Skip to content
نرملا سیتا رمن کے بجٹ پر ٹرمپ کے کالے بادل
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
یکم فروری کو مودی حکومت کی تیسری مدت کار کا پہلا عام بجٹ عوام کے لیے کیا سوغات لائے گا اس کا نہ صرف سرمایہ دار بلکہ عام لوگ بھی بے صبری سے انتظار کررہے ہیں ۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کو ایک طرف تو ان سرمایہ داروں کو خوش کرنا ہے جن کے چندے سے بی جے پی نے ہزاروں کروڈ کی انتخابی مہم چلائی ۔ اس اوسط درجہ کے طبقے کا خیال رکھنا ہے جس کی مدد کے بغیر اس سال نہ تو دہلی یا بہار کا صوبائی انتخاب جیتا جاسکتا اور نہ گجرات و اترپردیش کے الیکشن میں کامیابی درج کرانا ممکن ہے کیونکہ بھوک کی آگ کمبھ کے پانی سے نہیں بجھتی ۔ نرملا سیتا رمن کے لیے ان غریب لوگوں کے لیے بھی گنجائش رکھنی پڑے گی کہ جن کو ریوڈیاں بانٹ کر مرتے پڑتے 240 نشستوں پر بی جے پی کامیابی حاصل کرپائی ہے۔ وہ لوگ اگر ناراض ہوگئے تو نہ سرمایہ دار کام آئیں گے اور نہ گودی میڈیا کچھ کرپائے گا۔ اس بار بیساکھیوں والی سرکار کے سارے دعویداروں کو ناز برداری نرملا سیتا رمن کے لیے بہت بڑی اگنی پریکشا ہے۔
ہندوستانی معیشت میں ٹریڈ ڈیفیسٹ یعنی تجارتی خسارہ ایک نہایت تشویشناک پہلو ہے۔ اس معاملے میں حکومت کی طرف سے جاری کیے جانے والے برآمدات اوردرآمدات کے اعداد و شمار بھی چونکانے والےہیں۔ حکومتِ ہند کے مطابق دسمبر میں جہاں ایکسپورٹ میں ایک فیصد سے زیادہ کی کمی دیکھنے کو ملی ہے، وہیں امپورٹ میں تقریباً 5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہندوستانی معیشت کے لیے اچھے اشارے نہیں ہیں۔ یہ رجحان پہلے سے اتھل پتھل کا شکار شیئر مارکیٹ کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہےنیز روپے کی قدر میں بھی گراوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے سامان کی برآمدات دسمبر 2024 میں سالانہ بنیاد پر تقریباً ایک فیصد گھٹ کر 38.01 ارب ڈالر رہ گئی۔ دسمبر 2023 میں یہ 38.39 ارب ڈالر تھی۔ پچھلے سال نومبر کی برآمدات 32.11 بلین ڈالر کے مقابلے نومبر 2023 میں وہ 33.75 بلین ڈالر تھی۔اس کے برعکس درآمدات میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 میں درآمدات سالانہ بنیاد پر 4.8 فیصد بڑھ کر 59.95 ارب ڈالر ہو گیا۔ دسمبر 2023 میں یہ 57.15 ارب ڈالر تھا۔ پچھلے سال نومبر کے مہینے میں ہندوستان کی درآمدات 69.95 بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جو کہ نومبر 2023 کے مقابلے میں 27.47 فیصد زیادہ تھی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر کے ماہ میں تجارتی خسارہ یعنی برآمدات و درآمدات کے درمیان کا فرق 21.94 ارب امریکی ڈالر ہو گیا کیونکہ موجودہ مالی سال 25-2024 کی اپریل-دسمبر مدت میں برآمدات 1.6 فیصد بڑھ کر 321.71 ارب ڈالر اور درآمدات 5.15 فیصد بڑھ کر 532.48 ارب ڈالرپرآگئی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بیروزگاری اپنے شباب پر ہو برآمدات کے مقابلے درآمدات کا زیادہ ہونا نوجوانوں کے تاریک مستقبل کی ضمانت اور مہنگائی کے سیلاب کی علامت ہے اس تناظر میں نرملا سیتا رمن کے بجٹ سے بہت سارے لوگوں نے الگ الگ امیدیں وابستہ کررکھی ہیں اور ان میں سے کتنوں کے توقعات پر پوری اتریں گی یہ تو وقت بتائے گا ۔
حکومتِ ہند کی معاشی مصیبت بڑھانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پھر سے منتخب ہوگئے ہیں ۔ وہ پیدائشی سیاستداں نہیں بلکہ سرمایہ دار ہیں ۔ ایک بڑے تاجر کی حیثیت سے8 ؍ سال قبل انہوں نے دولت کے بل بوتے پر ریپبلکن پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرکے انتخاب جیتا اور عہدۂ صدارت پر فائز ہوگئے۔ اس کے چار سال بعد انتخاب ہار گئے اور پھر ایک بار لڑے جیتے اور صدر بن گئے۔ اس پورے عرصے میں وہ ایک سرمایہ دار تھے ، ہیں اور آگے بھی رہیں گے۔ ٹرمپ کے لیے صدارت اور سیاست تو آنی جانی ہے مگر تجارت ایک مستقل شغل ہے۔ برکس نامی معاشی تنظیم میں زیادہ سے ممالک کی دلچسپی اور اس کے ذریعہ ڈالر کے بالمقابل ایک نئی کرنسی کے تناظر میں ڈالر کی برتری کو قائم رکھنا امریکہ کے نومنتخب صدر کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہے مگر کرپٹو کرنسی سے بھی ان کی محبت جگ ظاہر ہے۔ اس لیے اب انہیں ’اندر والی اور باہر والی‘کرنسیوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی آزمائش سے گزرنا پڑے گا۔
کرپٹو کرنسی کی بابت ٹرمپ رویہ کیا ہوگا یہ انہوں نے حلف برداری سے قبل ظاہر کردیا ۔ ساری دنیا میں جب فلسطین کی جنگ بندی کا چرچا تھا تو انہوں نے اس کی آڑ میں خاموشی سے 17؍ جنوری اور 20؍ جنوری کوبالترتیب اپنے آفیشل میم کوائن #TRUMP اور #MELANIA لانچ کردئیے۔ امریکہ کے تجارتی حلقوں میں ٹرمپ کا استقبال اس طرح ہواکہ ان کی حلف برداری سے چند گھنٹے قبل، 20؍ جنوری کو کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت ایک بڑا ہدف عبور کرکے ایک لاکھ 9 ہزار 114 ڈالر 88 سینٹ تک پہنچ گئی ۔ یہ بٹ کوائن کی تاریخ میں بلند ترین سطح ہے۔ٹرمپ کی آمد نے کس طرح دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی کا بھلا کیا اس کا اندازہ ان اعدادوشمار سے لگایا جاسکتا ہے کہ حلف برداری قبل 24 گھنٹوں میں وہ 2.78فیصد بڑھی جو ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے 14.96فیصد اضافہ تھا ۔ بی ٹی سی کا مارکیٹ کیپ 2.13 ٹریلین ڈالر ہے ۔یہ ہندوستان کی معیشت کے آس پاس ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کون پہلے پانچ ملین ڈالر پر پہنچتا ہے۔ فی الحال تو یہی آثار ہیں کہ بٹ کوئن کو ٹرمپ اس ہدف سے بہت آگے پہنچا کر جائیں گے ۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر خارجہ جئے شنکر کو ہندوستان کے نمائندے کی حیثیت سے مروتاً دعوت دی مگر مکیش امبانی کوبرضا و رغبت بلا کر یہ پیغام دیا کہ ان کے نزدیک تجارت کو سیاست پر فوقیت حاصل ہے۔ حلف برداری کے دوران ٹرمپ کے ساتھ امریکہ کے تین بڑے سرمایہ دار شہ نشین پر تشریف فرمان تھے اور نومبر کے بعد سے ان کی دولت میں 33 ؍ بلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ کے اندر غریب اور امیر طبقات کے درمیان تفاوت کتنی بڑھی ہوگی ؟مہنگائی اور بیروزگاری پر کیا اثر ہوا ہوگا ؟؟یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ امریکی عوام نے انہیں مسائل سے تنگ آکر ڈیموکریٹک پارٹی کو سبق سکھایا ۔ اس کی امیدوار کملا ہیرس کو بری طرح ہرا کر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر پر تاج رکھ دیا اور انہوں عوام کا استحصال کرکے دن دونی ترقی کرنے والوں کو بغلگیر کرلیا ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کی افتتاحی تقریر میں دنیا بھر کے مسائل پر اظہار خیال تو ہوا لیکن ان بنیادی عوامی مسائل پر مکمل سناٹا چھایارہا۔ انہوں نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ بیروزگاری کیسے دور کریں گے؟ فٹپاتھ نشیوں کو سستا مکان کیونکر فراہم ہوگا ؟ ؟واجبی نرخ پر طبی سہولیات کیسے مہیا کرائی جائیں گی؟؟؟ ملک میں خوشحالی کیسے آئے گی؟؟؟؟
ڈونلڈ ٹرمپ گیدڑ بھپکی میں یقین نہیں کرتے بلکہ نتائج کی پروا کیے بغیر جو من میں آئے کر گزرتے ہیں۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے اپنے ہم سایہ کینیڈا اور میکسیکو پرتجارتی ٹیکس میں 25؍فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔ ٹرمپ نے چین کے جن شی پنگ کو اپنی حلف برداری میں بلایا ۔ وہ نہیں آئے پھر بھی حلف برداری کے بعد ان کے ساتھ فون پر گفتگو کی اس کے باوجود ماہرین معیشت یہ توقع کررہے ہیں کہ نئی ٹرمپ انتظامیہ، بلاک چین انسٹرومنٹ کی حمایت کرے گی۔ برکس کے اندر چونکہ ہندوستان کے تعلقات امریکہ سے بہت اچھے ہیں اس لیے وہ کوشش کرےگا کہ اسے نئی کرنسی کے استعمال سے روکے۔ اس مقصدلیے دباو ڈالنے خاطر ٹرمپ کی ہندوستانی در آمدات پر سو فیصد(ٹیرف) ٹیکس لگانے کی دھمکی ایک تجارتی بم سے کم نہیں ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی پر ٹرمپ نے بلاواسطہ دباو بنانے کا منصوبہ بنایا اور اٹھارہ ہزار ہندوستانیوں کو درانداز یعنی گھس پیٹھیا قرار دے دیا ۔
این آر سی کی آڑ میں ہندوستان کے اندر روہنگیا اور بنگلادیشیوں کو ہواّ کھڑ ا کرکے مسلمانوں کی پریشان کرنے بہتیری کوششیں کی گئیں لیکن کوئی بنگلا دیشی واپس نہیں بھیجا جاسکا۔ جن ہندووں کی مظلومیت کا ڈھول پیٹا جارہا تھا ان کو روکنے کے لیے بنگلا دیشی سرحد پر کانٹے دار جالی لگائی گئی۔ امریکہ نے جب ہندوستان کو جھکانے کی خاطر دباو ڈالا تو مودی سرکار تجارتی نقصان کے خوف سے سجدے میں گر گئی۔ مودی جی نے آنکھیں دکھانے کے بجائے نظریں جھکا لیں اور وزیر خارجہ جئے شنکر سے اعلان کروا دیا کہ وہ انہیں واپس لانے میں ٹرمپ انتظامیہ کی مدد کریں گے۔ وہ ہندوتوانواز جو ٹرمپ کی کامیابی کے لیے ہون کررہے تھے اور ان کی کامیابی پر مٹھائی بانٹ رہے تھے فی الحال دُم دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔وزیر اعظم مودی سمیت ان کے بھگتوں میں ہمت نہیں ہے کہ اس ناانصافی کے خلاف زبان کھولیں۔ امریکہ کے اندر ایک عیسائی پادری نے ٹرمپ کو جس طرح سخت لہجے میں ڈانٹا اس کا عشرِ عشیر اضتجاج بھی مودی سرکار نہیں کرسکی ۔ماہرین کے مطابق یہ تو ابتدائی فہرست ہے ورنہ امریکہ میں رہائش پذیر ساتھ لاکھ ہندوستانیوں پر نقل مکانی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ مودی کی سبکدوشی کے بعد اگر یہ سانحہ ہوتا تو بھگت کہتے کہ ان کے ہوتے یہ ناممکن تھالیکن ایسا لگتا ہے کہ مشیت نے انہیں اس طرح ذلیل و رسوا کرنے کے لیے ہی تیسری بار کامیاب کیا ہے۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...
ये मज़मुन ही नहीं आपके तमाम मज़मुन काबिले तारीफ है