Skip to content
نیویارک،30جنوری (ایجنسیز) امریکہ کی یونیورسٹی آف پنسلوینیا کے مائیکرو بایولوجسٹ جیمز ریلی کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی اب بھی ایک ٹائم بم کی طرح ہے۔ ان کے بقول وائرس کی شناخت کے کئی دہائیوں بعد اینٹی ریٹرو وائرل ادویات کی موجودگی، ایڈز میں تبدیل ہونے سے پہلے تک، محض اس مرض کو دبائے رکھتی ہے۔
اور تقریباً 40 ملین لوگ اب بھی ایچ آئی وی کے ساتھ زندہ ہیں۔ ادھر سائنسدان اب بھی ایچ آئی وی کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جیمز ریلی کہتے ہیں جب تک اس کے مریض ”ہر روز پری ایکسپوزر پروفیلیکسس) (پی آر ای پی) تھراپی حاصل کرتے رہتے ہیں، تو ایچ آئی وی دب جاتا ہے اور پھر انفیکشن دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس میں متعدی امراض کے ماہر اسکاٹ کچن اینٹی ریٹرو وائرل ایچ آئی وی ادویات کو جدید طب کا معجزہ قرار دیتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ابھی بھی انفیکشن کا علاج نہیں ہیں۔محققین کے لیے اس کا علاج تلاش کرنا بہت مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ریلی نے کہا کہ ایچ آئی وی کا علاج تلاش کرنا سائنس کے مشکل ترین اہداف میں سے ایک ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم سخت قسم کے کینسروں کو شکست دے سکتے ہیں، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ اسے کیسے حل کیا جانا چاہیے، اس پر ہماری گرفت ہے۔ لیکن ایچ آئی وی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ابھی تک اس مسئلے کا حل ہی نہیں ملا ہے۔ایچ آئی وی انفیکشن کا علاج کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ وائرس ہمارے خلیوں میں چھپنے کی ناقابل یقین حد تک صلاحیت رکھتا ہے۔جب ایچ آئی وی ہمارے جسموں کو متاثر کرتا ہے، تو یہ خود کو ہمارے جینیاتی مواد میں ضم کر لیتا ہے اور ایک غیر فعال حالت میں ہمارے خلیات کے جینوم میں چھپ جاتا ہے۔
یہ اس وقت فعال ہو جاتا ہے، جب ہمارے خلیے ڈی این اے کو پروٹین میں تبدیل کرتے ہیں، اس عمل کو ٹرانس کرپشن کہا جاتا ہے، جو ایک ایسا عمل ہے جس کی ہمیں زندگی جینے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ ایچ آئی وی اسی عمل کو خفیہ طور پر استعمال کرتا ہے اور ہمارے خلیے نادانستہ طور پر وائرس کی نقل تیار کرتے رہتے ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایچ آئی وی کو ان خلیوں سے الگ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو خلیے اس سے خالی ہیں، لہٰذا جسم سے ایچ آئی وی کو ختم کرنے کا کوئی قابل اعتماد طریقہ نہیں ہے، کیونکہ اگر آپ ہدف کو دیکھ ہی نہیں سکتے، تو اس ہدف کو نشانہ کیسے بنا سکتے ہیں۔اینٹی ریٹرو وائرل ادویات جیسے پی آر ای پی وغیرہ بس وائرس کو ناقابل شناخت سطح تک دبا دیتی ہیں، لیکن وائرس اب بھی انسانی جینوم میں سرایت کیے ہوئے رہتا ہے۔
اب تک سات افراد کے ایچ آئی وی سے مکمل طور پر صحت یاب ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جس کے لیے ان کے جسم کے تمام مدافعتی خلیوں کو تبدیل کرنے والی اسٹیم سیل تھراپی کا استعمال کیا گیا۔تاہم کچن کا کہنا ہے کہ ہر وہ شخص جو آج تک ایچ آئی وی سے صحت یاب ہوا ہے، اس میں کینسر (لیوکیمیا یا لیمفوما) کے علاج کے لیے جو بون میرو کو ٹرانس پلانٹ کیا گیا، اس سے ہوا ہے اور وہ بھی ان افراد میں جو کینسر کے ساتھ ہی ایچ آئی وی سے بھی متاثر ہوئے تھے۔
تاہم ان کے بقول اسٹیم سیل تھراپی کی یہ شکل زیادہ تر لوگوں میں ایچ آئی وی کے علاج کے طور پر نامناسب ہے۔ بون میرو ٹرانس پلانٹ ایک مشکل عمل ہے، جس میں موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اس کی کوشش صرف ان لوگوں میں ہی کی جاتی ہے، جو کینسر کے آخری مرحلے کے علاج سے گزر رہے ہوتے ہیں۔
Like this:
Like Loading...