Skip to content
جمعہ نامہ: نکاحِ ثانی منسوخ مگر لیو ان ریلیشن جائز ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا، پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا اور تمہیں (مَردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ‘‘۔دیگر مقام پر جوڑوں کی غرض و غایت یہ بتائی گئی کہ :’’ یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ‘‘ یہ فرحت و سکون اس لیے ممکن ہوسکا کیونکہ :’’ اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۰۰۰‘‘،جذبہ ٔ محبت و الفت کے بغیر باہمی سکون کی حصولیابی ممکن نہیں تھی ۔ دین اسلام میں یہ نعمتِ عظمیٰ نکاح سے مشروط ہے ۔ فرمانِ رسول ﷺ ہے:’دو فریقین میں نکاح سے زیادہ محبت پیدا کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے‘‘ آپؐ نے اس کی ترغیب میں فرمایا:’’اے نوجوانو! تم میں سے جو کوئی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور شادی کرے کیونکہ یہ نگاہوں کو بہت جھکانے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی ہے ۰۰‘‘۔ یہ انبیاء کی سنت بھی ہے ۔ ارشادِ حقانی ہے:’’ (اے محمد ﷺ) ہم نے آپ سے پہلے یقینا رسول بھیجے اورانہیں بیویوں اور اولاد سے بھی نوازا‘‘۔
سماج کے کمزور ترین طبقہ یعنی یتیم بچوں کے حقوق کے باب میں ارشادِ فرقانی ہے :’’ یتیموں کو ان کے مال دے دو اور بُری چیز کو عمدہ چیز سے نہ بدلا کرو اور نہ ان کے مال اپنے مالوں میں ملا کر کھایا کرو، یقیناً یہ بہت بڑا گناہ ہے،اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں‘‘۔آیت کے پہلے حصے میں یتیموں کے سرپرستوں کو مخاطب کرکے ہدایت دی گئی کہ وہ اگر وہ ان کے اموال و املاک اور حقوق کی نگہداشت تنہابحسن و خوبی نہیں ادا کرنے میں دقت محسوس کریں تو اُنھیں چاہیے کہ اُن کی ماؤں میں سے جو اُن کے لیے جائز ہوں ، نکاح کر لیں ۔ ان کی شرکت سے یہ ذمہ داری بہتر طریقے پر اِدا ہوجائے گی کیونکہ قلبی تعلق کے سبب ماں سب سے بہتر نگہداشت کرسکتی ہے آگے فرمایا اس کے لیے :’’ دو دو اور تین تین اور چار چار (نکاح کی اجازت بشرطِ عدل ہے)۔
اس کے بعد عمومی طور پر تعدد ازدواج کی اجازت دے کر عدل کی شرط کے ساتھ چار کی حد مقرر کردی گئی کیونکہ اس وقت عرب معاشرے میں اور آج بھی قبائلیوں میں کوئی تحدید نہیں ہے۔ ارشادِ قرآنی ہے:’’ پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو‘‘۔ تعددِ ازدواج نفسی ، سیاسی اور سماجی مصالح کے تحت ایک تمدنی ضرورت ہے ۔ یہی وجہ ہے اس کا رواج کم وبیش ہر معاشرے میں رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی شریعت میں بھی یہ ممنوع قرار نہیں ہے۔ تعددِ ازدواج میں یہ رعایت بھی دی گئی کہ:’’بیویوں کے درمیان پورا انصاف تو اگر تم چاہو بھی تو نہیں کر سکتے، اِس لیے اتنا کافی ہے کہ ایک کی طرف بالکل اِس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری اَدھر میں لٹکتی رہ جائے‘‘۔
قلبی میلان پر آدمی کو اختیار نہیں ہوتا ، لہٰذا قرآنی تقاضا یہ ہے کہ شوہر ایک بیوی کی طرف اِس قدر نہ جھکے کہ دوسری بالکل معلق ہو کر رہ جائے چنانچہ برتاؤ اور حقوق میں حتی المقدور توازن قائم رکھنے کی کوشش کرنے کی تلقین کے بعدیہ ڈھارس بندھائی گئی کہ :’’ اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ‘‘۔ مغرب نے اس فطرتِ انسانی سے انکار کیا تو اسے زنا کاری کے لیے لیواِں ریلیشن کا چور دروازہ کھولنا پڑا۔ بدقسمتی سے ہندوستان میں بھی اتراکھنڈکے اندر نافذ ہونے والے یکساں سیول کوڈ میں نکاحِ ثانی کے جائز رشتے کو ممنوع قرار دے ناجائز تعلقات کی راہ ہموار کردی گئی ہے۔ خواتین کی فلاح و بہبود کے نام پر رائج کیے جانے والے لیواِ ریلیشن نامی فتنےکا سب سے زیادہ نقصان عورتوں کو ہوتا ہے ۔ اس سے منسلک عورت کو نہ تو بیوی کے حقوق حاصل ہوتے ہیں اور سماج میں عزت احترام ملتا ہے۔ ایسی خواتین شدید کرب کے عالم میں زندگی گزارتی ہیں اوراس آوارگی کی سزا بچوں تک منتقل ہوجاتی ہے۔
ارشادِ قرآنی ہے:’’وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے‘‘۔ لیو ان ریلیشن میں ہمیشہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ نہ جانے کون کب ساتھ چھوڑ جائے اس لیے اول تو یہ غیر یقینی سکون چھین لیتی ہے دوسرےحرام کاری کی لعنت کا شکار وہ جوڑا اولاد کو رحمت کے بجائے زحمت سمجھتا ہے اور اسے پاکر شکر کے بجائے کفر انِ نعمت کا مرتکب ہوتا ہے۔ مغرب سے مرعوبیت اور مسلمانوں سے نفرت سےلبریز جئے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہندوتوا نواز بھول گئے کہ راجہ دشرتھ نے بھی چار عدد شادیاں کی تھیں اور کرشن خود تعددِ ازدواج پر عمل پیرا تھے۔ اتراکھنڈ کا یو سی سی خودان کی اپنی مذہبی روایات سے انحراف کرکے زنا کاری کا دروازہ کھول رہاہے ۔
فرمانِ قرآنی ہے:’’ بدکاری کے قریب نہ پھٹکو‘‘۔اسلام سمیت تمام آسمانی مذاہب میں زنا کو بدترین گناہ اور جرم قرار دیا گیاہے ۔ یہ افسوسنا ک ہے کہ موجودہ حکومت یکساں سیول کوڈ کی آڑ میں بدکاری کو فروغ دے رہی ہے جبکہ فرمانِ ربانی ہے:’’ بدکار عورت اور بدکار مرد (اگر غیر شادی شدہ ہوں) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو (جرمِ زنا کے ثابت ہو جانے پر) سو (سو) کوڑے مارو (جبکہ شادی شدہ مرد و عورت کی بدکاری پر سزا رجم ہے) اور تمہیں ان دونوں پر اللہ کے دین (کی حد جاری ہونے پر) ذرا ترس نہیں آنا چاہئے اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، اور چاہئے کہ ان دونوں کی سزا پر مسلمانوں کی جماعت موجود ہو‘‘۔ اسلامی حدود کا اجراء ہی سماج سے فحاشی کا خاتمہ اور زنا بالجبر سے نجات کی ضمات ہے ورنہ کولکاتہ جیسی سنگین واردات کا مجرم بھی پھانسی نہیں پائے گا اور یوسی سی منہ تکتا رہ جائے گا۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...