Skip to content
مطالبات منوانے کیلئے مسلمانوں میں سیاسی شعورکی ضرورت
غزوہ تبوک مومنوں اور منافقوں کے درمیان کسوٹی ثابت ہوا۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب کا بیان
حیدر آباد ( 24 جنوری 2025ء ) حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عزہ تبوک مدینہ منورہ سے تقریباً (700) کلومیٹر کی مسافت پر دمشق کے راستے میں واقع ہے۔ اس غزوہ کا نام تبوک اس لئے رکھا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند صحابہ کو ایک چشمے سے پانی حاصل کرتے دیکھا تو فرمایا "تم تبوک پر اترے ہو۔ میں اس غزوہ کا نام تبوک رکھتا ہوں”۔ فتح مکہ کے سات ماہ بعد ماہ رجب 9 ہجری میں غزوہ تبوک پیش آیا تھا۔ سورہ تو بہ کی کچھ آیات غزوہ تبوک پر روانگی سے قبل کچھ دورانِ سفر اور کچھ مدینہ واپسی کے بعد نازل ہوئیں۔ یہ غزوہ مومنوں اور منافقوں کے درمیان کسوٹی ثابت ہوا۔
ابو عامر فاسق غزوہ الاحزاب کے بعد بھاگ کر قیصر روم کے پاس پہنچ گیا اور اسے مسلمانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اکسا رہا تھا۔ وہ فتح مکہ اور بنی ہوازن کی شکست سے بہت پریشان تھا اور آدھی دنیا کا حکمران ہونے کا اُسے بہت گھمنڈ تھا۔ اور مسلمانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اکسا رہا تھا۔ وہ فتح اور مسلمانوں سے ٹکر لینے کی تیاریوں کی خبر میں مسلسل مدینہ پہنچ رہیں تھیں ۔ شام سے آئے ہوئے سوداگروں نے جب قیصر روم کی جنگی تیاریوں کی خبروں کی تصدیق کی تو حضور اقدس ﷺ نے ضروری سمجھا کہ نہ تو رومیوں کو پہل کرنے کا موقعہ دیا جائے اور نہ ان کو عرب کی سرحدوں کے اندر داخل ہونے دیا جائے۔ اس سے پہلے کے غزوات میں صرف تیاری کا حکم نبوی ہوا کرتا تھا اور تفصیل نہیں بتائی جاتی تھی۔
غزوہ تبوک کے لئے مسلمانوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے لئے نا مساعد حالات اور منزل کی دوری کی پوری تفصیل بتا کر مومنوں کو دور دراز سفر کے لئے مناسب تیاری کا حکم دیا۔ اُس وقت موسم انتہائی گرم اور عین فصل پکنے کے دن تھے۔ ایک طرف آپ مسلمانوں کو گھروں سے نکلنے کے لئے حکم فرمارہے تھے تو دوسری طرف منافقین ان کو گرمی کی شدت، دشوار گزار اور طویل سفر سے ڈرا کر ان کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہم کی تیاری کے لئے مختلف قبائل سے بھی لشکر جمع کئے۔ مالی حیثیت کو مضبوط کرنے کے لئے صاحب ثروت صحابہ کرام کو عطیات جمع کرانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا "دینوی زندگی کا سرمایہ آخرت میں بہت کم ہے "۔
اس موقعہ پر حضرت عمر فاروق نے اپنے تمام گھر یلواثاثے کا آدھا حصہ حضور ﷺ کے قدموں میں ڈال دیا۔ حضور ﷺ نے پوچھا تو عرض کیا : یا رسول اللہ ! اتنا ہی حصہ گھر والوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں”۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنا کل اثاثہ لا کر مسجد نبوی ﷺ میں ڈھیر کر دیا۔ حضور ﷺ نے پوچھا کچھ گھر والوں کے لئے چھوڑا ہے تو عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نام چھوڑا ہے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت عباس حضرت طلحہ ، حضرت سعد ابن عبادہ محمد بن سلمہ اور حضرت عاصم بن عدی نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنا اپنا حصہ پیش کیا۔ سب سے بڑا عطیہ حضرت عثمان نمی نے پیش کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسجد نبوی ﷺ میں مال وزر اور اجناس خوردنی کے ڈھیر لگ گئے۔
خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے زیورات عطیات کے طور پر پیش کئے۔ حضور نے ان عطیات سے مجاہدین کو ضروری جنگی اور دوسرا سامان خریدنے کی تلقین فرمائی ۔ اس طویل اور دشوار گزار سفر کے پیش نظر لوگوں کو اپنے ساتھ زیادہ سے زیادہ جوتے رکھنے کی نصحیت فرمائی ۔ 30 ہزار مجاہدین پر مشتمل یہ شکر جس میں 10 ہزار گھڑ سوار اور 12 ہزار شتر سوار بھی شامل تھے ایک ایسی حکومت سے ٹکر لینے کے لئے جس کی طاقت کا لوہا آدھی دنیامان چکی تھی حضرت ابو بکر صدیق کی کمان میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوا اور تقریباً 15 دن کی مسافت طے کر کے تبوک پہنچا۔
20 دن وہاں قیام ہوا اور تقریباً 15 دن واپسی پر لگے۔ تبوک پہنچنے کے بعد حضور اللہ نے اللہ تعالیٰ کی کچھ حمد وثنا بیان کر کے یک خطبہ ارشادفرمایا۔صلى الله الله تبوک میں آپ ﷺ نے تقریباً 20 دن دشمن کا انتظار کیا مگر کوئی مقابلے کے لئے نہ آیا۔ دراصل اتنے دشوار گزار راستوں میں 30 ہزار مجاہدین سمیت حضور ﷺ کے عرب سرحدوں تک پہنچ جانے سے دشمن اس قدر مرعوب ہو گیا کہ اس طرح کارُخ کرنے کی ہمت ہی نہ ہو سکی۔ اور وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ مسلمانوں کی کمزوریوں کی جو خبریں اُس کو دی گئی تھیں وہ غلط تھیں۔ ایک مخبر کی اطلاع پر وہ نفسیاتی طور پر اس قدر متاثر ہوا کہ مسلمان ہونے کا ارادہ کر لیا ۔ اس طرح نفسیاتی فتح سیاسی فتح میں تبدیل ہو گئی ۔ آپ ﷺ نے آس پاس کے حکمرانوں کے پاس اپنے قاصد بھیجے۔
بعض نے نذرانے بھیجے اور بعض نے جزیہ دینا منظور کر لیا۔ اہل ایلہ کو امان نامہ عطا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے مختلف معاہدات کے ذریعے اسلامی مملکت کی شمالی سرحدوں کو مضبوط کر لیا۔ رومی اور نصرانی مقابلے کے لئے نہ آئے ۔ ہر قل نے حمص سے حرکت نہ کی۔ چنانچہ 20 دن انتظار کرنے کے بعد آپ می نے مہاجرین اور انصار سے مشورہ کیا کہ آگے بڑھنا چاہیے یا واپس مدینہ جانا چاہئیے ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا جیسے آپ حکم کریں ہم حاضر ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” اگر ایسا ہوتا تو آپ سے کیوں پوچھتا ” ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ قیصر مسلمانوں کا مرعوب ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مقابلے کے لئے نہیں آیا۔ اس لئے آگے بڑھنے کی بجائے واپسی زیادہ بہتر ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے واپسی کا حکم فرمایا۔ جو منافق اس لشکر میں شامل تھے وہ واپسی سے ناخوش تھے۔
چنانچہ ان میں سے بارہ منافقوں نے سازش کر کے آپ ﷺ کو پہاڑی سے گرانے کی سازش کی ۔ اللہ نے آپ ﷺ کو بذریعہ وحی اس سازش کی خبر کر دی۔ شعبان کے آخر یا رمضان کے شروع میں آپ ﷺ مدینہ منورہ واپس پہنچے۔ سب سے پہلے مسجد نبوی تشریف لے گئے ۔ دوگانہ نفل ادا کئے اور لوگوں کو شرف ملاقات بخشا۔ غزوہ تبوک کے نتائج اور اثرات: (1) اس طویل اور کھٹن سفر پر کامیاب پیش قدمی سے دشمن مرعوب ہو گیا اور بغیر جنگ کے شکست قبول کر لی (2) مسلمانوں کی عسکری برتری کو تمام فریقین نے تسلیم کر لیا (3) آس پاس کی حکومتیں اور عرب قبائل اسلام کی طرف مائل ہوئے (4) بغیر جنگ کے فتح کے تمام فوائد حاصل ہوئے
(5) اسلام کی بالا دستی قبول کرتے ہوئے دور دراز علاقوں سے آکر لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا (6) مسلمانوں کا مورال بلند ہو گیا اور مشکل سے مشکل حالات میں بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکر لینے کا حوصلہ پیدا ہو گیا (7) جزیہ کی وصولی شروع ہو گئی (8) اشاعت اسلام کا دور دراز علاقوں تک آغاز ہوا (9) منافقین کا پردہ چاک ہو گیا (10) غزوہ تبوک اہل ایمان اور منافقین کے درمیان کسوٹی ثابت ہوا (11) نفسیاتی جنگ کے سیاسی نتائج برآمد ہوئے (12) ایلہ کے عیسائی حکمران یوحنا نے خود حاضر ہو کر جزیہ دینا منظور کر لیا۔ اس کے علاوہ جربا اور اذرخ کے عیسائیوں نے صلح کر کے جزیہ دینا منظور کر لیا (13) آئندہ کے لئے اسلام کی ترقی کی راہیں کھل گئیں جن سے اسلامی پرچم دور دراز علاقوں قیصر و کسری کے علاقوں پر بھی لہرایا۔
Like this:
Like Loading...