شمار امام موجود ہیں لیکن ان سب پر ایران نواز حزب اللہ کے حامی شیعہ امام کی پذیرائی اور نیتن یاہو کی رسوائی میں بہت بڑا پیغام ہے۔ یہ کوئی الل ٹپ واقعہ نہیں بلکہ ایک تسلسل کا حصہ ہے۔ چار نومبر کو یعنی ووٹنگ سے ایک دن پہلے، ٹرمپ نے’ایکس‘ پر لکھا تھاکہ ’ہم امریکی سیاست کی تاریخ کا سب سے بڑا اتحاد بنا رہے ہیں‘۔ مشی گن کے عرب اور مسلم ووٹرز ہمارے ساتھ ہیں کیونکہ وہ امن چاہتے ہیں۔‘ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’مُسلم برادری یہ بات جانتی ہے کہ کملا ہیرس اور اُن کی جنگ پسند کابینہ مشرق وسطیٰ پر حملہ کر کے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرے گی اور تیسری عالمی جنگ کا آغاز کر دے گی۔‘آخر میں انھوں نے اپیل کی تھی کہ ’ٹرمپ کو ووٹ دیں اور امن کو بحال کریں۔‘ 15 الیکٹورل ووٹ رکھنے والی مشی گن میں مقابلہ سخت تھا لیکن کے عرب اور مسلم ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوئے ۔ اس ریاست میں ٹرمپ کی فاتح بناکر مسلمانوں نے ان کا دل جیت لیا ۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے سیاسی حاشیے پر چلے جانے کا ماتم کرنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان میں مودی کے 240پر آنے اور امریکہ میں کملا ہیرس کے شکستِ فاش سے دوچار ہونے میں سب سے اہم کردار مسلمانوں کا ہے۔ ٹرمپ جیسے سابقہ دشمن کی مسلمانوں کی دوستی پر کسی نامعلوم شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی ہے
رشتۂ عشق بھی ہے یاد کی زنجیر بھی ہے
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...