Skip to content
ٹرمپ کا معاشی بحران اور ہندوستان حیران و پریشانی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بجٹ کی آمد آمد ہے کیونکہ دو دن بعد اجلاس شروع ہونے جارہا ہے۔ ایسے میں بی جے پی کا سب سے وفادار متوسط نوکری پیشہ شہری رائے دہندگان اس سے کافی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ مدھیہ پردیش کی لاڈلی بہنا کے بعد بی جے پی نے اپنی روایت کے خلاف غریب ووٹرس کو ریوڈی بانٹنے کا عمل تیز کردیا اور اس سے مہاراشٹر میں بھی سیاسی فائدہ ہوا مگر اب اپنے اصل رائے دہندگان کو نظر انداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے کیونکہ دہلی میں اروند کیجریوال نے انہیں اپنی توجہات کا خاص مرکز بنایا ہے۔یہی وجہ ہے کہ امسال بجٹ میں تنخواہ دار ملازمین کو بڑے پیمانے پر انکم ٹیکس میں سہولت کی توقع ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن ٹیکس کےسلیبس میں ترمیم کرکے چھوٹ کی حد میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس سے قبل مالی سال 2019-20 کے عبوری بجٹ میں پیوش گوئل نے ریلیف فراہم کی تھی۔ حکومت کو امید ہے کہ اس سے ملازم پیشہ لوگوں کی قوت خرید کے بڑھنے سے بازار میں کھپت بڑھے اور وہ اس پر جی ایس ٹی لگا کر اپنا خسارہ پورا کرلے گی ۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس مالی سال کی دوسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2024 کی مدت) میں ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح چار سال کی کم ترین سطح پر آگئی ۔ موجودہ مالی سال سالانہ جی ڈی پی کی شرح نمو بھی چار سال کی نچلی سطح پر پہنچ ہو گی۔اسی لیے حکومت کو انکم ٹیکس کی شرح میں کرنی پڑے گی تاکہ متوسط طبقے کےپاس کچھ بچت ہو جس سے انفرادی و قومی خوشحالی آئے۔نرملا سیتا رمن نے اس جانب کوئی ٹھوس اشارہ تو نہیں دیا مگر کانگریس کے سینئررہنما اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے چونکانے والے انکشافات کیے ہیں ۔ ان کے مطابق ملک کی معیشت کی رفتار اس وقت سست پڑ گئی ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو دو فیصد سے کم ہوسکتی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل چدمبرم نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ” معیشت کی سستی ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود معاشی حالت گزشتہ سال کی شرح نمو سے دو فیصد تک گر سکتی ہے۔”
سابق وزیر خزانہ نے یہ تشویشناک خبر بھی سنائی کہ اس کے نتیجے میں نوجوانوں کے اندر بیروزگاری 40 فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔ گریجویٹس میں بے روزگاری تقریباً 30 فیصد ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو رہے ہیں نیز اجرت پچھلے پانچ برسوں سے جمود کا شکار ہے لیکن مہنگائی بھی بڑھ رہی ہے اور خوراک، پانی، تعلیم اور علاج کے اخراجات 10 فیصد اوپر چڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی 70 فیصد آبادی 100 سے 150 روپے یومیہ اجرت پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے اور عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مختلف تخمینوں میں مالی سال 2024-25 کے لیے اقتصادی ترقی کا تخمینہ 6 سے 6.5 فیصد کے درمیان ہے۔ مالی سال 2023-24 میں اقتصادی ترقی کی شرح 8.2 فیصد رہی لیکن رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2024) میں جی ڈی پی گر کر 5.4 فیصد رہ گئی تھی۔اب اگر آئندہ سال یہ دو فیصد گر جائے تو دنیا میں تیسرے نمبر کی چار ٹریلین معیشت بننے کا خواب کافور ہوجائے گا ۔
مرکزی حکومت کے وزراء ان اعدادو شمار کی بنیاد پر معیشت کے حجم پر فخر کررہے ہیں ۔ ابھی حال میں وزیر خارجہ جئے شنکر نے دعویٰ کیا کہ ’’اگر آپ ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو دیکھیں توآج ہم 800؍ بلین کی تجارت کے ساتھ۴؍ ٹریلین کی معیشت بن چکے ہیں …ــ‘‘ لیکن سابق وزیر خزانہ چدمبرم کے مطابق حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ہم ابھی۴؍ٹریلین ڈالر کی معیشت نہیں ہیں ۔ہم5؍ ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت کے ہدف کی طرف بڑھنے کیلئے ہچکولے کھا رہے ہیں ۔ ہندوستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 2021-22ء میں 84.84 ؍ بلین ڈالر سے کم ہوکر2023-24ءمیں 70.95؍ بلین ڈالر رہ گئیں یعنی ترقی کے بجائے تنزل دکھائی دے رہا ہے۔ تجارت کے محاذ پرجائزہ لیں تومعلوم ہوتا ہے کہ 2023-24ء کے آخر تک ہماری تجارتی مصنوعات کی برآمدات 437 ؍ بلین امریکی ڈالر اور درآمدات 677؍بلین امریکی ڈالر تھیں ۔ تجارتی خسارہ 240؍بلین امریکی ڈالر ہوگیا جو تشویشناک ہے۔
وزیر ریلوے اشوینی وشنو ملک معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، جامع ترقی اورسہولتوں کی تعریف کی ۔ تاہم مرکزی حکومت اور سرکاری اداروں کی طرف سے 2019-20میں کیپٹل اخراجات جی ڈی پی کے 4.7؍ فیصد تھے جو اب کم ہو کر2023-24میں 3.8؍ فیصد رہ گئے ہیں۔ 2014ء میں مینوفیکچرنگ کا بھی جی ڈی پی فیصد کے طورپرتعاون 15.07 فیصد تھا ۔ آگے چل کر 2019ء میں وہ کم ہوکر 13.46؍فیصد اور2023ء میں 12.84فیصد پرآ گیا۔یہی شعبہ عوام کو روزگار فراہم کرتا ہے ۔ اس میں کمی کا لازمی نتیجہ بیروزگاری میں اضافے کی شکل اختیار کرتا ہے اور وہی ہورہا ہے۔ ملک معیشت پانچ سے بڑھ کر دس ٹریلین ہوجائے اور بیروزگاری بڑھتی رہے تو غریبی اور امیری کا تفاوت بھی بڑھتا چلاجائے گا اور وہ ترقی قوم کے لیے مفید نہیں ہوگی ۔ اس لیے سکے ّ کا ایک پہلو دِ کھا کر دوسرے کو چھپا لینا خود فریبی ہے۔
ویسے یہ بھی ایک حقیقت ہے ہندوستان کی ترقی 9 سے گھٹ کر8اور 7 سے ہوتے ہوئے 6.7 فیصد پر آگئی ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ گراف اوپر جارہا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے اقتصادی ادارہ آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق ایک طرف مالی سال 2025 میں جہاں دنیا کی معیشت مستحکم رہ سکتی ہے، وہیں ہندوستان کی ترقی کے کمزور ہونے کی توقع ہے۔ دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہندوستانی معیشت کی رفتار میں کمی والا کرسٹالینا کا یہ بیان باعث تشویش ہے۔کرسٹالینا نے اپنی سالانہ میڈیا گول میز میٹنگ میں عالمی درجہ بندی اس طرح کی کہ امریکہ ان کی توقع سے کافی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یورپی یونین (ای یو) کچھ حد تک رکا ہوا ہے اور ہندوستان تھوڑا کمزور پڑرہا ہے۔ برکس کے دیگر ممالک مثلاً برازیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں لوگوں مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہےاس کے برعکس دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین میں مہنگائی کے کم ہونے سے دباؤ بڑھنے لگا ۔انہوں نے اس کی وجہ گھریلو طلب میں کمی کو بتایا۔ کم آمدنی والے ممالک کے بارے میں وہ بولیں کوئی بھی نیا معاشی جھٹکا ان پر تمام تر کوششوں کے باوجود انتہائی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
کرسٹالینا کے مطابق یہ غیر متوقع جھٹکے امریکی انتظامیہ کے پالیسی اقدامات، خاص طور پر ٹیرف، ٹیکس، ریگولیشن اور حکومت کی کارکردگی کے سبب لگیں گے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے چین، کینیڈا اور میکسیکو جیسے ممالک پر اضافی چارج عائد کرنے کے منصوبے کا اعلان کر ہی دیا ہے۔ وہ ٹیرف کو ایک اہم پالیسی آلۂ کار کے طور پر استعمال کرناچاہتے ہیں جس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز میں مزید اضافہ کرے گی۔ مودی سرکار یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ ہندوستان کی معاشی ترقی کے لیے صرف اور صرف وہ ذمہ دار ہے حالانکہ اس کی بنیاد 1991ء میں لبرلائزیشن کے ذریعہ کانگریس نے رکھی تھی ۔ موبائل انقلاب کی شروعات بھی 31؍ جولائی 1995ء کو ہوئی ۔ ’کووی شیلڈ‘ کا ڈھول بجانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کا قیام 1996ء میں ہوا جو کووڈ بحران کے وقت ایسٹرا زینکاکی ٹیکنا لوجی استعمال کرنےکے قابل بن کر ویکسین تیار کرنے والے دنیا کے بڑے اداروں میں شمار کیا گیا ۔
ملک کی معیشت کے اندرجو ڈیجیٹل انقلاب فی الحال چہار جانب دکھائی دیتا ہے اس میں جن دھن اکاؤنٹس، آدھار اور موبائل کا مخفف (جام) ہو یا ’زیرو بیلنس اکاؤنٹ‘ جیسی اسکیموں کا بہت بڑا کردار ہے ۔ ان سرکاری منصوبوں کی بنیاد رکھنے والے آربی آئی کے گورنرز ڈاکٹر ایس رنگراجن (1992ءتا1997ء) اور ڈاکٹر بمل جالان(1997ءتا2003ء)تھے۔ اس حقیقت کا کون انکار کرسکتا ہے کہ پہلا آدھار نمبر29؍ستمبر2010ء کو ہندوستان کی منفرد شناختی اتھاریٹی(یو آئی ڈی اے آئی)نے جاری کیا تھا۔ مودی سرکار نے معیشت کی عمارت تعمیر تو کی مگر بنیاد کی اہمیت کا انکار تنگ دلی اور احسان فراموشی ہے۔ اس سفر کے دوران 1997ء میں جب ایشیائی مالیاتی بحران آیا اور 2008ءکے اندربین الاقوامی مالیاتی بحران نے ہندوستان سمیت ساری دنیا کی معیشت کو جکڑ لیا تو ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ملک کو اس کے شکنجے سے چھڑایا۔ اب دیکھنا یہ ہے ٹرمپ کے زیر سایہ آنے والے حالیہ معاشی بحران سے مودی سرکار کیسے نمٹتی ہے؟اس سال بی جے پی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج دہلی اور بہار کا انتخاب جیتنا ہے ۔ مہنگائی اور بیروزگاری دو ایسے مسائل ہیں جن کی آنچ نہ صرف غریب بلکہ متوسط طبقہ بھی محسوس کرتا ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ مودی سرکار کس طرح نفرت کی آگ سے شکم کے شعلے بجھاتی ہے اور فرقہ پرستی کی مدد سے کتنی دیر تک عوام کو بیوقوف بناتی ہے کیونکہ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ؎
غربت کی تیز آگ پہ اکثر پکائی بھوک
خوش حالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...
زبردست تجزيه