Skip to content
ظریفانہ: اصلی یومِ آزادی اور نقلی یوم ِجمہوریہ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
کلن مشرا سے للن شرما نے پوچھا چھٹی کے دن اتنی صبح سج دھج کر یہ سواری کہاں جارہی ہے؟
کلن بولا دس بج چکےہیں سورج آنکھیں دِ کھا رہا ہے اور تو بستر کی چائے پی رہا ہے ۔ شرم نہیں آتی ۔
للن نے کہا یار بھاشن دینے کے بجائے میرے سوال کا جواب دے کہ تو جا کہاں رہا ہے؟
بھیا میں بھاشن دینے جارہا ہوں ۔ آج قومی تہوار یعنی یوم جمہوریہ ہے اور تم جیسے لوگ سو رہے ہیں۔
ارے تم کیسے پھیرے میں پڑے ہوئے ہو۔ ہمارے سر سنگھ چالک کے مطابق یہ یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ دونوں نقلی ہیں ۔
کلن نے حیرت سے سوال کیا اچھا تو اصلی جمہوریہ کون سا دن ہے؟
وہی 6؍ دسمبر جس دن ہم نے بابری مسجد کو توڑ دیا تھا ۔
یار لیکن تمہارے مسجد کو شہید کردینے سے وہ یوم جمہوریہ کیسے ہوگیا؟
للن نے الٹا سوال کیا اچھا یہ بتاو کہ 26؍جنوری یوم جمہوریہ کیسے ہوگیا؟
ارے بھیا اس دن ہندوستان کا آئین نافذ ہوا ۔ دستور کی روُ سے اسی دن ملک کو جمہوریہ قرار دیا گیا اس لیے وہ یوم جمہوریہ ہوگیا۔
ہاں صحیح پکڑے۔ 6؍ دسمبر 1992 کو ہم لوگوں نے اس آئین کو پامال کرکے بابری مسجد مسمار کرکے منو سمرتی جاری کردی ۔ اس لیے وہ ۰۰۰۰ ۔
کلن بولا سمجھ گیا لیکن بھیا دستور کو تم نے پامال تو کردیا مگر پھر ملک معاملات کس طرح چلیں گے کوئی تو دستاویز ہونا چاہیے؟
ارے بتایا تو تھا کہ ہم نے منو سمرتی نافذ کردی ۔ اب وہی ہمارا آئین ہے اور اسی کے مطابق فی الحال ملک چل رہا ہے۔
اچھا للن یہ بتاو کہ تم لوگوں نے اس کام کے لیے 6؍ دسمبر کی تاریخ کا انتخاب کیوں کیا؟
تم نے پہلاصحیح سوال کیا ۔ یہ ملک کے آئین ساز ڈاکٹر امبیڈکر کا یوم وفات ہے۔ اس لیے اسی دن ہم نے آئین کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔
یار اس کام کے لیے تم ان کے یومِ پیدائش 14؍ اپریل کا بھی تو انتخاب کرسکتے تھے ؟
جی ہاں مگر انہوں نے ہماری منو سمرتی کو جلایا تھا اس لیے ان کی موت پر ہم خوشی مناتے ہیں ۔
بھیا لیکن سپریم کورٹ نے تو 6؍ دسمبر کو ہندوستانی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے ۔
کلن تم بہت بھولے ہو ۔ یہ ہاتھی کے دانت دِکھانے کے لیے ہیں یہ بتاو کہ کیا عدالتِ عظمیٰ نے مسجد کو مسمار کرنے والوں کو سزا دی ؟
جی نہیں اور بابری مسجد کی زمین بھی مسلمانوں کو نہیں دی ۔
وہی تو میں کہتا ہوں ۔ تم جیسے لوگوں کو بیوقوف بنانے کی خاطر ہم لوگ آئین کو موجود رکھیں گے مگر اس کے بجائے منو سرتی پر عملدرآمد ہوگا۔
یار للن تم نے تو بہت گہرا رازاگل دیا خیراب یہ بتاو کہ اصلی یوم آزادی کب ہے ؟
۲۲؍ جنوری اور کیا؟ اسی دن تو ہمیں ایک ہزار سال کی غلامی سے آزادی مل گئی ۔
کلن نے سوال کیا22؍ جنوری کو ایسا کیا ہوگیا ؟آر ایس ایس قائم ہوئی تھی کیا؟
نہیں بیوقوف ہمارا آزادی سے کیا لینا دینا ۔ اس زمانے میں تو ہم لوگ انگریزوں سے معافی مانگتے اور ان مخبری کرتے تھے۔
تب پھر تم 22؍ جنوری کو یومِ آزادی کیوں کہہ رہے ہو؟
ارے بھائی پچھلے سال یعنی 2024کو اسی دن ہمارے سرسنگھ چالک نے پردھان جی کے ساتھ رام مندر کا پران پرتشٹھان یعنی افتتاح کیا تھا ۔
کلن نے حیرت سے پوچھا اچھا تو کیا اس سے قبل ہم لوگ غلام تھے ؟
اور نہیں تو کیا ؟ اس سے قبل ایک ہزار سال تک ہم غلام تھے ۔
اچھا ! تو ہمارے گلے میں کس کی غلامی کا طوق تھا؟
مسلمانوں کی غلامی کا ؟کیا تم اتنا بھی نہیں جانتے ،یار کس دنیا میں رہتے ہو؟
اچھا تو اس غلامی کے دور میں ان لوگوں نے آر ایس ایس بنانے کی اجازت کیسے دے دی؟
للن پھنس گیا اور نکلنے کے لیے بولا وہ کون ہوتے ہیں ہمیں روکنے والے ؟ ہم نے بنا لی تو بنالی؟ یہ ہمارا حق ہے؟
اچھا تو ہم کون ہوتے ہیں پاپولر فرنٹ ، ایس آئی ایم اور نکسلوادیوں پر پابندی لگانے والے ؟ جیسے ہمارا حق ہے ویسے ہی ان کا بھی حق ہے۔
جی نہیں ۔ منو سمرتی کے مطابق ہمارے سوا کسی کا کوئی حق نہیں ہے ۔
کلن نے پوچھا ’ہم ‘ سے تمہاری کیا مراد ہے؟
ارے بھائی ’ہم‘ یعنی سورن (اونچی ذات کے لوگ) ۔ یہ ہماری سرکار کا فیصلہ ہے اور درست ہے کیونکہ ہماری حکومت نے کیا ہے۔
لیکن اگر اصلی آزادی 2024میں ملی تو اس سے قبل( غلامی کے دور) 2000 میں اٹل جی اور 2014کے اندرمودی جی وزیر اعظم کیسے بن گئے ؟
للن جھلاّ کر بولا یار تم پوچھتے بہت ہو ، سوچتے کیوں نہیں ؟
بھائی میں سوچتا ہوں اسی لیےپوچھتا ہوں ورنہ تم نے توبغیر سوچے سمجھے ہی سرسنگھ چال کی بات مان لی کہ اصلی آزادی 2024میں ملی ۔
للن بولا جی ہاں یاراب تو مجھے ان سے سمجھدار کنگنا رناوت لگتی ہے ۔
کلن نے حیرت سے پوچھا وہ کیسے؟
ارے بھائی اس نے کہا تھا ملک کو آزادی 2014 میں ملی اس سے کم از کم مودی سرکار تو بچ گئی۔ بھاگوت نے تو اتنا بھی نہیں سوچا۔
یار کنگنا رناوت سے یاد آیا کہ اگر 2014 میں آزادی مل گئی تو اس کی فلم ’ایمرجنسی‘ پر پنجاب میں پابندی کیوں لگ گئی؟
پنجاب میں پابندی لگی تو کنگنا کی عزت بچ گئی ۔ اب وہ کہہ سکتی ہیں کہ وہاں پابندی کے سبب نہیں چلی ورنہ سُپر ہٹ ہوجاتی ۔
جی ہاں کنگنا کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں اس کی فلمیں بہت چلتی ہیں ؟
جھوٹ بولتی ہے۔ سرجیکل اسٹرائیک پر اس کی فلم تیجس پنجاب سمیت پورے ملک میں فلاپ ہوگئی تھی ۔
ہاں یار یہ بات تو ہے آج کل اپنے اکشے کمار ہوں یا کنگنا رناوت ایک کے بعد ایک سب پِٹ رہے ہیں ۔
للن بولا اندر کی بات بتاوں پچھلے الیکشن میں تو اپنے پردھان جی بھی فلاپ ہوگئے ۔
یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ ہمارا پردھان نہیں پِٹ سکتا ۔
للن نے سوال کیا اچھا اگر پٹے نہیں تو نتیش کمار اور چندرا بابو کے بیساکھی کیوں لینی پڑی ؟
وہ تو ٹھیک ہے لیکن جیسی بھی ہو ہماری سرکار ہے۔ اس لیے اپنی ایک رکن پارلیمان کی فلم پر پابندی لگ جانا آزادی کی توہین ہے۔
ارے بھائی سمجھتے کیوں نہیں پنجاب کے اندرہماری نہیں عام آدمی پارٹی کی سرکار ہے اور وہ لوگ سرداروں سے ڈرتے ہیں۔
اچھا توکیا ہم نہیں ڈرتے ؟
ویسے تو ہم نہیں ڈرتے مگر دہلی میں 5؍فیصد سکھ رائے دہندگان ہیں ۔ وہ ہمیں ووٹ دیتے رہے ہیں اس لیے ہم انہیں ناراض نہیں کرنا چاہتے ۔
بھیا یہی الزام تو تم لوگ کانگریس پر لگاتے ہو کہ وہ مسلمانوں کی ناز برداری کرتی ہے اب تم خود سکھوں کو مکھن لگا رہے ہو۔ توکیا فرق ہے؟
ارے بھائی کیا کریں ؟ ہم لوگوں کو ہندو راشٹر کے عظیم مقصد کی خاطر ایسا کرنا پڑتا ہے۔
اور کانگریسی یا سماجوادی ایسا کیوں کرتے ہیں؟
وہ اقتدار کی خاطر مسلمانوں کو بیوقوف بناتے ہیں ۔
کلن نے پوچھا یار ہم لوگ بھی تو ہندووں کو بیوقوف بناتے ہیں ، کیا فرق ہے؟
ارے بھائی بتایا نا کہ بہت بڑا فرق ہے ۔ ہمیں ہندو راشٹر کے قیام کی خاطر ایسا کرنا پڑتا ہے ۔
اچھا للن یہ بتاو کہ پچھلے 10 سال سے دہلی میں ہماری حکومت نہیں ہے پھر بھی یہ ملک ہندو راشٹر ہے۔ اگروہ آگے بھی نہ رہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔
بہت فرق پڑتا ہے۔ ہمارے ساتھ لوگ اقتدار کے مزے لوٹنے کی خاطر آئے ہیں ۔ دہلی میں اگر جھاڑو چلتا رہے گا تو ہمارے پنچھی اڑ جائیں گے ۔
کلن بولا تب تو وہی اقتدار والی بات ہوگئی ۔ ہندوراشٹر کہاں گیا؟
للن بگڑ کر بولا بھاڑ میں گیا ہندو راشٹر اور تم بھی یہاں سے نکلو صبح صبح دماغ خراب کردیا ۔
کلن بولا بھائی میں تو اس امید میں تمہارے پاس آیا تھا کہ میری کچھ مدد کروگے لیکن تم تو ڈانٹ کر بھگانے لگے ۔
مدد کیسی مدد ؟ کرایہ بھاڑا چاہیے تو کھونٹے پر ٹنگے کرتے کی جیب میں دوچار سو پڑا ہے، لے جاو۔
نہیں مجھے پیسے کی ضرورت نہیں ۔ وہ اپنے پیچھے امبیڈکر نگر ہے نا اس میں گیارہ بجے یوم جمہوریہ کی تقریب ہے ۔ مجھے بھاشن کے لیے بلایا ہے ۔
اچھا تو تم نے سوچا کہ مجھے بھی ساتھ لے کر چلو گے لیکن اب پتہ چل گیا نا کہ میں اسے جعلی یوم جمہوریہ اور ۶؍ دسمبر کو ۰۰۰۰
ارے بھائی سمجھ گیا لیکن دوچار پوائنٹ بتا دوتاکہ اس میں نمک مرچ لگا کر میں ایک بھاشن جھاڑ دوں ۔
اچھا یہ بات ہے ۔ پرسوں تم برہمن سبھا کے پروگرام آئے ہوتے یہ محتاجی نہیں رہتی ۔
کلن نے پوچھاوہ کیسے؟
وہاں جسٹس کرشنا این دکشت نے بتایا کہ دستور ساز کمیٹی کے ۷ میں سے تین ارکان کرشنا سوامی ایرّ، گوپال سوامی اینگر اور بی این راو برہمن تھے۔
میں نے ان کا نام بھی نہیں سنا بلکہ مجھے یہ بتایا گیا ڈاکٹر امبیڈکر کے سوا دوسرے ارکان تو نشست تک میں نہیں آتے تھے ۔
جھوٹ بات ہے بھیم راو امبیڈکر نے خود مانا کہ راو نہ ہوتے تو اتنے ضخیم آئین کولکھنے میں ۲۵؍ سال لگ جاتے۔
اچھا یہ تو اپنے برہمن سماج کا بڑا کارنامہ ہے ۔
اور نہیں تو کیا قومی ترانہ جن گن من اور سارے جہاں سے اچھا بھی برہمنوں نے لکھا ہے۔
کیا بکتے ہوسارے جہاں سےاچھا تو علامہاقبال کا کام ہے۔
وہی تو!دکشت صاحب نے بتایا کہ علامہ کے آبا و اجداد برہمن تھے۔ اس کا اعتراف خود انہوں نے کیا ہے۔
بابا صاحب امبیڈکر کے کرشنا جی نامی استاد کااحسان یاد دلانا کہ جنہوں نے ان کا نام امباواڈیکرسے بدل کر امبیڈکر رکھا اور مالی مدد بھی کی۔
کلن بولا یار تم اپنے مشورے اپنے پاس رکھوورنہ میں نے وہاں جاکر یہ سب کہہ دیا تو پردھان جی اور کنگنا کی طرح میں بھی پِٹ جاوں گا ۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...