Skip to content
ریت کا محل (افسانچہ)
بچہ ساحل سمندر پر بیٹھا ریت کا ایک محل بنا رہا تھا۔ چھوٹی چھوٹی لہریں آتیں اور اس کے بنائے ہوئے کچھ حصّوں کو مٹا دیتیں۔ وہ پھر سے بناتا، اور لہریں پھر آتیں۔ آس پاس کے لوگ اس کی محنت پر مسکرا رہے تھے۔ ایک بوڑھا شخص قریب آیا اور بچے سے پوچھا، "بیٹا، تم جانتے ہو یہ لہریں اسے مٹا دیں گی، پھر بھی تم بنائے جا رہے ہو؟”
بچے نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا جہاں سورج ڈوب رہا تھا۔ اس کی سنہری کرنیں ریت کے محل پر پڑ رہی تھیں۔ بچہ بولا، "میں محل اس لیے نہیں بنا رہا کہ یہ ہمیشہ رہے، بلکہ اس لیے بنا رہا ہوں کہ جب تک رہے ، خوبصورت لگے۔”
بوڑھا خاموش ہو گیا۔ اس نے بچے کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں شام کی سرخی اور سمندر کی گہرائی ایک ساتھ جھلک رہی تھی۔ اسے لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔
ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
موبائل: 8275232355
Like this:
Like Loading...