Skip to content
دہلی کی رامائن : اصلی راون اور نقلی رام کی جنگ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
کل یُگ میں لوگ مہا رشی والمیکی یا مہا کوی تلسی داس کے حوالے رامائن نہیں جانتے بلکہ رامانند ساگر کے سیریل یا ڈاکٹر امبیڈکر کی کتاب ’ریلڈلس آف ہندوازم‘ کے ذریعہ پہچانتے ہیں۔ اروند کیجریوال نے انتخابی مہم کے دوران رامائن کو بی جے پی پر منطبق کیا تو بھارتیہ جنتا پارٹی کو مرچی لگ گئی اور اس نے کیجریوال کے خلاف محاذ چھیڑ کرانہیں والمیکی، تلسی ، ساگر اور امبیڈکر سے بھی زیادہ مشہور کردیا۔ رامائن کے حوالے سے دیکھیں تو یہ وہی حرکت ہے جو راون نے ہنومان کی دُم میں آگ لگا کر کی تھی ۔ رزمیہ داستان کے مطابق اس آگ سے ہنومان خود تو نہیں جلا مگر راون کے سونے کی لنکا جل کر خاک ہوگئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کل یُگ کی رامائن میں دہلی کا ہنومان کیجریوال جل کر بھسم ہوجاتا ہے یا جدید رام اوتار مودی کی لنکا لگا دیتا ہے۔ یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کیونکہ بی جے پی اپنے وزیر اعلیٰ کا اعلان کرنے کے بجائے مودی کے نام پر الیکشن لڑ رہی ہے ۔اب دہلی کی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ مودی اور کیجریوال میں رام اور راون کون ہے ؟ ویسے پرشورام کی مانند راہل بھی اپنی باری کا انتظار کررہا ہے۔
دہلی کا انتخاب سیاسی، سماجی اور نظریاتی سطح پر تین حصوں میں منقسم ہوچکا ہے۔ سیاسی اعتبار سے اس بار عام آدمی پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں۔ ان میں سے ایک نہایت طاقتور علاقائی جماعت ہے جس نے پچھلے دنوں تکنیکی اعتبار سے قومی جماعت کا درجہ بھی حاصل کرلیا ۔ دوسری ملک میں برسرِ اقتدار پارٹی ہے اور تیسری حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ ان تینوں کا اپنا منفرد تشخص ہے۔ سماجی سطح پر دیکھیں تو دارالخلافہ ہونے کے سبب بہت سارے سرکاری دفاتر اور ان میں زیر ملازمت لاکھوں لوگ ہیں۔ ان کے علاوہ تاجر طبقے کی بھی بہت بڑی آبادی ہے نیز جھگی جھونپڑی میں رہنے والے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ان سب کی اپنی اپنی ضرورتیں اور اپنے اپنے مفاد ہیں۔ نظریاتی سطح پر بھی یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ بی جے پی سرمایہ دار وں کی مسلم دشمن جماعت ہے۔ عآپ ہندوتوانوازمگر غریب پرور پارٹی ہے جبکہ کانگریس فسطائیت کی دشمن اور سیکولر اقدار کی حامل ہے۔
انتخابی مہم کے آغاز میں مودی اور کیجریوال آمنے سامنے تھے ۔وہ دونوں ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر حملے کررہے تھے لیکن اچانک آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی ایک نادانستہ غلطی نے کانگریس کو موقع فراہم کردیا ۔ موہن بھاگوت نے جب یہ اعلان کیا کہ اصلی آزادی 22؍ جنوری 2023 کو رام مندر کے تعمیر سے ملی تو راہل گاندھی نے اسے لپک لیا ۔ انہوں نے یاد دلایا چونکہ آر ایس ایس نے انگریزوں کے خلاف جنگِ آزادی میں حصہ نہیں لیا اس لیے وہ 1947 کی آزادی کو نہیں مانتی۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے اپنے بیان سے آزادی کی جنگ میں جان گنوانے والے شہیدوں کی توہین کی ہے ۔ ایسا بیان کسی اور ملک میں کوئی دیتا تو اس کو بغاوت یا غداری کے الزام میں جیل بھیج دیا جاتا ۔ راہل گاندھی کے اس جرأتمندانہ بیان نے فسطائیت کے مخالف ہندووں کو خوش کردیا ۔ مسلمان بھی باغ باغ ہوگئے کہ کوئی تو ہے جو سرسنگھ چالک کو جیل بھیجنے کی بات کرتا ہے اور سکھ سماج بھی توہین والے پہلو سے متاثر ہوا کیونکہ اس نے آزادی کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔
راہل گاندھی نے موہن بھاگوت کے بیان کو آئین سے جوڑ کر ڈاکٹر امبیڈکر کی توہین بھی قرار دے دیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ آر ایس ایس 26؍ جنوری کے بجائے 22؍ جنوری کی بات کرنے والا سنگھ بابا صاحب امبیڈکر کے تدوین کردہ ملک کے دستور کو نہیں مانتا ۔ رام مندر کی آڑ میں وہ منو سمرتی کی راہ ہموار کرتا ہے ۔ یہ بابا صاحب کے علاہ دلت سماج کی بھی توہین ہے۔ اس طرح راہل گاندھی نے دہلی کے مسلمانوں ، سکھوں اور دلتوں کے ووٹ بنک پر ہاتھ مارنے کی کوشش کی۔ دہلی میں 12 ؍فیصد مسلمان ، 5؍ فیصد سکھ اور 17؍ فیصد دلت رائے دہندگان ہیں۔ ان کی مجموعی تعداد ایک تہائی سے زیادہ ہوجاتی ہے ۔ اب جو دوتہائی ہندو بچے ان کے دو دعویدار بی جے پی اور عآپ ہیں ۔ یہ اگر مساوی طور پر تقسیم ہوجائیں تینوں جماعتوں کے درمیان برابر کی لڑائی ہوجاتی ہے۔
بی جے پی والوں نے سوچا کہ اگر راہل کی مخالفت کرکے ان کی مقبولیت بڑھائی جائےتو کیجریوال کو کمزور ہوجائیں گے اور اس سے ان کا فائدہ ہوگا ۔ اس لیے زعفرانیوں نے الٹا راہل پر’ ریاست سے لڑائی ‘ والے الفاظ گھما پھرا کر ملک سے بغاوت کا نام دے دیا۔ اس طرح کیجریوال کو کنارے کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پھر انہیں اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں وہ خود تیسرے نمبر پر نہ پہنچ جائے ۔ اس لیے راہل کی مخالفت سے روک دی گئی اور آسام میں قائم کیے جانے والے مقدمہ کی ہانڈی کے آنچ کو دھیما کرکے گرفتاری کی حماقت کو ٹال دیا گیا۔کانگریس اور بی جے پی کی مہابھارت نے ہنومان بھگت اروند کیجریوال کو بے چین کردیا تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو دوبارہ پہلے نمبر پر لانے کی خاطر رامائن کا سہارا لیا اور کہا کہ راون سونے کی ہرن بن کر آیا تو اسے دیکھ کر سیتا نے لکشمن کو اس کا شکار کرنے کے لیے بھیجا ۔ اس کا فائدہ اٹھا کر راون نے بھیس بدل کر سیتا کا اغوا کرلیا ۔
رامائن کے اس اقتباس سے کیجریوال نے یہ نتیجہ اخذ کر پیش کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی ان کی نافذ کردہ عوامی فلاح وبہبود کی ساری اسکیموں کا اغوا کرکے انہیں روک دے گی ۔ کیجریوال نے اس طرح خود کو رام، اپنی اسکیموں کو سیتا اور بی جے پی کو راون بنا دیا لیکن ان سے ایک غلطی ہوگئی ۔ رامائن کے مطابق راون خود ہرن کے بھیس میں نہیں آیا تھا بلکہ مراچی کو ایسا کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اس کے تعاقب میں جب لکشمن دور نکل گئے تو سیتا کو اغوا کرنے کے لیے راون ایک بھکشو کا بھیس بدل کر آیا ۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اقتدار کا اغوا کر نے کی خاطر یوگی کا بھیس بدل کر اجئے موہن بشٹ عرف ادیتیہ ناتھ کمبھ میلے میں ڈبکی لگا رہے ہیں ۔ راون کی پرمپرا کو بی جے پی بڑی خوبی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ اروند کیجریوال کی اس غلطی کو بی جے پی نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور پھر الزامات کا طوفان آگیا۔ کسی نے اس کو رام چرت مانس کی توہین بتایا تو کسی رام کی تضحیک بتا دیا ۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ تاریخ اروند کیجریوال کی اس غلطی کو یاد رکھے گی اور کسی نے کہا یہ انتخابی موسم میں رام بھگت بن کر عوام کو بیوقوف بنانے والے سیاستداں رامائن سے نابلد ہیں اور دہلی کی عوام ان کو سبق سکھائے گی ۔
بی جے پی والوں نے اس کا اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی خاطر کیجریوال کے گھر کا گھیراوکیاتوانہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے معذرت چاہنے کے بجائے الٹا حملہ کردیا ۔کیجریوال نے سوال کیا کہ : ’’میں نے اگر راون پر تنقید کی تو بی جے پی کو برا کیوں لگا ؟ ‘‘ اور جواب میں بی جےپی راون کے وارث بنا دیا۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ بولے :’’بی جے پی اقتدار میں آگئی تو وہ راون کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جھگی جھونپڑیوں کو آگ لگا دےگی‘‘۔ اروند کیجریوال سے یہاں پھر ایک چوک ہوگئی کیونکہ راون نے کسی بستی پر بلڈوزر نہیں چلایا تھا ۔ بی جے پی سرکاریں ضرور غریبوں کی بستی اجاڑنے پر فخر کرتی ہیں مگر ایسا کرتے وقت راون کی نہیں بلکہ ہنومان کی پیروی ہوتی ہے ۔ وہی ہنومان جن کے آشیرواد سے اروند کیجریوال انتخاب جیتنا چاہتے ہیں ۔ راون کی لنکا جلاتے وقت ہنومان نےیہ نہیں سوچا کے اس کے شہر میں رہنے والے بے قصور لوگوں کو راون کے کرموں کی سزا کیوں دی جائے؟ ہنومان نے تو انتقام کی آگ میں اچھے برے سب لوگوں کو بھسم کردیا۔
بی جے پی والوں کو راون یاان کا پیروکار کہنا ایک عظیم براہمن حکمراں کی توہین ہے جس کی سری لنکا کے علاوہ جنوبی ہندوستان میں بھی پوجا کی جاتی ہے۔ راون کا عالم فاضل ہونا رامائن سے ثابت ہے اور رام اس کے قائل تھے لیکن بی جے پی والے نرے جاہل ہیں ۔ راون نے سیتا کا اغواتو کیا مگر ان کو احترام کے ساتھ رکھا جبکہ بی جے پی کے رمیش بھدوری نے تو وزیر اعلیٰ آتشی پر باپ بدلنے کا الزام لگا کر کھلے عام ان کی تذلیل کی۔ کل یگ کے رام اور راون کی لڑائی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہنومان کے دو بھگت ایک دوسرے کو جعلی ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ اس کی چنداں ضرورت نہیں ۔ عوام جانتے ہیں کہ وہ دونوں نقلی ہیں مگر پھر بھی جانتے بوجھتے جو لوگ اندھے کنوئیں میں کودنے کا خواہشمند ہوں ان کی مدد کوئی نہیں کرسکتا ۔ بہر حال اس بار دہلی کے لوگ رام، راون یا پرشورام میں سےکس کو اقتدار سونپیں گے یہ وقت بتائے گا۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...