Skip to content
جنگی مشقوں کے دوران مصنوعی ذہانت سے لیس میزائلوں کے تجربے
تہران،28جنوری (ایجنسیز)
ایرانی کی پاسداران انقلاب فورس نے اپنی مشقوں کے دوران مصنوعی ذہانت سے آراستہ میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ ایران کے ریاستی میڈیا کے مطابق یہ جنگی مشقیں خلیجی علاقے میں کی گئیں۔ایرانی پاسداران سے منسلک بحریہ نے قائم اور الماس نامی میزائلوں کا مشقوں میں استعمال کیا۔ ان میزائلوں کے استعمال میں مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی بھی بروئے کار رکھی گئی ہے۔ یہ بات سرکاری ذرائع ابلاغ نے پیر کے روز رپورٹ کی ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ان میزائلوں کا استعمال مہاجر چھ اور ابابیل پانچ ڈرونز کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جنگی مشقوں کے دوران میزائلوں کے مصنوعی ذہانت کے ساتھ استعمال کا تجربہ کامیاب رہا اور دشمن کے مفروضہ نشانوں کو کامیابی کے ساتھ ہدف بنا کر تباہ کیا گیا۔
واضح رہے ایرانی ساختہ قائم اور الماس دونوں گائیڈڈ میزائل ہیں۔ ان میزائلوں کی تیاری ایرانی فوجی انڈسٹری نے اپنے طور پر کی ہے۔جمعہ کے روز پاسداران انقلاب نے فوجی مشقوں کا آغاز کیا تھا۔ یہ ایران کے مختلف صوبوں خوزستان اور بشہر وغیرہ میں جاری ہیں۔ نیز یہ مشقیں خلیجی سمندر میں بھی کی گئیں۔ یہ صوبے ایرانی تیل کے حوالے سے اہم مانے جاتے ہیں۔ بوشہر میں ایران کا جوہری پاور پلانٹ بھی تعمیر کیا گیا۔بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسری نے ارنا کو بتایا ہے کہ یہ مشقیں ایران کی مختلف قسم کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے کی جارہی ہیں۔
ان کے مطابق ایران کروز میزائل بھی تیار کر چکا ہے، جو مختلف رینج رکھتے ہیں۔ ان کی رینج 1000 کلو میٹر تک ہے اور یہ مصنوعی ذہانت سے لیس کیا گیا ہے۔واضح رہے ایرانی میزائلوں کی یہ تنصیب ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ہدایات کے بعد سامنے آئی ہے جو انہوں نے کئی ماہ پہلے متعلقہ حکام کو دی تھیں کی مصنوعی ذہانت سے میزائلوں کو لیس کیا جائے۔ایران میں شاہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ایران جدید ترین میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ ان میزائلوں کے کامیاب تجربے ایران نے 2021 میں شروع کر دیئے تھے۔
Like this:
Like Loading...