Skip to content
پیغام ہمارا ہے وجدی یہ شیخ حرم تک پہنچا دو
—————
از : قلم عبدالواحد شیخ، ممبئی
8108188098
مولانا عطاء الرحمن وجدی 1937 میں سہارنپور ، یوپی کے علمی خاندان میں پیدا ہوئے۔آپ تین بھائیوں میں سے درمیان کے ہیں اور تین بہنیں بھی ہیں ۔ آپ کی ابتدائی تعلیم مسولی میں اسلامیہ پرائمری اسکول میں ہوئی۔ اسلامیہ انٹر کالج سہارنپور سے دسویں جماعت (ہائی اسکول)تک تعلیم حاصل کی۔ ہندی اور انگریزی کے علاوہ اردو، عربی اور فارسی میں الگ استادوں سے تعلیم حاصل کی اور ۱۵؍سال کی عمر ہی سے ان زبانوں میں مہارت حاصل کرلی۔آپ کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں اور سب کی شادی ہو چکی ہے۔
مولانا کا تحریکی سفر
مولانا مودودی کی فکر اور تحریک سے متاثر ہوکر 1965ء میں جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور 2001ء تک جماعت سے جڑے رہے۔
1979ء میں مولانا مودودی کے انتقال پر ہندوستان سے جانے والے علماؤں کے ساتھ پاکستان گئے۔ اور مولانا مودودی کے جنازے میں شرکت کی۔ ایمرجنسی سے پہلے ایک اسکول بھی قائم کیا اور رسالہ ” تنقیحات“ پابندی سے نکلاتے رہے۔ ایمرجنسی کے دوران قید و بند کی صعوبتیں اٹھائیں۔ جماعت میں کئی ذمہ داریوں پر فائض رہے۔ جماعت اسلامی ہند کے شوریٰ اور مجلسِ نمائندگان کے ممبر بھی رہے۔ اور سہارنپور ضلع کے ذمہ داری بھی ایک لمبے عرصے تک نبھائی۔ 1986ء میں سہارنپور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے قیام سے اب تک اس کے انچارج رہے اور اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ 2001 ء میں جماعتِ اسلامی کی پالیسیوں سے اختلاف کی بناء پر جماعت اسلامی ہند کی رکنیت ترک کی اور ” تحفظ تحریک شعائرِ اسلام “ کے ناظم ِ اعلیٰ بنائے گئے ۔2002 ء میں وحدتِ اسلامی کا قیام عمل میں آیا جس میں مولانا کو تحریک کا امیر محترم بنایا گیا 2013 ء میں آل انڈیا مسلم پرسنال لاء بورڈ کے ممبر بنائے گۓ۔ 29 جون 2024 میں ان کا انتقال ہوا۔
(مولانا کے بیٹے نے معلومات فراہم کیں)
گرفتاریاں
ایمرجنسی کے دوران مولانا کو سہارنپور سے قید کرکے جیل بھیجا گیا ۔ اور جلد ہی سہارنپور سے بریلی کی جیل منتقل کیا گیا ۔ جہاں مولانا ابواللیث اصلاحی صاحب و دیگر ذمہ دارانِ جماعت کا ساتھ رہا۔ ڈیفنس رولس آف انڈیاریگولیشن ایکٹ 1915ء (DRI)کے تحت بھی مولانا کو گرفتار کیا گیا۔ اس سلسلے میں 2,4 دن کے لئے جیل بھی جانا پڑا۔
آخری مرتبہ 2001ء میں حکومت گجرات نے ایک تعلیمی پروگرام میں شرکت کرنے پر 124 لوگوں کے ساتھ گرفتار کیا۔ مولانا اس دوران ایک سال قید رہے۔ بعد ازاں 2021 میں اس کیس سے باعزت بری ہوئے۔
زندانی و دیگر تصانیف
مولانا نے کئی مضامین اور کتابیں لکھی ہیں جیسے مولانا مودودی : افکار و نظریات،غروبِ آفتاب (مولانا مودودی پر نظمیں) ، نقوشِ زنداں ، تاریخی منظر نامہ(سوال و جواب کی روشنی میں) ، تہذیب یا وحشت، وندے ماترم نہیں کہیں گے، ترتیبِ ہند کی کہانی۔ اس کے علاوہ وہ کئی برس وحدتِ اسلامی کے ترجمان ” وحدتِ جدید“ کے مدیر اعلیٰ بھی رہے ہیں۔
1۔زندانی تصنیف
نقوشِ زنداں (گجرات کی جیل سے لکھی گئی تحریر) (سنہ تخلیق:۲۰۰۲، مقام: گجرات جیل ، سنہ طباعت:۲۰۰۳، صفحات: ۴۸، پبلشر: تحریک تحفظ شعائر اسلام سہارنپور، یوپی)
مشمولات
مولانا عطاء الرحمن وجدی صاحب سن 2001 سے 2002 مسلسل ایک سال گجرات کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ اسی دوران آپ نے مختلف لوگوں کے نام خطوط لکھے اور شاعری بھی کی۔ ”نقوشِ زنداں “انہی خطوط کا مجموعہ ہے ۔
اساتذہ کے نام خط میں وہ لکھتے ہیں:
”در حقیقت معلمی پیشہ نہیں ایک مقدس منصب ہے اور علم مال تجارت نہیں ایک عظیم امانت ہے ہم سب کے سردار اور آقا نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے ” انما بعثت معلما ( میں استاذ بنا کر بھیجا گیا ہوں ) ۔ غور کیجئے استاذی اور پیغمبری میں کیا نسبت ہے اس نسبت کا کوئی تعلق ان پروفیسروں اور استاذوں سے کیسے ہو سکتا ہے جو دولت کے حصول اور ارباب اقتدار کے مذموم ارادوں کی تکمیل کا ذریعہ بن جائیں ۔ اس تعلق کا اظہار تو وہی کر سکتے ہیں جو انبیائی دعوت پر ایمان رکھتے ہوں علم کو معرفت و ہدایت کا ذریعہ مانتے ہوں، نیکی اور بدی کے فرق سمجھتے ہوں، انسان کی عظمت کے قائل ہوں، اس کے اخلاقی شرف کو پہچانتے ہوں۔ جن کے نزدیک تعلیم حصول معاش کے وسیلے کے بجائے انسان کی تربیت و تزکیہ کا وسیلہ ہو۔ وہ انسان کو بحیثیت انسان ، بحیثیت اشرف المخلوقات اور بحیثیت خلیفۃ اللہ فی الارض تسلیم کرتے ہوں جسے اس کے خالق اور پروردگار نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہو ۔ اور اس زمین پر عدل و صلاح کے قیام کا ذمہ دار ٹھہرایا ہو۔ اسی تصور انسان کے سائے میں تعلیم کا صیح تصور پیدا ہوتا اور پنپتا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کی پرواز فکر انسان کا شجرہ نسب بندروں سے ملاتی اور اسے زیادہ سے زیادہ ایک اجتماعی حیوان (Social Animal) کا درجہ دیتی ہوان کو یہ توفیق کہاں ہو سکتی ہے کہ پیغمبری اور استادی کی نسبت کو سمجھ سکیں اور اس کے ساتھ منصب معلمی کے تقاضوں کو ادا کر سکیں ۔“ (صفحہ نمبر ۱۵)
آگے لکھتے ہیں :
”میں نے ایک لائق استاذ کے بارے میں پڑھا ہے کہ وہ دو الگ الگ اوقات میں پڑھاتے تھے ایک وقت غریب بچوں کے لیے جن سے کچھ نہیں لیتے تھے اور دوسرے میں فیس لیتے تھے ۔ آمدنی کم ہونے پر ان کو مشورہ دیا گیا کہ آپ ان سے بھی کچھ لے لیا کریں۔ تو انھوں نے کہا کہ میرے عزیز اس مشورہ پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے۔ کیا آپ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اپنی آخرت کے لیے کچھ بھی جمع نہ کر سکوں اور وہاں خالی ہاتھ پہنچوں۔ میں نے دو کھاتے کھول رکھے ہیں ایک دنیا کے لیے اور دوسرا آخرت کے لیے ۔ آپ توجہ فرما ئیں کہ اس ذہنیت اور اس کردار کے استادوں کا شاگرد پر کیا اثر پڑتا ہوگا۔ افسوس ! کہ آج اسی گوہر کمیاب سے تعلیم گاہوں کے خزانے خالی نظر آتے ہیں۔“ (صفحہ نمبر ۱۶)
مولانا نے معلموں کے علاوہ عالموں ،نوجوانوں اور تاجروں کے نام بھی خطوط لکھے ہیں۔
اربابِ سیاست کے نام خط میں وہ لکھتے ہیں:
” ہر دور کے بالا دستوں نے نئے عنوانات ترتیب دیے ہیں اور حقیقتوں کو چھپانے کی ناکام کوششیں بھی کی ہیں ۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ دنیا ہر نا کام انقلاب کو بغاوت اور کامیاب بغاوت کو انقلاب کے نام سے یاد کرتی رہی ہے۔ آج ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے ظلم و فساد کو انصاف وامن کے اور نفرت و تعصب کو تعمیر وترقی کے معنی پہنائے جارہے ہیں ۔ اکثر سوچتا ہوں کیا واقعی سچ کو جھوٹ اور سیاہ کو سفید بنانے والے کامیاب ہو جائیں گے ۔ مگر فطرت کے خاموش اشارے ہمیشہ نفی میں جواب دیتے ہیں۔“
۔۔۔۔۔ ہمارے ملک میں جمہوریت کے زور دار ترانوں کے سایہ میں ظلم کے نعرے بلند ہو رہے ہیں اکثریت اقلیتوں پر اپنی خدائی کا سکہ جمانا چاہتی ہے۔ ایک ذات کے لوگ دوسری ذات والوں کے پیدائشی طور پر ذلیل ہونے کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ایک نسل کے لوگ دوسری نسل پر اپنی برتری جتانے میں مصروف ہیں ۔ ایک مخصوص کلچر کو ہندوستانی کلچر کہا جا رہا ہے۔ اور وطن میں پلنے اور بڑھنے والی دوسری تہذیبوں کا گلا گھونٹے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ جمہوریت کی سب سے بڑی قتل گاہ ہمارے ہی ملک میں ہے ۔ کیونکہ کسی اصول ، نظریہ و خیال کو سب سے۔زیادہ نقصان انہیں لوگوں کے ہاتھوں پہنچتا ہے جو زبان سے اسکا اقرار، اور عمل سے اس کی تردید کریں۔ اگر جمہوریت کے معنی یہ ہیں کہ اکثریت کے بل پر دوسروں کے پیدائشی حقوق سلب کر لئے جائیں تو پھر جبر کسے کہتے ہیں۔“ (صفحہ نمبر ۲۹، ۳۰)
آگے مزید لکھتے ہیں کہ
”پیشہ ور دانش وروں کو یہ توفیق میسر نہیں ہے کہ رائج الوقت نظریات پر غیر جانب دارانہ اور منصفانہ نظر ڈال سکیں ، ان بے چاروں کا حال تو یہ ہے کہ کمیونزم کے زوال کے بعد رات دن سوشل ازم اور کمیونزم کی قصیدہ خوانی کرنے والے ڈاکٹر اور پروفیسر اچانک منظر عام سے غائب ہو گئے اور اپنی سابقہ حیثیت کو پوری طرح بھلا دیا ۔“ (صفحہ نمبر ۳۱)
1۔زندانی تصنیف
شاعری (سنہ تخلیق:۲۰۰۲، مقام: گجرات جیل ، وحدتِ اسلامی کے ترجمان میگزین وحدتِ جدید میں مولانا کی جیل میں لکھی ہوئی کئی شاعری مختلف اوقات میں شائع کیں گئیں۔
مشمولات
چند اشعار پیش خدمت ہیں :
متاع فقر
مصروف عمل رہنا، مشغول دعا رہنا
جس حال میں رہنا ہو ، راضی بہ رضا رہنا
رستے کا بدلنا بھی منزل سے بھٹکنا ہے
فتنوں کا زمانہ ہے ، پابند وفا رہنا
تو ہین تعلق ہے، عبرت کی کہانی ہے
غیروں میں ملا رہنا، اپنوں سےجدا رہنا
ہر پھول کی پتی ہے ایک نقش لب خنداں
ہے محوِ سخن کوئی، خاموش ذرا رہنا
پھر دیدہ بینا ہے حیرانی کے عالم میں
آئینہ بہ آئینہ تم جلوہ نما رہنا
اس فصل بہاراں کا ماحول مکدر ہے
تم محسن گلستاں میں ہمدوش صبا رہنا
ہر گام بدلتا ہے احساس سفر یارو!
ہر سانس میں لازم ہے یادوں کا بسا رہنا
احسان فراموشی معمول ہے دنیا کا
پھل دار درختوں کا شیوہ ہے جھکا رہنا
احباب کو تم وجدی یہ بات بتا دینا
کانٹوں کی بھی عادت ہے پھولوں میں چھپا رہنا
ــــــــــــــ
فطرت کے ارادوں کا اظہار کیا ہم نے
سوئی ہوئی دنیا کو بیدار کیا ہم نے
باطل کی خدائی سے انکار کیا ہم نے
یہ جرم اگر ہے تو سو بار کیا ہم نے
ــــــــــــ
آپ ہی مقتل بول اٹھے گا
دانشور کہلانے والے سب جانے پہچانے ہیں
اہل خرد کی بات نہ پوچھو مطلب کے دیوانے ہیں
آپ ہی مقتل بول اٹھے گا کون جری ہے کون نہیں
ان ہاتھوں میں سنگینیں ہیں ہم نے سینے تانے ہیں
اہل ستم سے جا کر کہہ دو ہم بھی خالی ہاتھ نہیں
دل کی لگی ہے، کوچہ جاں ہے جانوں کے نذرانے ہیں
جھوٹ کا جیسا جو ماہر ہے ایسا ہی انعام ملے
ہمت کر کے سچ جو بولیں ، ان کے لئے جرمانے ہیں
یوں تو سارا شہر ہے اپنا کسی سے کوئی بیر نہیں
وقت پڑے تو کام نہ آئیں ، جیسے سب انجانے ہیں
لعل و جواہر سونا چاندی ، جن پر دنیا مرتی ہے
ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے، یہ تو سب افسانے ہیں
عشق کا نغمہ سیدھا سچا جس سے دل کو چین ملے
پیاس بجھے نہ جن سے کسی کی، عقل کے وہ پیمانے ہیں
ـــــــــــــــــ
روداد سفر
عمر بھر گھیرے رہا گر چہ اندھیروں کا ہجوم
عمر بھر لیکن چراغ آرز و جلتے رہے
مشکلیں تھیں، دوریاں تھیں راہ ناہموار تھی
شوق منزل ہم سفر تھا اور ہم چلتے رہے
کہہ رہے ہیں وہ کہ ہم بدلیں گے دنیا کی روش
وقت کے شیشے میں اپنے آپ جو ڈھلتے رہے
راستوں کے پیچ وخم سے دوستی سی ہوگئی
مشکلوں کے زیر سایہ حوصلے پلتے رہے
سوئے منزل بندگان سادہ دل بڑھتے گئے
پیکر ان علم و دانش ہاتھ ہی ملتے رہے
بر سر مقتل کسی بسمل کو ہنستا دیکھ کر
دل ہی دل میں قاتلان سنگ دل جلتے رہے
ـــــــــــــــــ
دیوانے ہی اس دور کو ہشیار کریں گے
اے صبح یقیں یوں تیرا دیدار کریں گے
ہم چاک گریباں شب تار کریں گے
یو چھے گا جہاں کوئی بھی اقرار کریں گے
ہم تیرے تعلق سے نہ انکار کریں گے
اس شہر بتاں میں تیری توحید کا دعوی
ہم بر سر ہر کوچہ و بازار کریں گے
بخشا ہے تیری چاہ نے وہ نور بصیرت
ہر سمت تیرے حسن کا دیدار کریں گے
اس کام کی توفیق نہیں اہل خرد کو
دیوانے ہی اس دور کو ہشیار کریں گے
ہر حلقہ زنجیر کو ہمراز بنا کر
باتیں تیری الفت کی سرِدار کریں گے
ہے عزم کہ اب سایۂ دیوار سے ہٹ کر
چرچہ تیرا درِ سایہ تلوار کریں گے
تکرار ہے اپنی یہ نئی اہل ہوس سے
یہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ ہم پیار کریں گے
ـــــــــــــ
غزل
جسے شعور نہیں ہے وہ اس کو کیا جانے
حقیقوں سے منور ہیں اپنے افسانے
شب سیاہ نے پہرے بٹھا دیے ہر سو
تلاش صبح میں نکلے ہیں پھر بھی دیوانے
میں اجنبی ہوں ترے گھر کا پوچھتا ہوں پتا
بنے ہیں شہر کے ساکن تمام انجانے
ترے حضور رسائی ہو کس طرح ممکن
کہ ہم جلیس ترے مانگتے ہیں نذرانے
ان عازمین حرم کا خدا محافظ ہو
حرم کی راہ میں پڑنے لگے ہیں بت خانے
ہمارے قتل کے محضر پر نام درج نہیں
شہریار کی تحریر کون پہچانے
جفا کو ان کی وفا ہم نہ کہہ سکے اب تک
اسی قصور پر عائد ہوئے ہیں جرمانے
جو تشنہ لب ہیں انہیں تشنہ لب ہی رکھتے ہیں
اب ان کی بزم میں رائج ہیں ایسے پیمانے
ــــــــــــــــ
حال دل کی ترجمانی
شوق دیدار جاویدانی ہے
گرچہ تقدیر لن ترانی ہے
عقل پر دل کی حکمرانی ہے
لوگ کہتے ہیں یہ جوانی ہے
نہ تو ہندی نہ اصفہانی ہے
اپنی منزل تو لا مکانی ہے
دامن شیخ میں رہا کیا ہے
اور جو کچھ ہے سب زبانی ہے
عقل بازی گری ہے ساحل پر
عشق دریاؤں کی روانی ہے
کار آساں نہیں وفا مندی
جاں نثاری ہے جانفشانی ہے
نام گرچہ بدلتے رہتے ہیں
فکر ابلیس تو پرانی ہے
دینداری سے واسطہ کیا ہے
کام واعظ کا خاندانی ہے
شعر وجدی کا کچھ نہیں لیکن
حال دل کی تو ترجمانی ہے
ـــــــــــــــــــ
دشمنوں کے واسطے بھی ہم دعاء کرتے رہے
وہ ستم ڈھاتے رہے اور ہم وفا کرتے رہے
دوستی کا حق بایں صورت ادا کرتے رہے
وہ جو ہم پر عادتاً جور و جفا کرتے رہے
ہم انہیں سے شکوہ مہر و وفا کرتے رہے
عمر تو ساری گذاری حسرت وارماں کے بیچ
کیا بتا ئیں گر کوئی پوچھے کہ کیا کرتے رہے
روشنی کے نام پر تاریکیاں بڑھتی رہیں
اہل دانش کچھ تو بتلائیں کہ کیا کرتے رہے
روز اک تازہ ستم ہم پر روا رکھا گیا
روز ہم تکمیل پیمان وفا کرتے رہے
کس میں ہمت تھی سر محفل جو ان سے پوچھتا
قبلہ عالم! درون خانہ کیا کرتے رہے
یاد بھی کرتے رہے اُن کو بھلاتے بھی رہے
اک تعلق کے لئے جو ہو سکا، کرتے رہے
وہ کرم نا آشنا تھے اور ہم سادہ مزاج
در دغم سہتے رہے اور التجا کرتے رہے
یہ تو سب ہے آپ ﷺکی امت میں ہونے کا اثر
دشمنوں کے واسطے بھی ہم دعاء کرتے رہے
ـــــــــــــــــــــــــ
ہاشم پورہ ۔۔۔۲۸ سال بعد
جن کی روحیں آج بھی انصاف کی طالب ہیں
مظلوموں کا خون بہا کر اب اتنا گھبرائے ہے
آئینے میں دیکھ کے چہرہ ظالم سر ٹکرائے ہے
ہوں تو میرے قتل سے خود کو بیگانہ بتلائے ہے
لیکن جب بھی نام سنے ہے چہرہ فق ہو جائے ہے
بنیوں کا بازار سجا ہے لوگ عدالت کہتے ہیں
محرم سے یا ری جو کرے ہے وہ منصف کہلائے ہے
مجبوروں کی فریادوں پر کون ہے وہ جو کان دھرے
دنیا اس کی بات سنے ہے جو اپنی منوائے ہے
جانے کس نے خط میں لکھ کر ظالم کو یہ بھیج دیا
اوروں کو دکھ دینے والا اک دن خود پچھتائے ہے
رسم وفا کا پورا کرنا اہل ہوس کا کام نہیں
انگارے ہاتھوں پر دھرے ہے کانٹوں پر چلوائے ہے
الفت کی باتیں بھی کرے ہے اور میرا کہلائے ہے
لیکن جب بھی وقت پڑے ہے پیچھے کو ہٹ جائے ہے
ـــــــــــــــــــــ
درس نصیحت کون سنے گا فرعونی درباروں میں
جبر وستم کا دور ہے پھر بھی جبر و ستم سے ڈرنا کیا
جو ہوتا ہے ہو کے رہے گا جیتے جی ہی مرنا کیا
سر کی بازی ہار کے ہم تو دل کی بازی جیت گئے
راہ ِوفا کو چھوڑ کے یارو جیتی بازی ہرنا کیا
اپنی باتیں آپ کہیں گے جو کہنا ہے صاف کہیں گے
دیواروں سے لگ کر تنہا، ٹھنڈی آہیں بھرنا کیا
ایسا کوئی کام کریں گے درد کو اپنے عام کریں گے
اشک بہا کر چپکے چپکے دامن کو تر کرنا کیا
جس جینے سے سکھ نہ ملے کچھ ، مرنے کا افسوس نہ ہو
وہ جینا بھی کیا جینا ہے، یہ مرنا بھی مرنا کیا
درسِ نصیحت کون سنے گا فرعونی درباروں
شان کلیمی ساتھ میں ہو سچ کہنے سے ڈرنا کیا
پیغام ہمارا ہے وجدی یہ شیخ حرم تک پہنچا دو
راضی جو کرے محکومی پر اس تاج کا سر پہ دھرنا کیا
ــــــــــــــــ
عزیمتوں کے چراغ
اندھیرے کر نہیں سکتے مری نظر کو اسیر
ہیں مشکلوں میں جلاتا ہوں ہمتوں کے چراغ
بفیض عشق ہمارے قلوب روشن ہیں
ہوا نے لاکھ بجھائے ہیں محفلوں کے چراغ
وہ کہہ رہے ہیں اجالا کریں گے راہوں
بجھا دیئے ہیں جنہوں نے بہت گھروں کے چراغ
ستم گروں سے یہ کہہ دو کہ سر جھکا کے چلیں
ہتھیلیوں میں دھرے ہیں یہاں سروں کے چراغ
فسردہ شب ہے تو کیا، آرزو تو زندہ ہے
سحر قریب ہے، روشن ہیں آنسوؤں کے چراغ
حصول حق کے لئے احتجاج کرتے ہیں
بجھے بجھے سے جو رہتے ہیں مفلسوں کے چراغ
یہ آندھیاں تو ہمیشہ نہیں چلا کرتیں
اٹھو اور اٹھ کے جلاؤ عزیمتوں کے چراغ
میرا دیار ہے باطل کی ملکیت تو نہیں
کہ میں جلا نہ سکوں یاں حقیقتوں کے چراغ
اج مولانا کے انتقال کی خبر سن کر دل رنجیدہ ہوا۔ اور اس بات کا بھی شدید احساس ہے کہ تحریک اسلامی اپنے ایک بہترین سپوت سے خالی ہو چکی ہے۔ اللہ ہمیں اس کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے اور مولانا کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے امین۔
Like this:
Like Loading...