Skip to content
غزہ کی مزاحمت: شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اسرائیل اور حماس کے درمیان 15 ماہ اور 12 دن بعد جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے پہلے دن رہا کیے جانے والے 3؍ اسرائیلی قیدیوں کے عوض 95 فلسطینی قیدی رہا ہوئے۔اس طرح صہیونیوں نے اپنے فوجیوں کے مقابلے جتنے گنا بے قصور لوگوں کو شہید کیا حماس نے اسرائیل قیدیوں کے عوض اتنے ہی گنا عمر قید کی سزا بھگتنے والے فلسطینیوں کو چھڑالیا ۔اس اقدام سے ناراض ہوکر سخت گیر قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور ان کی قوم پرست مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے 2 دیگر وزرا نے غزہ جنگ بندی معاہدے پر وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ۔ اوٹزما یہودت نے جنگ بندی کے معاہدے کو ’حماس کے سامنے ہتھیار ڈالنے‘ کا نام دے کر غزہ میں ’سیکڑوں قاتلوں کی رہائی‘ اور ’جنگ میں (اسرائیلی فوج کی) کامیابیوں کو ترک کرنے‘ کی مذمت کی۔ اس طرح گوئر کی پارٹی اب حکمران اتحاد سے باہر ہوگئی لیکن اس کےباوجود وہ نیتن یاہو کی حکومت کو گرانا بھی نہیں چاہتی کیونکہ اگر یہ سرکارگر جائے تو جو دایاں اتحاد اقتدار سنبھالے گا وہ تو امن کے معاملے میں بہت سنجیدہ ہے ۔ اس کے آتے ہی بن گوئر جیسے لوگوں کے جیل میں جانے کی نوبت آجائے گی اس لیے اس کی یہ حالت ہے ؎
کیسا پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
سیاسی جماعتوں کے فیصلے تو ابن الوقتی کے تحت کیے جاتے ہیں مگر اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ہیرزی ہیلوی کا استعفی شکست کا بین ّ اعتراف ہے کیونکہ جنگ کے بعد فاتح جرنیل کی تو پذیرائی ہوتی ہے اور ہارنے والا یاتو خودکشی کرلیتا ہے یا اپنے اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجاتا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ نےسات اکتوبر (2023) کے روز فوج کی ناکامی کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے اپنا راستہ ناپا ۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ نے ایک بیان میں بتایا کہ وہ 6 مارچ کو اپنی ذمے داریوں اور فوج کی قیادت کے منصب سے سبک دوش ہو جائیں گے۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق ہیلوی نے اپنا استعفیٰ وزیر دفاع یسرائیل کاتز اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھیجا ہے۔ ہیلوی نے واضح کیا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اپنے کندھوں پر عائد ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے کیا ہے۔ ان کا اشارہ حماس کی جانب سے غزہ کے علاقوں پر حملے کی جانب تھا۔ اس حملے میں 1140 سے زیادہ افراد مارے گئے اور ڈھائی سو لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا۔
ایک فوجی اور سیاستداں کے درمیان یہ بڑا فرق ہے کہ اسرائیل کی ایک کثیر آبادی عرصۂ دراز سے وزیر اعظم نیتن یاہو کا استعفیٰ مانگ رہی ہے۔ اس کے لیے بے شمار احتجاجی مظاہرے ان کے دفتر، گھر اور سڑکوں پر ہوچکے ہیں مگراپنے آپ کو عوام کا نمائندہ کہنے والے نیتن یاہو ٹس سے مس نہیں ہوتے اس کے برعکس ہیلوی نے بغیر کسی مطالبے کے لیے معذرت کرلی لیکن ان کا آگے کا منصوبہ وزیر اعظم کی نیند اڑانے والا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ کہنا ہے کہ وہ بقیہ عرصے میں اندرونی تحقیقات پوری کرائیں گے ۔ یہ نیتن یاہو کی ایک دُکھتی رگ ہے جس کو چھیڑنے سے وہ بے چین ہوجاتے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے گذشتہ برس موسم سرما میں مطالبہ کیا تھا کہ سات اکتوبر (2023) کو حماس تنظیم کے حملے میں اسرائیلی جانب کی ناکامی کی سرکاری تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں از خود یہ پیشکش کی تھی کہ وزیر دفاع کی حیثیت سے تحقیقات میں انھیں بھی شامل کیا جانا چاہیے یعنی اگر ان سے کوئی کوتاہی سرزد ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی بھی ہونی چاہیے۔
یہاں تک تو سب ٹھیک تھا مگر گیلنٹ نے اپنے ساتھ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی گھسیٹ لیا۔ اس اعلان سے نیتن یاہو اس قدر چراغ پا ہوئے کہ انہوں نے نہ صرف گیلنٹ کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا بلکہ ان کی چھٹی کردی ۔ نیتن یاہو کی منطق تھی کہ یہ تحقیقات جنگ ختم ہونے کے بعد کی جانی چاہیے۔ اب تو وہ بھی ہوگیا اس لیے نیتن یاہو اس تحقیق سے بچ نہیں سکتے اور اگر غیر جانبدار تفتیش ہوجائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوجائے گی جنگ طوالت کے لیے ان کی اقتدار میں رہنے کی ہوس کے سوا کوئی اور معقول وجہ نہیں ہے۔ یعنی اسرائیل کی حالیہ ہزیمت کی سب سے بڑی ذمہ داری خود اس کے وزیر اعظم پر آتی ہے۔ حالیہ جنگ بندی سے جہاں اسرائیل میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے وہیں غزہ سمیت مسلم دنیا میں جشن کا ماحول ہے۔ فلسطینی جہاد میں ایران کا بڑا کردار رہا ہے کیونکہ وہ نہ صرف اسرائیل کے حملے کا نشانہ بنا بلکہ اس نے بھی جواب میں تل ابیب تک اپنے میزائل داغے ایسے میں جنگ بندی کے موقع پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک نہایت ایمان افروز بیان جاری کیا ۔
پاسداران کے بیان میں پہلے تو سورۂ فتح کی ابتدائی تین آیات کا حوالہ دے کر خداوندِتعالیٰ کا شکر ادا کیا گیانیز "طوفان الاقصی” کو شاندار، تاریخی اور باعث افتخار آپریشن کہہ کر پذیرائی کی گئی نیز صہیونی حکومت کے مظالم اور نسل کشی کے باوجود حماس برتری کو سراہا گیا۔ اس نے اسرائیل کے اہداف کو یاد دلاتے ہوئے کہا وہ "قیدیوں کو عسکری کارروائیوں کے ذریعے آزاد کرانا ، حماس کا مکمل خاتمہ، اور شمالی بستیوں کے آباد کاروں کو واپس لانا” چاہتے تھےلیکن 463 دن کے ظلم و بربریت کے بعداسے ان تینوں محاذ پر شکست سے دوچار ہوناپڑا۔ 50 ہزار کے قریب شہادت، لاکھوں مکینوں کے زخمی اور 80 فیصد سے زیادہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باوجود غزہ کے جیالوں کے بے مثال صبر و استقامت نے ظالموں کو جھکنے پر مجبور کردیا۔پاسداران نے خبردار کیا آگے چل کر اسرائیل کے ظالم سربراہ کو صہیونی معاشرے کے اندرونی تنازعات، شدید تنقید اور احتجاج کے طوفان کا سامنا کرنا پڑے گااور یہ ہورہا ہے۔ نیتن یاہو فی الحال بیک وقت دو مخالف طاقتوں کی کھینچا تانی میں پھنس کر کراہ رہے ہیں ۔
طوفان الاقصیٰ کے نتیجے میں تباہ کاری اور پھر جنگ بندی کے حوالے سے تذبذب کا شکار لوگوں کو چاہیے کہ یرغمالیوں کی رہائی والی ویڈیو دیکھ لیں اور پھر بھی کوئی کنفیوژن باقی ر ہ جائے تو ان کا موازنہ اسرائیلی سیکیورٹی کونسل کی تصاویر سے کرلیں ۔ حماس نے یر غمالیوں کی رہائی کے موقع پر زبردست جلوس نکالا اور پرمسرت نعرے لگا کر یہ پیغام دیا کہ انہیں کسی کو یرغمال بنائے رکھنے کا شوق نہیں تھا بلکہ وہ ان کو آزاد کرکے خوش ہیں ۔ اس کے برعکس یہودی رہنماوں کے چہرے پر برسنے والی لعنت اور مایوسی چغلی کھا رہی تھی کہ امن کی خاطر رضامندی ان کے لیے زہر کے پیالے سے کم نہیں ہے۔ وہ لوگ تباہی و بربادی سے روکے جانے پر بے حد ملول ہیں جبکہ حماس کے یرغمالیوں کی رہائی کا جشن منا رہی ہے۔ ان لوگوں کو تحفے تحائف سے نواز ر ہےہیں اور اس کی ویڈیو بناکر دنیا بھر کو بتا ر ہے ہیں کہ وہ کن اعلیٰ اقدار کے حامل ہیں ۔ ان تحفوں میں ایک سرٹیفکیٹ کے ساتھ قید کے دوران شوٹ کی گئی یادگار تصاویر بھی ہیں ۔ اس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ اگر کل کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی انہیں دباو ڈال کر حماس کی بدنامی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف شواہد موجود ہیں ۔ ویسے ماضی میں بھی جو لوگ حماس کی قید سے چھوٹے انہوں نے کسی بدسلوکی کی شکایت نہیں کی ۔ ابوغریب جیسے سفاکی تو امریکہ اور اس کے حواری اسرائیل کا طرۂ امتیاز ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ہر یرغمالی کے بدلے بادلِ نخواستہ کئی گنا زیادہ عمر قید کی سزا پانے والے بے قصور مجاہدین کو آزاد کیا جارہا ہے مگر وہ اس کو اپنی ذلت و رسوائی کے زمرے میں ڈال کر چھپا رہاہے ۔ یہ ہے جیتنے اور ہارنے والے کا فرق ؟ حماس کے مذکورہ بالا پر جوش جلوس میں ان کے ہتھیار بند مجاہدین بھی نظر آتےہیں ۔ یہ ویڈیو پکار پکار کہہ رہی ہے کہ ہمیں صفحۂ ہستی سے مٹانے والے کہاں ہیں ؟ یہ دیکھو ہم زندہ ہیں ۔ ہم کھلے عام نعرۂ تکبیر بلند کرکے اللہ تبارک و تعالیٰ کی کبریائی بیان کررہے ہیں ۔ موت کے ڈر سے ڈپریشن میں جانے اسرائیلی فوجیوں کی بابت فرمانِ خداوندی ہے :’’تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤ گے حتیٰ کہ یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے، حالانکہ لمبی عمر بہرحال اُسے عذاب سے تو دور نہیں پھینک سکتی جیسے کچھ اعمال یہ کر رہے ہیں، اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہے‘‘۔ اس کے برعکس شہادت کو سعادت سمجھنے والے حماس کے مجاہدین اسلام ہیں ۔ ایسے جانبازوں کو بھلا کون شکست دے سکتاہے؟ علامہ اقبال نے انہیں شاہین صفت جوانوں کے بارے میں فرمایا؎
کشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
Like this:
Like Loading...
ماشاءاللہ
جزاک اللّہ خیرا
سلیم بھائی
مجاہدین اسلام کا شاندار خراج تحسین