Skip to content
یونیورسٹیوں اور کالجس میں مستقل اساتذہ کے تقررات ناگزیر
ریاستی حکومت اردو کے مسائل کوحل کرنے کے لیے توجہ دے۔ بھیم آرمی کی حکومت سے اپیل
حیدرآباد۔ 23جنوری(راست) وانم مہیندر تلنگانہ ریاستی صدر بھیم آرمی اور محمد رفیق بھیم آرمی کے مسلم اقلیتی شعبہ کے صدر نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت عوامی حکمرانی کا ایک سال مکمل کرچکی ہے۔ بہت ساری اسکیمات کامیابی سے جاری ہیں لیکن ابھی بہت سے کاموں کو عجلت سے پورا کرنا ضروری ہے۔ اس میں ایک اہم کام تلنگانہ کی یونیورسٹیوں اور کالجس میں مستقل اساتذہ کی بھرتیاں کی جانی چاہئے۔ حیدرآباد کی مشہور عثمانیہ یونیورسٹی جہاں کاذریعہ تعلیم ہی اردو تھا اور شعبہ اردو میں پی ایچ ڈی کے لیے درخواستیں ہی طلب نہیں کی جارہی ہے۔
اسی طرح بہت سارے کالجس میں کنٹراکٹ پر جزوقتی اساتذہ پڑھارہے ہیں۔ جب کہ مستقل اساتذہ کی بھرتیاں رکی ہوئی ہیں۔ حکومت تلنگانہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جزوقتی اساتذہ کو تجربہ کو استعمال کرتے ہوئے مستقل ملازمتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ایک شخص کو کئی ذمہ داریاں دی جارہی ہیں جب کہ الگ الگ افراد کو مختلف محکموں کی ذمہ داریاں دینے سے نئی ملازمتیں فراہم ہوتی ہیں۔ اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کئی سرکاری ملازمین ریٹائرڈ ہونے کے باوجود مختلف محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انھیں فوری ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے ان کی جگہ نئے ملازمین کی بھرتی کرنی چاہئے۔
اگر ریٹائرڈ ملازمین عہدوں پر قائم رہیں گے تو نئے لوگوں کو موقع کب ملے گا؟ مختلف سرکاری محکموں کے علاوہ یونیورسٹیز میں مخلوعہ جائیدادیں جنھیں پْر کیاجانا چاہئے۔ کئی یونیورسٹیز میں ہزاروں کی تعداد میں مخلوعہ جائیدادیں ہیں جنھیں مکمل نہیں کیا جارہاہے۔ آوٹ سورسنگ ملازمین کو ایکول ورک ایکول پے اسکیم کے تحت تنخواہ دی جانی چاہئے۔ مساوی کام اور مساوی تنخواہ کے ذریعے آوٹ سورسنگ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔آوٹ سورسنگ ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے فوائد دیئے جانے چاہئے۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...