Skip to content
ملک کی سا لمیت دستور کے تحفظ میں مضمر
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
یوم آزادی اور یوم جمہوریہ دونوں دن ہندوستان اور ہندوستانیوں کے لئے تاریخی حیثیت کے حامل ہیں،15اگست 1947 کے دن وطن عزیز ہندوستان طویل ترین جدجہد اور لاکھوں شہریوں کی جان عزیز کی قربانیوں کے بعد غاصب ،ظالم وجابر انگریزوں کے تسلط سے آزاد ہوا،یہ ایسا یادگار ،سنہرا اور تاریخی دن ہے جو ہر ہندوستانی کو یاد ہے اور جسے کوئی ہندوستانی کبھی بھلا نہیں سکتا ،اس دن کے بعد ہندوستان اور ہر ہندوستانی کے لئے دوسرا پُر مسرت دن ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء ہے ، اس دن جمہوریت کی بنیاد پر وضع کردہ جدید قانون کے نفاذ کا حکم دے کر حکومت ہند ایکٹ جو ۱۹۳۵ سے نافذ تھا اسے منسوخ کر دیا گیا،اسطرح ہندوستان دنیا کی عظیم پارلیمانی ،غیر مذہبی جمہوریت بن گیا، یہ وہ یادگار دن ہے جس کا خواب ہمارے آبا واجداد نے شروع دن ہی سے دیکھا تھا،انہیں معلوم تھا کہ آزادی کے بعد ملک کا اتحاد ،اس کی سلامتی اور ترقی جمہوریت ہی میں مضمر ہے،اس لئے کے ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ،الگ الگ بولیاں بولنے والے اور الگ الگ تہذیب وثقافت رکھنے والے لوگ بستے ہیں ،مذہبی وثقافتی آزادی ہی ان کے درمیان پیار ومحبت کے پل کا کام کر سکتی ہے ،ان سے اگر ان کی مذہبی وثقافتی آزادی ختم کردی جائے گی تو یہ خانہ جنگی کا شکار ہوکر اپنا سکون وچین کھودیں گے جس کی وجہ سے ملک بدامنی کا شکار ہوجائے گا اور اس کی ترقی کی رفتار رک جائے گی چنانچہ ملک کے قائدین نے بڑے غور وفکر کے بعد اسے ایک ایسے دستور کے ساتھ جوڑ دیا جس میں ہر طبقہ کو مساویانہ حقوق حاصل ہیں اور کوئی بھی انہیں اپنے حقوق سے روک نہیں سکتا ۔
دستور ہند نے اسے دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک بنادیا ہے ،ایک ارب ۳۰ کروڑ شہریوں کے ساتھ دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی والی ریاست میں اس کا نام درج ہے ، اس میں مختلف مذاہب اور الگ الگ تہذیب وتمدن کے لوگ رہتے ہیں ،یہ شروع ہی سے پیار ومحبت کا گہوارہ رہا ہے ، شروع ہی سے یہاں کی بھائی چارگی پوری دنیا میں مشہور تھی، کہنے والے اسے مختلف رنگ ونسل اور مذہب وملت کا حسین گلدستہ کہا کرتے تھے ،ان میں بھید بھاؤ بالکل بھی نہیں تھا ،اس کا بین ثبوت آزادی کی لڑائی اور انگریزوں کے خلاف جدجہد ہے ،چنانچہ اسی وجہ سے ملک کا قانون رنگ ونسل اور ذات ومذہب سے بالاتر ہو کر رکھا گیا ، آزادی کے بعد ہندوستان کے آئین اور دستو ربنانے کے لئے ڈاکٹر امبیڈ کر کی چیئر مین شپ میں ۱۹؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ایک ڈرافٹنگ کمیٹی وجود میں آئی ،فروری ۱۹۴۸ء میں اس قانون کا مسودہ (ڈرافٹ) شائع کیا گیا ،۲۶؍نومبر۱۹۴۹ء کو آئین کو منظوری دے دی گئی اور اس کا اطلاق آج ہی کے دن یعنی ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء سے شروع ہوا،اس آئین ساز اسمبلی میں دوسرے اراکین کے ساتھ آئین سازی کے عمل میں مسلمان اراکین نے بھی حصہ لیا ،ان میں مولانا ابوالکلام آزاد ؒ ، بیرسٹر آصف علی ،خان عبدالغفار خان،محمد سعد اللہ ،عبدالرحیم چودھری،بیگم اعزاز رسول اور مولانا حسرت موہانیؒ شامل تھے ،اس دستاویزپر مولانا حسرت موہانی کے علاوہ سبھی اراکین اسمبلی نے دستخط کئے ،ہندوستانی آئین کی خصوصیت اور کے اجمالی ذکر سے قبل جانتے ہیں کہ آخر جمہوریت کسے کہتے ہیں اور اس کی تعریف کیا ہے۔
’’جمہوریت‘‘ کے لغوی معنی ’’لوگوں کی حکمرانی‘‘جمہوریت کا لفظ دو یونانی الفاظ Demo یعنی’’ عوام‘‘ اور Kratos یعنی ’’حکومت ‘‘سے مل کر بنا ہے ، دستور ہند نے ہندوستانی عوام کو خود اپنی حکومت منتخب کرنے کے لئے خود مختار بنایا ہے اور ہندوستانی عوام کو سر چشمہ اقتدار مانا ہے،دستور نے پارلیمانی طرز کی جمہوریت کے سامنے کابینہ کو اپنے فیصلے قانون سازی اور اپنی پالیسی کے لئے جواب دہ بنایا ہے اور تمام باشندے بلا تفریق مذہب وملت ایک مشترکہ جمہوریت میں پرودئے گئے ہیں ،جمہوریت میں مذہب کی اہمیت کا بھی اعتراف کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ ملک مذہب کی بنیاد پر حکومت نہیں کرے گا ،دستور کی 42 ویں ترمیم کی رو سے ’’سیکولر اسٹیٹ‘‘ کہا گیا ہے ،جہاں ہر مذہب کا احترام ہوگا اور مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا،مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر کسی شہری کو شہریت کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گااور ہر شہری کو ملکی خدمات سے متمتع ہونے اور فائدہ اٹھانے کا پورا موقع ملے گا،آئین کی رو سے ہر ہندوستانی قانون کی نگاہ میں برابرہے،ہر شہری کو آزادی رائے ،آزادی خیال اور آزادی مذہب حاصل ہے ،اقلیتوں کو بھی دستور میں ان کا حق دیا گیا ہے ۔
مگر یہ بات تجربات ، مشاہدات اور موجودہ حالات کی روشنی میں کہتے ہوئے کوئی تامل نہیں ہے کہ اس عظیم جمہوری ملک جس کے دستور میں سب کے لئے مساویانہ حقوق بیان کئے گئے ہیں اور ہر ایک کو آزادی کے ساتھ اپنے اپنے مذہب پر مکمل عمل کا اختیار حاصل ہے اس کے باوجود یہاں کے باشندگان مثلاً بچھڑے طبقات ،دلت ،آدیواسی اور خصوصاً مسلمان مستقل ظلم وستم اور ناانسافی کا شکار ہورہے ہیں ،کبھی ان سے ان کے حقوق چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تو کبھی فوائد سے انہیں محروم کیا جاتا ہے تو کبھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے تو کبھی ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی جاتی ہے ،جب کبھی یہ اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگا کر بلا کسی ثبوت کے جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے ،ان تمام حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے مسلمان اس ملک کے حقدار نہیں بلکہ کرائے دار ہیں ،حالانکہ تاریخ جانتی ہے اور باضمیر ہر شہری کا دل جانتا ہے کہ اس ملک کی آزادی میں جتنا حصہ دوسروں نے ادا کیا ہے اس سے کہیں زیادہ مسلمانوں نے ادا کیا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جتنا خون مسلمانوں کا بہا ہے اتنا پسینہ بھی کسی اور کا بہا نہیں ہے، آزادی ہند اور اس کے بعد سے مسلسل مسلمان دیگر برادارن وطن کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی ،کامیابی اور خوش حالی کے لئے کوششیں کر رہے ہیں اور تعلیمی،تعمیری، سائنسی، ثقافتی ،تفریحی اور تجارتی تمام شعبہ جات میں اپنا لوہا منواچکے ہیں ،ان تمام تر خدمات کے باوجود پھر بھی انہیں اجنبی نگاہوں سے دیکھا اور اچھوت سمجھا جارہا ہے ،ان کے حقوق چھینے جارہے ہیں اور ان کے ساتھ غیروں کی طرح سلوک کیا جارہا ہے ،کبھی انہیں پڑوسی ملک کا نام لے کر ذہنی اذیت دی جاتی ہے تو کبھی ملک سے بے وفائی کا الزام لگایا جاتا ہے تو کبھی دہشت گردی کاجھوٹا ان پر الزم لگا یا جاتا ہے ، اس وقت یہ سلسلہ آگے بڑھتے بڑھتے اپنے تمام حدوں کو پار کر چکا ہے ،موجودہ حکومت تو اپنا مشغلہ ہی یہی بناچکی ہے کہ کس طرح مسلمانوں کو ستایا جائے اور ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جائیں ،یہ لوگ ملک کی عوام سے جھوٹا وعدہ کرکے حکومت کی کرسی پر قبضہ جماچکے ہیں ،ترقیاتی کاموں کو چھوڑ کر باشندگان میں بھید بھاؤ پیدا کرنا ،نفرت کی آگ بھڑکانا اور شہریوں کے سکون وچین کو برباد کرنا ان کا وطیرہ بن چکا ہے ، آئین کے نام سے اور دستور کی قسم کھا کر عہدہ کا حلف لینے والے یہ خود دستور کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں ،یہ عجیب بات ہے کہ ان کی نظر میں دستور کے ساتھ کھلواڑ کرنے ولا تو ملک کا سچا محب ہے اور دستور کی حفاظت کے لئے جد جہد کرنے ولا مجرم ہے ،حالانکہ اس وقت ملک میں عوامی فلاح وبہبود کے لئے کرنے کے بہت سے کام ہیں جیسے غربت دور کرنا،غریبی دور کرنا ،پسماندگی دور کرنا ،جہالت دور کرنا وغیرہ ،آج بھی ہندوستان کی ایک تہائی آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ،ایک سروے کے مطابق 48 فیصد لوگوں کے پاس اپنے مکانات نہیں ہیں ،75 فیصد دولت اور سرمایہ صرف چند لوگوں کے ہاتھوں میں محدود ہے ،اس وقت آئین اور دستور کی سب سے زیادہ دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں ،مسلمانوں ،دلتوں ،آدی واسیوں ،کسانوں اور کمزور طبقات کے ساتھ دوسرے درجہ کے شہری جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور انہیں اپنے جائز حقوق سے محروم کرنے کی ناپاک سازشیں تیار کی جارہی ہیں بلکہ کی جا چکی ہیں ۔
موجودہ حکومت جس کی باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے ،وہ کچھ اور ہی چاہتے ہیں ،وہ دستور میں تبدیلی کے ذریعہ شہریوں سے ان کے حق چھیننا چاہتے ہیں جس کے لئے وہ کافی عرصے سے کوشش میں لگے ہوئے تھے ،سب سے پہلے انہوں نے مذہب کے نام پر سیاسی کھیل کھیلا اور لوگوں میں تفریق پیدا کی،پھر مسلم عورتوں سے جھوٹی ہمدردی کا سہارا لے کر طلاق ثلاثہ کے ذریعہ شریعت میں مداخلت کی اور اس وقت شہریت کے نام پر جدید قانون لاکر شہریوں کی شہریت پر سوالیہ نشان لگانا چاہتے ہیں ،کس قدر شرم کی بات ہے کہ جس نے انہیں وٹ دیا ہے اُنہیں سے ووٹ کا حق چھیننا چاہتے ہیں اور جنہوں نے حکومت پر بٹھا یا اُنہیں ملک سے بھگانا چاہتے ہیں ،ان کی نظر میں ہر شہری مشکوک ہے اور ہر باشندہ ناقابل اعتبار ہے ،دراصل یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے ،یہ جمہوری ملک کو مذہبی ملک اور ہندو راشٹر میں تبدیل کر نا چاہتے ہیں ،ملک کے باشندگان پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں ،ان سے شہریت چھین کر انہیں ووٹ کے حق سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے نوکر بناکر اپنے رحم وکرم کے دم پر رکھنا چاہتے ہیں ،یہ شیطانی چال چل رہے ہیں ، نظر مسلمانوں کی طرف ہے مگر نشانہ سب پر ہے ،ان کے عقل پر ماتم کیجئے کہ اپنے شہریوں کو غیر قانی قرار دے کر باہر کے لوگوں کو شہریت دینا چاہتے ہیں ۔
موجودہ حالات دیکھ کر مجھے دستور ساز کمیٹی کے سر براہ ،معروف لیڈر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی وہ بات یاد آرہی ہے جو انہوں نے آئین ساز اسمبلی میں آئین کا مسودہ پیش کرتے ہوئے کہا تھاکہ’’دنیاکا کوئی بھی قانون کامل نہیں ہو سکتا ،اس کو موثر اور قابل استعداد بنانا روبہ عمل لانے والے افراد اور ادروں کی نیت اور ہیت پر منحصر ہے ،اسی تقریر میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایک اچھے سے اچھا آئین بھی اگر نااہل اور بے ایمان کے ہتتے چڑھ جائے تو بد سے بد تر ثابت ہو سکتا ہے ،اس کو چلانے والے اداروں کے ذمہ دار اگر ذہین فراخ دل اور بامروت ہوں تو خراب سے خراب تر آئین بھی اچھا ثابت ہو سکتا ہے‘‘، اس وقت کچھ یہی صورت حال ہے ،حکومت چلانے والے بے مروت، بد باطن اور آئین دشمن ہیں،ان کی چالوں سے واقف ہونا اور ان کی گندہ ذہنیت سے کو سمجھنا ضروری ہے اور جمہوریت کے اصولوں کی حفاظت اور اس کے دستور کے تحفظ کے لئے کمر بستہ ہونا ضروری ہے اور یہ ہر شہری کی اہم ترین ذمہ داری ہے ،اس کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہے بلکہ ملک اور اس کے تمام باشندگان سے ہے ، ملک اور اس کا دستور زبان حال سے ہر شہری کو اس کی حفاظت کے لئے آواز دے رہا ہے ، چنانچہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ متحد ہو کر ،بیک آواز اور ایک طاقت بن کر دستور بچانے میں آگے آئیں ، یہ بات یاد رکھیں کہ یقینا حکمران ظالم ہیں اور بلا شبہ ہم مظلوم ہیں ،اگران کے پاس اقتدار ہے تو ہمارے پاس اتحاد ہے ،ان کے پاس طاقت ہے تو ہمارے پاس ہمت ہے اور اگر ان کے پاس لاٹھی ہے تو ہمارے پاس وطن کی محبت میں دھڑکتا دل ہے ،یوم جمہوریہ ہر سال آتا ہے اور تحفظ جمہوریت کا پیغام دیتا ہے اور جمہوریت کے تحفظ کے عہد کی تجدید کراتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر جمہوریت محفوظ ہے تو پھر جشن یوم جمہوریہ تمہارا حق ہے اگر جمہوریت خطرہ میں ہے تو پھر جشن یوم جمہوریہ منانا کسی مذاق سے کم نہیں ہے ،اس لئے یوم جمہوریہ کے موقع پر ہر شہری کو دستور کی حفاظت اور جمہوریت کی بقا کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کا عہد کرنا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے آباواجداد نے آزادی کے لئے لڑائی لڑی تھی اور اب ہم کو دستور بچانے کے لئے جدجہد کرنا ہے۔
بالخسوص مسلمانوں نے اپنے وطن سے بے پناہ محبت کی ہے ،کر رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے ،انہوں نے اس ملک کو سجانے اور سنوار میں اپنا بہت کچھ لگایا ہے جس کی مثالیں بلند وبالا تاریخی عمارتوں کی شکل میں موجود ہیں ،ملک کے طول وعرض میں پانی کی نہریں ،پل وسڑکیں ،اسپتال وشفاخانے اور ا نسانیت کے لئے کی گئی بہت سی خدمات انہیں کے آبا واجداد کی یاد گار ہیں ،پھر آزادی کے لئے بہایا گیا خون ، لُٹائی گئیں جانیں اور میدان کارزار میں دکھائے گئے کارنامے تاریخ کے ہر صفحہ پر موجود ہیں اور زبان حال سے انہیں سلام کرتے ہیں مگر افسوس کہ مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ یہ وطن ہمارا ہے تمہارا نہیں
جب گلستاں کو خوں کی ضرورت پڑی ،سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی
پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہل چمن، یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں
؎ بلاشہ مسلمان اپنے وطن عزیز سے بے حد محبت کرتا ہے ،اسے اس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس پر کسی طرح کے گواہ بتانے کی ضرورت ہے بلکہ مسلمانوں کے قبرستان بتارہے ہیں کہ وہ اپنے وطن سے کس قدر محبت کرتے ہیں ،ماضی قریب میں لاک ڈاؤن کی شکل میں پوری دنیا پر اندھیرا چھاچکا تھا ،پوری دنیا میں اور خصوصیت کے ساتھ ہمارے ملک ہندوستان میں لاکھوں متوسط اور غریب گھرانے دوقت کی روٹی کو ترس رہے تھے ،ان حالات میں بڑے بڑے مسلم سرمایہ داروں نے حکومت کی مدد کی اور عام مسلمانوں نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا لحاظ مزہب وملت لاکھوں باشندگان ہند کی امداد کی اور بُرے وقت میں انسانی بنیادوں پر مدد کرکے لاکھوں دلوں کو جیت لیا اور لاکھوں لوگوں کی دعائیں حاصل کی اور اپنے اس عمل سے فرقہ پرستوں اور مطلب پرست سیاست دانوں کے منہ پر ایسا زوردار طماچہ رسید کیا کہ انہیں دن میں تارے نظر آنے لگ گئے ۔
یقینا جمہوریت کا یہ یادگار دن زبان حال سے تمام باشندگان ہند سے کہہ رہا ہے کہ اپنے ملک کے دستور کی حفاظت سب مل کر متحد ہوکر کریں ،یاد رکھیں دستور پر یکساں سول کوڈ کے بادل منڈلارہے ہیں ، اگر دستور کو نقصان پہنچتا ہے تو سمجھ لو کہ ہر شہری اس کی زد میں آئے گا ،چاہے اس کا نقصان فی الفور سمجھ میں نہ آئیں مگر اس کا نقصان سبھی کو اٹھانا ہوگا ،اگر اس وقت سبھوں نے مل کر دستور کی حفاظت نہیں کی تو پھر اس کا نقصان خود ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اٹھانا پرے گا ،اس لئے جس طرح ملک کے تمام شہریوں نے مل کر وطن کی آزادی کے لئے جدجہد کی تھی اسی طرح سبھوں کو مل کر جمہوریت کی حفاظت کے لئے کوشش کرنا ہوگا ،بلا شبہ ملک کی سا لمیت جمہوریت کے تحفظ میں مضمر ہے۔
Like this:
Like Loading...