"ہمارا خون بہے گا تم کو بھگتنا ہوگا” جیسے جملوں پر کیس.
14 سال بعد انڈین مجاہدین کے ای میل کیس سے بے گناہ قیدی اعجاز سعید شیخ باعزت بری
از قلم عبدالواحد شیخ، ممبئی
8108188098
آج ہم بات کریں گے ایک بے گناہ قیدی اعجاز سعید شیخ کے بارے میں جن کا تعلق پونا مہاراشٹر سے ہے۔ پولیس کی کہانی یہ ہے کہ 19 ستمبر 2010 کو پی ایس آئی ولاس پرف Vilas) Parab) ،کرائم برانچ ممبئی ، اپنی ڈیوٹی کرتے ہوئےای میلز (emails ) چیک کر رہے تھے۔تب انہوں نے دیکھا کہ ایک میل انڈین مجاہدین کا ہے جس میں جامع مسجد دہلی میں ہوئے بم لاسٹ اور شوٹ آؤٹ کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اس میل میں لکھا ہے کہ” ہمارا خون بہے گا،تم کو بھگتنا ہوگا "اس میل سے صاف ظاہر تھا کہ یہ ملک کے خلاف جنگ ،قوموں کے درمیان نفرت، بھید بھاؤ کے ساتھ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والا تھا۔ ایسا پولیس کا کہنا ہے۔یہ میل بھارت اور بھارت کے باہر ہندی انگریزی نیوز چینل کو بھیجا گیا تھا ۔ یہ میل پولیس کو بی بی سی نیوز چینل نے بھیجا تھا ۔ اس میل کے ملنے کے بعد ایک کیس ولاس پرب نے درج کیا ۔
یہ میل فرضی نام، نمبر سے بھیجا گیا تھا۔تفتیش ہوتی ہے اور آگے چل کر ملزم اعجاز شیخ کو اس میل کے بھیجنے کے کیس میں گرفتار کیا جاتا ہے ۔ اعجاز کو سیکشن 465,468,471,719,153 ، 507 آئی پی سی اور سیکشن 10 ، 18 یو اے پی اے اور این آئی اے کی دفعات کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے۔ آگے پتہ چلتا ہے پولیس کو کہ اعجاز انڈین مجاہدین کا فعال رکن ہے۔ وہ مطلوبہ ملزم محسن چودری کا قریبی رشتہ دار ہے ۔ اس سے رابطے میں ہے ۔ ملزم نے اقبالیہ بیان دیا۔ آپ جانتے ہیں کہ ہماری پولیس، پولیس کسٹڈی کے دوران کس طرح ملزمین سے قبالیہ بیان حاصل کرتی ہے۔ دھمکی ، مارپیٹ، ٹارچر، اغوا کرنا، رشتہ داروں کو مار پیٹ کرنا، انکاؤنٹر کی دھمکی دینا ، بھائیوں اور بہنوں کو کیس میں پھنسانے کی دھمکی دینا ، بے تحاشہ ٹارچر کر کے پولیس اقبالیہ بیان حاصل کرتی ہے۔ جو اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ اور عدالت اکثر جن پر بھروسہ نہیں کرتی۔ اعجاز خوش قسمت ہے کہ انکے اقبالیہ بیان پر عدالت نے بھروسہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اور اس کی بنیاد پر سزا نہیں دی گئی ۔ پولس کا دعویٰ ہے کہ اقبال جرم میں اس نے فون اور سم کارڈ ضائع کرنے کی جگہ پولیس کو بتائی ، ملزم پابند تنظیم آئی ایم یعنی انڈین مجاہدین کا ممبر ہیں، لوگوں کے ذہنوں میں دہشت پھیلانے کے لیے دہشت گردانہ کاروائیاں کی ، نوجوانوں میں جہاد جیسی سوچ پیدا کی اور انڈین مجاہدین میں بھرتی کیا۔ تفتیش ہوتی ہے، اور تفتیش کے بعد عدالت میں چار ج شیٹ پیش کی جاتی ہے۔
عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا ملزمین نے فرضی ڈرائیونگ لائسنس بنایا تھا کہ اس کے ذریعے غلط کام کر کے شہریوں کو نقصان پہنچائے؟ عدالت نے اس کا جواب پایا کہ ایسا نہیں ہے۔ دوسرا سوال عدالت کے سامنے یہ تھا کہ کیا انہوں نے فرضی لائسنس بنا کر موبائل سم کارڈ حاصل کیا ؟ کیا انہوں نے ای میل بھیجا تھا؟ ان دونوں سوال کے جواب عدالت کے سامنے نہیں کی شکل میں آتے ہیں۔ اور یہ بھی سوال عدالت کے سامنے اٹھایا گیا کہ کیا انہوں نے میڈیا والوں کو دھمکی بھرا ای میل بھیجا ؟ کیا یہ لوگ انڈین مجاہدین کے ممبر تھے اور ہے؟ اور کیا انہوں نے لوگوں کو مارنے کی دھمکی دی ؟ ان سوالات کے جوابات بھی عدالت نے اپنے فیصلے میں نہیں کی شکل میں لکھے ہیں۔ پولیس نے نو گواہ پیش کیے ۔ ہزاروں ٹوکیومنٹ عدالت میں دیے گئے۔ 2010 کو بننے والا کیس 2024 تک چلتا ہے۔ ان 14 سال میں صرف نو گواہ عدالت میں پیش ہوتے ہیں ۔ پولیس کی کہانی ہے کہ منیش مارکیٹ بمبئی میں ملزم نے موبائل اور سم کارڈ خریدا۔ وہاں کے سی سی ٹی وی فوٹیج پر سارا کیس ٹکا ہوا تھا۔ مگر وہ فوٹیج عدالت میں پیش نہیں کۓ گئے کیونکہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج کھو گئے ۔ جن لوگوں نے ملزم کو فرضی کاغذات بناتے دیکھا، پولیس نے ان کو گواہی کے لیے عدالت میں نہیں بلایا ۔
تفتیشی افسر نے ، دفاعی وکیل کا کہنا ہے کہ FIR درج ہونے کے پانچ سال بعد غلطی سے ملزم کو اس کیس میں پکڑا ہے۔ ملزم کو "بلی کا بکرا” بنایا گیا کیونکہ اصل ملزم نہیں پکڑے گئے۔ عدالت نے کہا ہے کہ پولیس کا کہنا ہے کہ جس دکاندار سے ملزم نے موبائل اور سم کارڈ خریدا انہوں نے چار سال تین مہینے بعد ملزم کی شناخت جیل میں کی ۔ ایسا کرنا ایک عام آدمی کے لیے نہایت ناممکن ہے۔ FIR انجانے شخص کے نام سے لکھی گئی پھر اچانک ملزم کو پانچ سال بعد پکڑا گیا ۔ پولیس کو کیسے پتہ چلا کہ اس گناہ میں ملزم کا لنک ہے ۔ پولیس نے ان گواہوں کو بھی نہیں بلایا جن سے ملزم نے فرضی کاغذات کی فوٹو نکالی تھی یعنی سائبر کیفے والوں کو ۔ ملزم انڈین مجاہدین کا ممبر ہیں اس کا بھی کوئی ثبوت پولس کے پاس نہیں ہے ۔ پولیس گرفتار ملزم اور مفرور ملزم کے خلاف اس کیس کو شک سے بالاتر ثابت نہ کر سکی۔ اس لیے عدالت نے ملزم کو تمام الزامات سے بری کر دیا ۔ ملزم اس وقت سینٹرل جیل چیرلا پلی حیدرآباد میں قید ہیں۔ دوسرے کیس میں پھنسا ہیں اس لیے باہر نہ آسکا ۔ بی ڈی شیلکے جج نے یہ فیصلہ سنایا۔ بمبئی کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی اسپیشل کیس کی عدالت اگست 2024 کو اس کیس کا فیصلہ سناتی ہے۔
ہمارا کہنا یہ ہے کہ پچھلے 15 سالوں سے ملزم اعجاز سعید شیخ جیل میں بند ہیں۔ بے گناہ ہوتے ہوئے ان پر ایک سے زائد جھوٹے کیس لگائے گئے ۔ ایک میں وہ باعزت بری ہو چکے ہیں۔ لیکن ابھی تک رہائی نہیں ملی ہے۔ ان کی جوانی کے 15 سال جھوٹے کیس کی نظر ہو گئے۔ ان سالوں کو کون لوٹائے گا ؟ عدالت ,افسوس ہے کہ ان اہم سوالات کے جوابات دینے میں ناکام رہی ہے. اور خاموشی کو ہی بہتر سمجھ کر اس طرح کے ادھورے فیصلے دیے جاتے ہیں ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نصف انصاف ہے ۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر آپ اس فیصلے کی آرڈر کاپی اور ویڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔ شکریہ